25 September 2019 - 11:13
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 441361
فونت
اہلسنت اور اہل تشیع اہل علم اس فلم کیخلاف میدان میں آچکے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس فلم کو بننے سے روکا جائے۔ اصل میں تو یہ حکومت کا ہی منصوبہ ہے، جس میں وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان مسلمان سے لڑے، انہوں نے اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی ۔

تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس بلوچ

اس وقت امت مسلمہ پر کڑا وقت ہے، فلسطین سے لیکر کشمیر تک مسلمان ظلم و جبر کی چکی میں پس رہے ہیں۔ اپنی نادانی اور دشمن کی عیاری کی وجہ سے ہر جگہ خون مسلم پانی کی طرح بہہ رہا ہے اور ظلم یہ ہے کہ دہشتگردی کا لیبل بھی اسلام اور مسلمانوں پر لگایا جا رہا ہے۔ ہندوستانی استعمار نے جب دیکھا کہ کشمیر پر قبضے میں یہاں آبادی کا تناسب مانع ہے، وادی میں واضح اکثریت مسلمانوں کی ہے، جو کسی صورت میں ہندوستانی قبضہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں تو انہوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ انتقال آبادی میں رکاوٹ بننے والے قانون کو ہی ختم کر دیا۔ پچاس دن ہوچکے ہیں، کشمیر جل رہا ہے، کشمیر پر نو لاکھ دہشتگرد بندوقیں تانے کھڑے ہیں۔ کیا بچے؟ کیا بزرگ؟ کیا مریض اور کیا بھوکے؟ سب کے سب محصور ہیں۔ ان لوگوں کو آفرین کہ انہوں نے ہندوستانی قبضے کو کسی صورت قبول نہیں کیا اور ڈٹ گئے ہیں۔

ایک اور فتنہ جس کی طرف کم توجہ دی گئی، وہ آسام میں دس لاکھ کے آس پاس مسلمانوں کو شہریت سے محروم کرنا ہے۔ اب میڈیا میں آرہا ہے کہ ان کے لیے الگ کیمپ بنائے جا رہے ہیں، جن میں انہیں محدود کیا جائے گا۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں دھائی دے رہی ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو بے وطن کرنا جن کی چوتھی نسل پیدا ہوچکی ہے ظلم ہے۔ ظلم و جبر ملاحظہ ہو کہ آسام میں جو غیر مسلم شہریت سے محروم ہوئے ہیں، انہیں ایک اور قانون کے ذریعے شہریت دی جائے گی، جس کے مطابق مسلمانوں کے علاوہ تمام پناہ گزینوں کے لوگ شہریت لے سکتے ہیں۔ یوں آسام کی مسلم آبادی کو بے وطن کرکے انہیں خودکشیوں پر مجبور کر دیا گیا ہے۔

اس تمام صورتحال میں ہندتوا اور آر ایس ایس اپنے منصوبے کو بڑی حکمت عملی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ آر ایس ایس اور سنگھ پریوار نے دوسرے ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر قتل عام کا منصوبہ بنایا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ انہیں نہ تو غیر ملکی کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی کشمیر کی طرح دہشتگرد کہہ کر مارا جا سکتا ہے، البتہ ڈرا ضرور دیا گیا ہے۔ منصوبہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو مسلمانوں سے قتل کروایا جائے، اس سے الزام حکومت یا ہندواتا پر نہیں آئے گا اور بڑی صفائی سے سارا ملبہ خود مسلمانوں پر آجائے گا۔ وسیم رضوی نام کا نیا سلمان رشدی تلاش کیا گیا، اس کی مکمل سرپرستی کی گئی اور اسے وقف کے سرکاری ادارے کا سربراہ بھی بنا دیا گیا۔ یہ شخص مسلمان وقف کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور وقف کی ہوئی زمیں اپنے حواریوں بانٹنے کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے اس کے خلاف باقاعدہ شیعہ علماء کے فتاویٰ موجود ہیں۔

اقتدار کے بھوکے اس شخص نے ہمیشہ مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے اور آر ایس ایس کو خوش کرنے کی کوشش کی، چند باتوں سے ہی پتہ چل جائے گا کہ یہ کس قسم کا شخص ہے۔ اس نے کہا کہ رام میرے خواب میں آئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ میں بے گھر ہوں، میرے لیے بابری مسجد کی جگہ گھر بنوا دو۔ اس شخص نے یہ جھوٹ اس وقت بولا، جب عدالت میں اس کیس کی سماعت ہونے والی تھی۔ پھر اس نے کہا کہ بابری مسجد، شیعہ مسجد تھی، لہذا میں یہ رام مندر بنانے کے لیے دیتا ہوں اور ساتھ ساتھ رام کی مورتی کے لیے بڑی مقدار میں سونا اور جواہرات بھی دان کروں گا۔ اہل علم جانتے ہیں کہ شیعہ مسلک میں مسجد کی زمین کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور اسی طرح صنم تراشی کی حوصلہ افزائی اور صنم بنوانا شرعاً حرام ہے۔

بابری مسجد ہندوستان میں مسلم شناخت کا مسئلہ ہے، یہ کسی فرقہ کا مسئلہ نہیں۔ وسیم رضوی نے الیکشن سے پہلے کہا کہ اگر مودی الیکشن نہ جیتا تو میں خودکشی کر لوں گا، جیسی بھی صورتحال درپیش ہو، کوئی مسلمان خودکشی کا سوچ بھی نہیں سکتا، یہ حرام موت ہے۔ شیعہ علماء نے اسے آر ایس ایس کا ایجنٹ اور مسلمانوں کا دشمن قرار دیا اور کہا کہ یہ مسلمانوں کے قاتلوں کا آلہ کار ہے۔ کچھ عرصہ پہلے اس شخص نے رام پر فلم بنائی، اس کا مقصد یہ تھا کہ اس سے ہندو مسلم دنگا ہوگا، مگر علماء اور ہندووں کے رہنماوں کی دانش سے ایسا نہ ہوسکا۔

اب اس سلمان رشدی ثانی وسیم رضوی نے ام المومنین حضرت عائشہ پر فلم بنانے کا اعلان کیا ہے، اس بدبخت کا مزاج دیکھتے ہوئے علماء میں شدید اضطراب پیدا ہوا۔ اہلسنت اور اہل تشیع اہل علم اس فلم کے خلاف میدان میں آچکے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس فلم کو بننے سے روکا جائے۔ اصل میں تو یہ حکومت کا ہی منصوبہ ہے، جس میں وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان مسلمان سے لڑے، انہوں نے اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی اور نہ ہی اس نے سرکاری عہدہ چھوڑا ہے۔ شیعہ علماء نے اس گمراہ شخص کے اس گستاخانہ عمل سے برات کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے پاس اتنی بڑی فلم بنانے کا سرمایہ کہاں سے آیا؟ یقیناً مسلم دشمن قوتیں اسے آلہ کار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں، اس کا کسی مسلک سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ ہندوتوا اور آر ایس ایس کا ایجنٹ ہے، جو مسلمانوں کو باہمی لڑانا چاہتا ہے۔

ام المومنین حضرت عائشہ کے بارے میں شیعہ عقیدہ بڑا واضح ہے حضرت عائشہ کو گالی گلوچ دینا یا ان کی شان میں کوئی بھی ایسی گستاخی کرنا درست نہیں ہے۔ جس طرح اس فلم کے بارے میں تفصیلات آرہی ہیں، ان کے مطابق یہ صرف ام المومنین حضرت عائشہ کی توہین نہیں ہے بلکہ اس سے رسول اکرمﷺ کی شان پر حرف آتا ہے۔ اس طرح یہ فلم دراصل رسول اکرمﷺ کی شخصیت کے خلاف ہے اور کوئی مسلمان ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا کہ جس نبی ﷺ پر وہ صبح شام درود بھیجتا ہے اور جس کے بغیر ایمان کا تصور نہیں، ان کے بارے میں ایسی گھٹیا فلم بنائی جائی۔ یہ دوسرا سلمان رشدی ہے، جس طرح رشدی کا کسی فرقہ سے کوئی تعلق نہیں تھا، وہ صرف اور صرف گستاخ تھا، اسی طرح اس کا بھی کوئی مسلک نہیں، یہ صرف اور صرف گستاخ ہے۔

انڈیا میں تو اس کے جو اثرات ہوں گے، سو ہوں گے، انڈیا کی یہ سازش ہے کہ اس کے ذریعے پاکستان کے اندر شیعہ سنی فسادات بھڑکائے جائیں۔ مودی اور را نے مل کر بڑی گہری سازش تیار کی ہے، اس سے ہندوستان کے اندر مسلمانوں کو کمزور کیا جائے گا اور پاکستان میں اس کے ذریعے بڑے پیمانے پر فسادات کروائے جائیں گے۔ چالاک دشمن نے اپنے ایجنٹ کے ذریعے عزتِ رسولﷺ پر حملہ کیا اور دوسری طرف اس کے ذریعے ہمارا خون ہمارے ہاتھوں سے بہانا چاہتا ہے۔ اہل تشیع کی مرکزی دینی درسگاہ جامعۃ الکوثر اسلام آباد میں اس فلم کے خلاف ایک مذمتی اجلاس ہوا، اس میں مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی نے اس فلم کو اسلام اور رسول اکرمﷺ کی شان میں گستاخی قرار دیا اور کہا کہ یہ وحدت امت کے خلاف سازش ہے، جسے ہم علماء کے ساتھ مل کر ناکام بنائیں گے۔

سینکڑوں کی تعداد میں شیعہ علماء اس اجلاس میں موجود تھے، انہوں نے متفقہ طور پر اس فلم اور اس کے بنانے والے سے برات کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ شیعہ متفقات کے خلاف اور توہین رسالت ہے۔ علماء نے اپنا کام کر دیا ہے، اب ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حالات پر نظر رکھیں اور کسی گروہ کو اس فلم کی بنیاد پر فرقہ پرستی پھیلانے کی اجازت نہ دیں۔ اگر پاکستان میں خدانخواستہ حالات خراب ہوتے ہیں تو اس سے وطن کے دشمنوں کی سازش کامیاب ہو جائے گی۔ ہمیں اپنی حکمت و دانش سے اس فتنے کا سدباب کرنا ہے۔/۹۸۸/ ن

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں