24 August 2019 - 12:55
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 441126
فونت
آیت الله بطحائی نے «انقلاب اسلامی کے دوسرے قدم» کے بیانیہ کی نشست میں:
خبرگان رھبر کونسل کے نمائندہ نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ عصر حاضر میں ملک کی مشکلات کی بنیاد دشمن کی پابندیاں نہیں ہیں، ملک کے ذمہ دار طبقہ کو غیر ذمہ داری اور بے توجہی کی بہ نسبت متنبہ کیا ۔

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، «انقلاب اسلامی کے دوسرے قدم» کے بیانیہ کی تشریح میں علماء اور حوزات علمیہ کی ذمہ داریوں کے حوالے سے حوزہ علمیہ قم کے اساتذہ کی ہم فکری نشست کا آغاز ، کچھ دیر پہلے رسا نیوز ایجنسی کے مرکزی آفس کے ایڈوٹیریم، صدوقی روڈ ، بہشت روڈ شھر قم میں ہوگیا جس میں اساتذہ تقریر فرما رہے ہیں ۔

خبرگان رھبر کونسل کے نمائندہ آیت الله سید هاشم بطحائی نے اس نشست میں یہ بیان کرتے ہوئے کہ نشستوں کے نتائج میدان عمل میں محسوس ہونے چاہیں کہا: انقلاب اسلامی ایران ایک ایسا واقعہ ہے جس کی تاریخ بشریت میں انبیائے الھی نے آرزو کی تھی اور یہ آرزو حضرت آدم(ع) سے لیکر حضرت خاتم(ص) اور اوصیائے الھی(ع) کو تھی ۔

انہوں نے واضح طور سے کہا: افسوس تاریخ میں یہ واقعہ رونما نہ ہوسکا ، بہت محنتی انبیاء الھی تشریف لائے مگر سب کے سب لوگوں کے کفر اور گناہ سے یاس و ناامیدی کے شکار ہوگئے اور مرسل آعظم حضرت محمد مصطفی(ص) کے بعد بھی لوگ راہ حق سے منحرف ہوگئے یہاں تک بات ولی عصر حضرت امام زمانہ(عج) تک پہونچی کہ لوگوں کی نافرمانیوں کی وجہ سے غیبت کا مسئلہ پیش آیا۔

آیت الله بطحائی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ انسانی معاشرے نے انقلاب اسلامی کے بعد اپنی حیات کو قیامت کے راستہ پر گامزن کیا کہا: ثقافتی ، اقتصادی ، سیاسی اور فوجی میدانوں میں قیامت کے راستہ پر گامزن ہوئے کیوں کہ انسان کو اس دنیاوی حیات میں تربیت پانا تھا ۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ملک کا کچھ ذمہ دار طبقہ اپنے وظائف کی بہ نسبت ذمہ داری کا احساس نہیں کرتا کہا: پابندیاں تو ہمیشہ تھیں ، اس کا سرچشمہ شعب ابی طالب ہے ، دشمن کی خصوصیت اور فطرت دشمنی کرنا ہے ، رھبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی(رہ) پر فراوان درود و سلام جنہوں نے یہ فرمایا کہ امریکا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا ۔

حوزه علمیہ قم میں درس خارج کے استاد نے مزید کہا: جس دن سے ایران جغرافیا کے نقشہ میں آیا ہے اس میں ۲۲ حکومتوں کا قیام ہوا، مگر اج کا ایران تمام ادوار اور زمانے سے بہتر ہے ، ماضی میں ایرانیوں کے ہاتھ اسلحوں سے خالی تھے ، میڈیکل اور صفائی ستھرائی کی دنیا میں ایرانی زیرو تھے مگر اج فوجی میدان میں سپر پاور ممالک کا جن کا سرغنہ امریکا ہے ، سے برسرپیکار ہیں ۔/۹۸۸ / ن

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں