26 November 2019 - 00:31
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 441664
فونت
ھندوستان:
آج مجمع علماء و خطباء حیدرآباد دکن کی دو سالہ عبوری کمیٹی کی جانب سے اجلاس بلایا گیا ان دو سالوں میں اس عبوری کمیٹی نے تین اہم کام انجام دیے ایک زیادہ سے زیادہ اراکین کو اس مجمع میں شامل کیا گیا جس میں تمام اراکین کسی طے شدہ فیصلے پر قربان نہیں ہوئے۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حیدرآباد کی موجودہ تاریخ میں اہل علم اور علماء نے کئی کمیٹیاں بنائیں جن کے اہداف بلند اور نگاہ دور رس تھی اور ان کے آئین نامے کسی ملک کے دستو ر سے کم نہ تھے مگر ان کی حیثیت صرف کاغذ پر لکھے ہوئے بے جان حروف جیسی تھی اور کچھ کمیٹیاں ، مجمعے اور ادارے ایسے بنے جن کا صرف صدر مشخص تھا مگر نہ ہی آئین تھا اور نہ اراکین مشخص تھے نہ ان کا کام ظاہر تھا بس جس کی لاٹھی اسکی بھینس والا معاملہ تھا آج کافی عرصے کے بعد ایک ایسا اقدام ہوا جس کا برسوں سے انتظار تھا جسے کہا جاسکتا ہے کہ دیر آید درست آید ۔

آج مجمع علماء و خطباء حیدرآباد دکن کی دو سالہ عبوری کمیٹی کی جانب سے اجلاس بلایا گیا ان دو سالوں میں اس عبوری کمیٹی نے تین اہم کام انجام دیے ایک زیادہ سے زیادہ اراکین کو اس مجمع میں شامل کیا گیا جس میں تمام اراکین کسی طے شدہ فیصلے پر قربان نہیں ہوئے بلکہ اپنی خوشی سے اس مجمع میں شامل ہوئے دوسرا اہم کام کمیٹی کو قانونی طور پر رجسٹرڈ کروایا گیا تیسرے یہ کہ اس کمیٹی کا آئین نامہ سب کی رضامندی سے طے پایا اب جب‌کہ کمیٹی‌ قانونی ہوگئی اور اراکین کی قابل قدر تعداد شامل ہوگئی اور ان کیلئے آئین نامہ بھی تیار ہوگیا تو اب ضرورت اس بات کی تھی‌کہ مجمع علماء و خطباء کی جدید کمیٹی کے لئے عہدہ داروں کا انتخاب کرلیا جائے ۔

پانچ عہدوں پر تقرر کیلئے امیدواروں کےدرمیان الیکشن ہونا تھا ۱۔صدر ۲۔نائب صدر۔ ۳۔سکریٹری۔ ۴۔جوائنٹ سکریٹری ۵۔خزانچی

صدر کیلئے بانی مجمع مولانا علی حیدر فرشتہ اور مولانا محب عابد امیدوار تھے نائب صدر کیلئے مولانا میر باقر اور مولانا حسین علی رضوی آگے آئے سکریٹری کے طور پر مولانا شجیع مختار نے اپنا نام پیش کیا اور جوائنٹ سکریٹری کیلئے مولانا سید افتخار علی رضوی نے اپنا نام دیا اور خازن کے عہدہ کیلئے مولانا علی عباس صاحب اور مولانا حسین بیگ صاحب نے اپنے نامزد کرواے

۳۲ سے ۳۵ علماء کے اس مجمع میں سب نے کاغذ پر اپنی رائے لکھی اور صدر کیلئے مولانا علی حیدر فرشتہ صاحب قبلہ کو چن لیا گیا نائب صدر کی حیثیت سے مولانا میر باقر(زینبی) کا انتخاب ہوا اور سکریٹری کیلئے مولانا شجیع مختار ہی کا نام آگے آیا کیوں کہ ان کا کوئی فریق نہیں تھا اور جوائنٹ سکریٹری کیلئے مولانا افتخار علی رضوی صاحب ان کا بھی فریق نہیں تھا۔ اور خازن کی حیثیت سے مولانا حسین علی بیگ صاحب نے بھاری ووٹ حاصل کیے

انتخابات کے بعد مشاورتی کمیٹی تشکیل پائی جس میں مولانا علی حیدر فرشتہ ، مولانا ظفریاب حیدر صاحب،مولانا سید علی آغا باقری صاحب ،مولانا خورشید حسن صاحب اور مولانا ابو القاسم صاحب شامل ہیں۔

ساتھ ہی یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ مولانا جلال حیدر صاحب قبلہ و مولانا شان حیدر صاحب نے آج مجمع میں رسمی طور پر شمولیت اختیار کی اور مجمع کےرکن‌ بنے۔

بہت ہی خوشگوار ماحول میں باہمی احترام کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے سب نے اپنی رائے دی اور قانونی طریقے سے جمہوری اصول پر انتخاب عمل میں آے۔

سب ایک دوسرے کو اس کامیابی پر مبارکباد دیتے رہے بزرگوں نے منتخب عہدہ داروں کو دعاوں سے نوازا اور اس طرح یہ اجلاس اپنے اختتام کو پہنچا۔/۹۸۸/ن

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں