26 November 2019 - 00:40
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 441665
فونت
اے بیت اللہ الحرام سے منسوب خانۂ خدا ’’بابری مسجد‘‘ (1528۔2019)تو اس لا مکان وحدہ لا شریک معبود سے منسوب مکان ہے جس نے اپنے بندوں کو کیا کیا نہ دیا۔ دولتِ حیات، دیکھنے سننے بولنے سونگھنے کھانے پینے چلنے پھرنے جیسی انمول دولتوں سے مالا مال کیا۔

انا للہ و انا الیہ راجعون ( سورہ بقرہ آیت ۱۵۶)

تحریر: سید محمد جابر باقری جوراسی : (مدیر ماهنامه اصلاح لکهنو )

اے بیت اللہ الحرام سے منسوب خانۂ خدا معروف بہ ’’بابری مسجد‘‘ (1528۔2019)تو اس لا مکان وحدہ لا شریک معبود سے منسوب مکان ہے جس نے اپنے بندوں کو کیا کیا نہ دیا۔ دولتِ حیات، دیکھنے سننے بولنے سونگھنے کھانے پینے چلنے پھرنے جیسی انمول دولتوں سے مالا مال کیا۔ بالخصوص ہم توحید کے پرستاروں کو ان کے ایمان و عمل کے وزن کے مطابق تمغۂ نجات آخرت سے سر فراز فرمایا۔ کل جب کلمہ گویوں اور مخلصین کی تعداد کم تھی تو اپنے معبود کی عبادت کے لئے عبادت خانوں کی اچھی خاصی تعداد تعمیر ہوئی لیکن آج جب ان کی تعداد کہیں زیادہ بڑھ گئی تو مخلصین کے مقابلہ میں خائنین کی تعداد بھی بہت بڑھ گئی تب انہیں عبادت خانوں کی تخریب کی مہم سر اٹھانے لگی۔ کسی وقتی مصلحت کی وجہ سے کوئی مسجد تیار بھی ہوگئی تو نمازیوں کی قلیل تعداد اس کی ویرانی کو دور نہ کرسکی ۔ میں نے رات بھر میں تیار ہوجانے والی لاہور کی اس مسجد کو بھی دیکھا ہے کہ جس کے تناظر میں علامہ اقبالؔ نے کہا تھا :
مسجد تو بنالی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے دل ان کا پرانا پاپی تھا برسوں میں نمازی بن نہ سکا
یہ شعر مقام تاسف میں تھا لیکن مقام فخر میں ’’شکوہ‘‘ میں ان کا یہ بند بھی ہے:

آگیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز قبلہ رو ہوکے زمیں بوس ہوئی قوم حجاز
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بنده نواز

بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں آئے تو سبھی ایک ہوئے

آج امت واحدہ کا سب سے بڑا المیہ اس کا اختلاف و انتشار ہے۔ جو اس کی کامیابیوں کے امکانات کو ناکامی میں بدل دیتا ہے۔ کل ۱۵۲۸ء؁ میں جب تیری مقدس تعمیر ہوئی تھی تو سنی شیعہ اتحاد کے حسین پس منظر میں۔ پہلے مغل حکمراں ظہیر الدین بابر کے حکم سے تعمیر ہوئی جو سنی تھے اور تعمیر کا ذریعہ بنے بابر کے گورنر میر باقی جو شیعہ تھے۔ بابر نے کسی ہندو معبد کو منہدم کراکے مسجد تعمیر کرائی ہو اس پر یقین اس لئے نہیں آتا کہ بقول مورخ پروفیسر رام پنیانی ’اس نے اپنے بیٹے ہمایوں کو وصیت کی تھی کہ ہندو اس ملک کی مخصوص آبادی ہیں لہٰذا ان کے احساسات کا احترام کرنا‘ (انٹرویو) ۔ میر باقی ایسا اس لئے نہیں کر سکتے تھے کہ وہ شیعہ تھے اور شیعہ مسلک کے شدت سے پابند تھے۔ اس مسلک میں دشمن پر اقدامی حملہ یا کسی دوسرےمذہب والےکے کسی معبد کو منہدم کر کے اپنی عبادت گاہ تعمیر کرلینے کا جواز نہیں رہا ہے۔ البتہ ناجائز قبضوں کو مناسب وقت پر ہٹانے کے شواہد موجود ہیں فتح مکہ کے موقع پر خانہ ٔکعبہ کے اندر بت شکنی کی تاریخ غیر اختلافی ہے یہ حق امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کو حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی تائید و تعاونِ خاص کے ساتھ حاصل تھا اور ان کی آخری اولادِ معصوم بھی اس خصوصیت سے محروم نہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ ان کا ظہور پر نوربھی پشت خانہ کعبہ سے مرقوم ہے۔ جہاں سے وہ قبلۂ اول بیت المقدس تشریف لے جائیں گے اور اسے صیہونیوں کے جابرانہ تسلط سے نجات دلائیں گے گویا اقدام نہیں بلکہ دفاع کے اسلامی نظریہ کو تقویت دیں گے۔ لہٰذا کوئی دوازدہ امامی کسی دوسرے فرقہ کے معبد پر ناجائز قبضہ کرکے وہاں اپنی عبادت گاہ بنانے کا وسیلہ نہیں بن سکتا۔

محکمۂ آثار قدیمہ کو مسجد کے نیچے جو آثار ملے ہیں وہ مندر جیسے ہوں یا اسلامی نہ ہوں یہ اس بات کا قطعی ثبوت نہیں بن سکتا کہ مسجد زبردستی یا کسی غصبی جگہ پر بنائی گئی تھی بودھ مذہب والوں کا دعویٰ ہے کہ وہاں بودھ مندر تھا۔ ایودھیا میں بودھ تہذیب و ثقافت پر ہندو تہذیب و ثقافت کے غلبہ کے بعد ممکن ہے کہ بودھوں کی وہ مذہبی عمارت ویران ہوئی ہو چونکہ ظہیر الدین بابر کی حکومت ہندوستان پر قائم ہوچکی تھی لہٰذا جب مسجد بنانے کا ارادہ ہوا ہوگا تو مناسب زمین کی تلاش بھی ممکن ہے لہٰذا مالکان کے ذریعہ اس جگہ کو ہبہ بھی کیاجا سکتا تھا اور خریدا بھی جاسکتا تھا دونوں باتیں ہوسکتی تھیں۔ میں جب لندن گیا تو مجھے معلوم ہوا کہ مذہب سے بڑھتی ہوئی دوری کے سبب انگلینڈ میں بہت سے عیسائیوں کے چرچ ویران پڑے تھے جنہیں مسلمانوں نے خرید لیا تھا اور اس طرح انگلینڈ میں متعدد سنی شیعہ مسالک کی مسجدیں موجود ہیں جنہیں غیر قانونی نہیں قانونی طریقہ سے خرید کر تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کی مثالیں سوئڈن اور امریکہ میں بھی موجود ہیں۔ ممکن ہے دیگر ممالک میں بھی مثالیں مل جائیں۔

ایودھیا میں بابری مسجد ۱۵۲۸ء؁ میں بنی اور تقریباً تین سو سال تک یعنی ۱۸۱۳ء؁ تک اس مسئلہ پر ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کوئی تنازعہ نہیں ملتا البتہ جب ایسٹ انڈیا کمپنی انگلینڈ کی ایک بڑی تجارتی کمپنی تھی جو خلیج بنگال کے بحری سفر کے ذریعہ بنگال میں داخل ہوئی تھی تو وہ اپنے ساتھ ڈھائی لاکھ اضافی فوج بھی رکھتی تھی۔ ہندوستانی مصنوعات ان گلینڈ کے مصنوعات ( کپڑوں وغیرہ) سے کہیں بہتر ثابت ہوتے تھے عوام ان کی جانب متوجہ نہیں ہورہے تھے مذکورہ فوج بہ جبر انہیں انگلینڈ کا مال خریدنے پر مجبور کرتی تھی۔ یہ فوج صرف بہانہ تھی مقصد کچھ اور ہی تھا ۔ ۱۷۵۷ء؁ میں اس فوج کابنگال کے حکمراں نواب سراج الدولہ سے ٹکراؤ ہوا پلاسی کے میدان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج نے سراج الدولہ کی حکومت ختم کرکے اپنی حکومت قائم کرلی اور پھر ملک میں اپنے پیر پھیلانے لگی اس وقت ملک پر مغلوں کی حکومت تھی اور ملک میں ہندو مسلم اتحاد کی فضا قائم تھی جس کے ہوتے ہوئے نہ تو انگریزوں کی تجارت کامیاب ہوسکتی تھی نہ حکومت ۔انہیں انگریزوں نے اٹھارہویں صدی عیسوی کی پہلی دہائی (غالباً اٹھارہ سو دس عیسوی) میں یہ شوشہ چھوڑا کہ مندر توڑ کر بابری مسجد بنائی گئی تھی اور پھر دونوں قوموں میں تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا جس کا آغاز ۱۸۱۳ء؁ سے ہوا۔ صرف امت مسلمہ ہی نہیں پورے ملک کو سپریم کورٹ کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ پانچ رکنی بینچ نے متفقہ طور سے یہ واضح کردیا کہ مسجد کسی مندر کو توڑ کر نہیں بنائی گئی تھی۔

ہمیشہ صالح افکار کے حامل افراد نے اپنی حکومتوں کی بنیاد قوموں کے اتحاد کو قرار دیا لیکن غیر صالح افکار والوں نے قوموں کے اختلافات کو ہوا دے کر اپنی حکومتیں قائم کیں اور چلائیں۔چونکہ انگریزوں کے ہندوستان پر قبضہ کرنے میں جو طاقتیں حائل تھیں ان میں مغلوں کا نمبر سب سے پہلے تھا ۔ اس لئے کہ انہیں کی حکومت چل رہی تھی۔ اگر چہ اس وقت کا مغل حکمراں سلیم اپنی عیاشیوں کی وجہ سے کمزور تو ہوچکا تھا لیکن کوئی ہندو مسلم تنازعہ نہیں ہوا تھا تاکہ یہ مزید کمزور ہوجائے اور اس پر غلبہ پانا آسان ہوجائے اس لئے ایودھیا میں مسجد و مندر کا مسئلہ چھیڑا گیاجو وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا۔

انگریزوں نے ایودھیا معاملہ میں جو چنگاریاں چھوڑی تھیں جب وہ بھڑکیں تو ہزاروں کی جانیں لے لیں۔ یہ دعویٰ کرتے رہنا غلط ہے کہ صرف اکثریتی فرقہ نےرام مندر کے لئے جانیں دیں لہٰذا اس جگہ مندر بنانے کا استحقاق اُسے حاصل تھا کسی دوسرے کو اس جگہ اپنی عبادت گاہ باقی رکھنے کا حق نہیں تھا۔نہیں اگر صرف ماضی قریب میں دیکھ لیجئے ۹۳۔۱۹۹۲ کے ممبئی فسادات ہوں یا ۲۰۰۲ کے گجرات فسادات سب کا سلسلہ ایودھیا معاملے سے جڑا ہوا ہے جن فسادات میں کثرت سے مسلمانوں کی جانیں گئیں۔اور بمبئی کے فسادات پر انتظامیہ کے قابو نہ پانےکی وجہ سے داؤد ابراہیم پیدا ہوا جس نے بم دھماکے کئے جو آج بھی حکومت کی گرفت سے باہر ہے ۔اکثریتی فرقہ کی جو جانیں گئیں وہ ایودھیا تحریک کو پر تشدد اور جارحانہ بنا دینے کی وجہ سے ۔لیکن جن مسلمانوں کی جانیں گئیں وہ صرف اس لئے کہ وہ مسلمان تھے۔
اے مظلوم خانۂ خدا ۱۵۲۸سےلیکر آج نومبر ۲۰۱۹ تک جب ایودھیا پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے تیرے اوپر یا تیری تعمیر کرنے والوں پر اور گنبدوں کے سائے میں نماز پڑھنے والوں پر کوئی جرم ثابت نہیں ہوسکا ہے۔ پھر بھی تیرے ساتھ زیادتیاں ہوئیں ع : قصور ڈھونڈھ کے پیدا کئے جفا کے لئے۔ کہ تجھے چوری اور ڈاکہ دونوں کا نشانہ بنایا گیا ۔چوری چھپے تیرے مقدس منبر پر مورتیاں رکھی گئیں ،اور بعد میں ڈاکہ ڈال کر مسجد منہدم کردی گئی۔ یہ دونوں عمل ملک کی سب سے اعلیٰ عدالت سپریم کورٹ کی نظر میں بھی جرم ہی ثابت ہوئے ہیں۔ ۱۹۴۹ء؁ میں ایک طرف تو ملک کا قانون بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کی سربراہی میں تشکیل پا رہا تھا اور دوسری طرف اس کے نافذ ہونے سے پہلے ہی اس کی دھجیاں اڑائی جارہی تھیں۔ ضلع انتظامیہ کو اس کا تو اقرار تھا کہ یہ کام غلط ہوا ہے لیکن اس نے اس ناجائز قبضے کو ہٹانے سے ہاتھ اٹھا لیا۔

اس کے بعد متعدد موڑ آئے اور آزاد ہندوستان میں جب جمہوریت قائم ہوگئی تو سیاسی پارٹیوں نے اس مسئلے کو مذہبی حدود سے نکال کر سیاسی حدود میں داخل کرکے پر تشدد بنا دیا۔۳۱؍اکتوبر ۱۹۸۴ء؁ میں اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کا سفاکانہ قتل ہوا ۔ ہمدردی کی لہر نے ان کے بڑے بیٹے راجیو گاندھی کو وزیر اعظم بنوا دیا۔ ان کی حکومت کے سامنے جو سب سے بڑا چیلنج بن کر آیا وہ شاہ بانو اورمحمد احمد خان کے طلاق کا قضیہ تھا۔ راقم السطور نے اس دور میں ان دونوں سے ملاقات کی تھی اور حقیقی صورت حال جاننے کی کوشش کی تھی۔ بات صرف اتنی تھی کہ سپریم کورٹ نے شاہ بانو کو مستقل نان و نفقہ دینے کا حکم جاری کردیا تھا جو مسلم پرسنل لاء سے متصادم تھا۔ اس لئے کہ مسلم لاء میں ایک پونجی دے کر مطلّقہ کو رخصت کردینےکا حکم ہے مسلسل نان و نفقہ دینےکا حکم نہیں ہے۔ اسی مسئلے کے ضمن میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کا وجود ہوا اور مسلمانوں کی جانب سے قانون بنانے کا پر زور مطالبہ کیا گیا ۔ راجیو گاندھی نے اپنی اکثریتی حکومت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قانون بنا کر سپریم کورٹ کے فیصلے کو رد کردیا۔ اس پر سیاسی داؤں پیچ کرتے ہوئے اکثریتی سلسلہ کے سیاسی دماغ افراد نے واویلا مچائی جبکہ اس مسئلے کا ان سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ اسی روش پر چلنے والے افراد آج سبری مالا مندر میں عورتوں کے داخلے کی سپریم کورٹ نے جو اجازت دی تھی اس پر سپریم کورٹ کے خلاف مظاہرین کے بالاعلان ساتھ رہے۔ بہرحال چونکہ تنازعہ کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لئے انتظامیہ نے مسجد میں تالا ڈلوا دیا تھا لہٰذا یہ تالا کھولا تو گیا سیشن عدالت کے حکم پر ۔ لیکن عام تاثر یہی ہے کہ یکم فروری۱۹۸۶ کو جب تالاکھلا وہ شاہ بانو اورمحمد احمد خان کیس میں حکومت نے جو قدم اٹھایا تھا اس کے اثرات کو کم کرنے کے لئے اور اکثریت کو خوش کرنے کےلئے یہ قدم تسلیم کیا گیا ۔ تالا کھولا تو پوجا پاٹھ ہونے لگی اور پھر عمارت کو منہدم کرکے مندر کی تعمیرکا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔اور ۹؍ نومبر ۱۹۸۹ء؁ کو وشو ہندو پریشد نےحکومت کی ایماء پر مندر کا سنگ بنیاد رکھوا دیا ۔

لیکن موجودہ حکومت سے وابستہ اس وقت کے بڑے رہنماؤں نے جذبات کو بھڑکانے ہی میں اپنی سیاسی مصلحت سمجھی۔ بھارتیہ جنتا پارتی کےسر کردہ رہنما لال کرشن اڈوانی کی قیادت میں رتھ یاترا کا آغاز سومناتھ مندرسے 25 ستمبر 1990 کو اور اختتام ایودھیا میں 30 اکتوبر1990 کو ہوا۔ اس رتھ یاترا کے منتظم اس وقت کے پارٹی کے جنرل سکریٹری اور موجودہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی تھے۔ جب یہ یاترا بہار پہنچی تو اس وقت کے وہاں کے وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو نے اس رتھ یاترا کو رکوا کر لال کرشن اڈوانی کو اس اعلان کے ساتھ گرفتار کرلیا تھا کہ یاترا کے نتیجے میں خون خرابہ ہوگا اور جب مندر میں پوجا کرنےو الے ہی نہ رہ جائیں تو مندر بنوانے سے کیا فائدہ یا جب مسجد کے اندر نماز پڑھنے والے ہی نہ رہ جائیں تو مسجد کا کیا فائدہ ۔ اس گرفتاری سے اشتعال اور بڑھا نتیجے میں بھڑکائے ہوئے کارسیوکوں کا سیلاب اجودھیا کی طرف اس نیت سے بڑھنے لگا کہ مسجد کو ڈھا کر وہاں مندر بنانا ہے۔ نومبر ۱۹۹۰ میں جب کار سیوکوں کا مسجد پر حملہ ہوا تو قانون کی پاسداری کرتے ہوئے اس وقت کی ملائم سنگھ کی صوبائی حکومت نے ہجوم کو روکا ، گولیاں چلنےکی بھی نوبت آگئی ۔ ۵ کارسیوکوں کی جانیں چلی گئیں اور اس طرح یہ معاملہ اکثریت کے شدید مذہبی جذبات ابھرنے سے جڑتا چلا گیا۔سپریم کورٹ کا فیصلہ آنےکے بعد لال کرشن اڈوانی کا ایک ٹویٹ سامنے آیا تھا کہ آج میں بہت خوش ہوں۔ ایک ٹی وی چینل نے ان کا ایک قول بھی نقل کیا تھا کہ مذکورہ رتھ یاترا نے ہمارے سیاسی کیریئر کو مضبوط کیا ہے۔

یہ اور بات ہے کہ وہ وزارت عظمیٰ کی کرسی پر پہنچنے سے پہلے پہلے بے دست و پا ہوگئے۔ ع: نہ خداہی ملا نہ وصال صنم
اس پارٹی کے تقریباً ہر انتخابی منشور میں اجودھیا میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا ذکر ہے جب یہ پارٹی قطعی اکثریت میں آگئی اس نے یہ کہہ کر اپنا دامن بچا لیا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور کورٹ کا فیصلہ آنے تک انتظار کیا جائے کاش یہ رویہ بالکل ابتدا ہی میں اختیار کرلیا گیا ہوتا اور مسئلے کو قانون کے حوالے کر دینے پر اکتفا کرلی جاتی تو ماضی میں جو خون خرابہ ہوا نہ ہوتا۔۔ جب سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ایک ٹی وی چینل نے یہ تک کہہ دیا کہ وزیر اعظم نے اپنا ہر وعدہ پورا کردیا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ فیصلہ کورٹ کا ہے نہ کہ وزیر اعظم کا کارنامہ۔ بہرحال اشتعال اتنا بڑھ چکا تھا کہ ۶؍ دسمبر ۱۹۹۲ء؁ میں اجودھیا میں ایک بہت بڑا مجمع جمع ہوگیا جس کے درمیان بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرکردہ رہنما موجود تھے۔ ایک طرف مجمع کا اشتعال اور دوسری طرف پارٹی کے سرکردہ سیاسی رہنماؤں کا وہاں پر وجود اور ان کی پر جوش تقریریں کارسیوکوں کے جذبات کو اتنا بھڑکانے کا سبب بن گئیں کہ وہ کدالیں لے کر مسجد پر چڑھ گئے کدالیں چلنے لگیں۔ اور ایک مظلوم عمارت پارہ پارہ ہوتی رہی ۔

یوپی میں اس وقت کلیان سنگھ کی حکومت تھی اورقانون کی پاسداری نہ کرپانے کے سبب ان کی حکومت کو مرکزی حکومت نے برخاست کردیا۔ اس وقت کے نائب صدر ڈاکٹر شنکر دیال شرما نے کارسیوکوں کے اس عمل کو غنڈہ گردی قرار دیا۔ اور اس وقت کے کانگریسی وزیر اعظم نرسمہاراؤ نے ساڑھے ۹ بجے رات کی اپنی ریڈیائی تقریر میں اسی جگہ دوبارہ مسجد بنوانے کا اعلان کیا یہ وعدہ کبھی پورا نہ ہوسکا۔ سپریم کورٹ نے بھی ۹ نومبر ۲۰۱۹ء؁ کے اپنے فیصلہ میں مسجد کے گرانے کے عمل کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ البتہ اس کے مجرمین کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہئے اس کی جانب کوئی اشارہ نہیں کیا۔ اجودھیا کی ہلچل نے پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کی ہیئتیں بدل کر رکھ دیں ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھ میں اقتدار مضبوطی سے آگیا ۔ یہ مسئلہ پہلے تو ہائی کورٹ پہنچا جہاں اکتوبر 2010 میں اس متنازعہ زمین کو مسلم اور ہندو فریقوں کے درمیان تین حصوں میں تقسیم کردیاگیاجسے سپریم کورٹ نے غلط قرار دیا۔ جب یہ معاملہ قطعی حل کے لئے سپریم کورٹ پہنچا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے تک کئی کوششیں ہوئیں کہ باہمی بات چیت سے یہ مسئلہ حل ہوجائے جو اکثریتی فریق کے اس سخت رویہ کی وجہ سے کہ مندر وہیں بنائیں گے باہمی بات چیت سے مسئلہ حل نہ ہوسکا۔ یہاں تک کہ آخری کمیٹی جو بنی اس کے ایک نمایاں رکن روی روی شنکر تک نے بھی اسی پر زور دیا کہ مسلمانوں کو ہندوؤں کے حق میں اس متنازعہ زمین سے دست بردار ہوجانا چاہئے۔ گویا باہمی بات چیت کا محور یہ نہ تھا کہ کچھ لو کچھ دو کے نظریہ سے بات ہو، بلکہ اس کا محور یہ تھا کہ پہلے اس جگہ کی دعویداری سے دست بردار ہو پھر آگے کی کوئی بات کرو، اسے کبھی بھی معقول رویہ تسلیم نہیں کیاجاسکتا۔

افسوس کہ ۶؍دسمبر ۱۹۹۲ء؁ کی دوپہر۲ بجے مسجد کا پہلا گنبد زمیں بوس ہوا۔ ۳؍ بجے دوسرا گنبد گرا، اور ساڑھے ۴ بجے تیسرا گنبد بھی گرادیا گیا۔یہ ظلم کا منظر سورج بھی نہیں دیکھ سکا اور اس نے اپنا منہ مغرب میں چھپالیا۔ تاریکیاں پھیل گئیں اور ہندوستان کی ہندو مسلم بھائی چارے کی روایت بھی ان تاریکیوں میں گم ہوتی ہوئی نظر آئی۔

اس وقت میں نےرنج و صدمہ سے بھرا ہوا اپنا ایک اداریہ اس موضوع پر لکھا جو جنوری ۱۹۹۳ء؁ میں شائع ہوا۔ عنوان تھا ’’ خونی رتھ جس نے بابری مسجد کا بھی خون کردیا‘‘۔

ہم تہذیبِ غم کے امین ہیں ہمیں ہر اس موقع کے اوپر شدید صدمہ ہوتا ہے جب مسلّمہ مقدسات کی توہین کی جائے چاہے وہ مقدس عمارتیں ہی کیوں نہ ہوں۸؍ شوال المکرم۱۳۴۴ھ ۔( ۱۹۲۴ء؁) میں جب مدینہ منورہ جنت البقیع اور جنت المعلی مکہ مکرمہ کے مقدس مزارات کو آل سعود کے ذریعہ ڈھا دیا گیا اس کا درد آج بھی ہمارے سینوں میں موجود ہے۔ ۱۹۴۸ء؁ میں جب برطانیہ کی مدد سے سرزمین فلسطین پر اسرائیل نے قبضہ کیا اور طاقتور بننے کے بعد جب بیت المقدس اور دیگر مقدس عمارتوں کی توہین ہونے لگی اس سلسلے میں آیت اللہ العظمیٰ خمینی علیہ الرحمۃ والرضوان کی اپیل پر ہر ماہ صیام کے جمعۃ الوداع کو یوم القدس قرار دیتے ہوئے ہم اپنا زبردست احتجاج درج کراتے ہیں ۔داعش کے دہشت گردوں نے جب شام میں مقدس مقبروں کو نشانہ بنایا اور عراق میں اسی بد نیتی سے آگے بڑھنے لگے تو آیت اللہ العظمیٰ سیستانی کے فتوۂ جہاد کفائی اور ہماری پُر سوز دعاؤں نے انہیں روکا۔

اپنے ملک میں بھی جب ۲۲؍۲۳؍دسمبر ۱۹۴۹ء؁کی درمیانی شب میں مرحوم بابری مسجد کے اندر چوری چھپے مورتیاں رکھی گئیں تو مکتب اہل بیتؑ کے ایک مرد مجاہد عالم دین افتخار العلماء مولانا سعادت حسین صاحب قبلہ اعلی اللہ مقامہ جو اس وقت وثیقہ عربی کالج فیض آباد کے پرنسپل تھے وہ اس ارادے سے اٹھے کہ کچھ لوگ تیار ہوجائیں تو ہم انتظامیہ اور حکومت کا منہ دیکھنے کے بجائے اپنے ہاتھوں سے مسجد میں ناجائز قبضے کو ہٹا دیں گے۔ لیکن کسی کے ساتھ دینے کےلئے آمادہ نہ ہونے کی صورت میں یہ ارادہ عملی جامہ نہ پہن سکا۔۶؍دسمبر ۱۹۹۲ء؁ میں جب مسجد ڈھائی گئی ہے تو اس وقت بھی با ایمان و با ضمیر افراد شدید مضطرب تھے۔ اس سلسلے کا قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ مسجد میں مورتیوں کے رکھنے سے لیکر آج سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے تک بہت سے مذہبی اور دانشور ہندو حضرات نے مسلمانوں کے موقف کا ساتھ دیا۔ یہی ہمارے ملک ہندوستان کا قابل فخر پہلو ہے۔

جب یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا وہاں بھی یہ کئی سال سے لٹکا ہوا تھا لیکن ۱۷؍ نومبر ۲۰۱۹ء؁ کو ریٹائرہوجانے والے چیف جسٹس رنجن گگوئی کا یہ کارنامہ تاریخ میں یاد کیا جائے گا کہ انہوں نے اپنے دور کے اندر اندر اس مسئلے کے قطعی حل کردینے کا اعلان کردیا۔ ۶؍ اگست سے ۱۶؍ اکتوبر ۲۰۱۹ء؁ تک مسلسل چالیس دن پانچ رکنی بنچ کے سامنے سنوائی ہوئی ، فیصلہ محفوظ ہوا۔ اور ۲۳؍ دن کے قلیل وقفے کے بعد یہ تصفیہ بنام فیصلہ ۹؍ نومبر ۲۰۱۹ء؁ کو سنا دیا گیا۔ اس سلسلے میں مسلم فریقوں کی جانب سے وکلا ء بالخصوص غیر مسلم وکیل راجیو دھون نے بہترین انداز سے بحث کی اور اپنےموقف کو مضبوطی سے رکھا۔ مسلمان کو پوری توقع تھی کہ اب فیصلہ ان کے حق میں آئے گا لہٰذا نہوں نے بالاتفاق یہ اعلان کرنا شروع کردیا تھا کہ کورٹ کا فیصلہ جو بھی آئے گا وہ ہم تسلیم کریں گے۔ اگرچہ ہر ہندوستانی کو سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم ہی کرنا چاہئے اس لئے کہ وہ ملک کا شہری ہے اور یہ ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے۔البتہ خود عدالت کی اجازت کے مطابق اگر فیصلے پر کسی فریق کو بے اطمینانی ہے تو وہ نظر ثانی کی درخواست دے سکتا ہے۔ اس درخواست پر بھی جب سپریم کورٹ کا فیصلہ آئے وہ سپریم کورٹ ہی کا فیصلہ مانا جائے گا۔ درخواست نہ دینےکی صورت میں عدم اطمینان اخباروں کا موضوع تو بن سکتا ہے بیانات کی سرخی بن سکتا ہے پھر یہ سب چیزیں آہستہ آہستہ اندھیرے میں چلی جاتی ہیں۔ لیکن نظر ثانی کی درخواست ایک قانونی حیثیت رکھنے والی چیز ہے جو آئندہ کے لئے ریکارڈ کا حصہ بنے گی۔ لہٰذا درخواست نہ دینے کے مقابلے میں درخواست دینا ایک مستحسن عمل ہے۔

اقلیت کو توقع تو تھی کہ قرائن کی روشنی میں فیصلہ اس کے حق میں آئے گا لیکن جب فیصلہ آیاتو اس کے توقعات کے بالکل خلاف تھا۔ متنازعہ زمین جہاں بابری مسجد تھی وہ رام للا کی ملکیت قرار دی گئی اور وہاں رام مندر کی تعمیر کے لئے حکومت کو ایک ٹرسٹ بنانے کی ہدایت دی گئی ۔ دفعہ 142 کے تحت بنچ نے اس سلسلے میں اپنے خصوصی اختیارات کو استعمال کیا اور فیصلے کو تصفیہ کی شکل دے دی۔یوپی سنی وقف بورڈ کو شہر اجودھیا کے حدود ہی میں پانچ ایکڑ زمین دینے کا حکومت کو حکم دیا گیا۔ ناجائز قبضہ کے ذریعہ جس طرح سے یہ معاملہ مرحلوں سے گزرتا ہوا سپریم کورٹ پہنچا اور پھر اس کا قطعی حکم متنازعہ جگہ پر رام مندر کی تعمیر کی شکل میں سامنے آیا۔ سارے معاملے کو اگر حضرت امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے ایک خلافت کے سلسلےمیںیہ جملہ ’’لقدتقمّصھا‘‘ (نہج البلاغہ خطبہ نمبر۳)(قمیص خلافت کو کھینچ تان کر پہن لیا)کی تعبیر کے ساتھ دیکھا جائے تویہ مثال بر محل لگتی ہے۔

فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار صرف مسلم فریق ہی نے نہیں کیا بلکہ خود سپریم کورٹ کے ممتاز ریٹائرڈ ججوں نے بھی اس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے یہ کہہ دیا کہ یہ فیصلہ میری سمجھ سے باہر ہے۔۔ جسٹس اشوک کمار گانگولی نے اس فیصلے کے اوپر اپنے شبہات کا اظہار کیا اور کہا کہ اسے قبول کرنے میں انہیں تامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ’ اُس وقت ہندوستان کوئی جمہوری ملک نہیں تھا تب وہاں ایک مسجد تھی، ایک مندر تھا، ایک بودھ ستوپ تھایا ایک چرچ تھا۔ اس پر فیصلہ کرنے بیٹھیں گے تو کئی مندر مسجد اور دوسری طرح کے ڈھانچوں کو توڑنا ہوگا‘۔

یہ صورتحال ہے تو حیرتناک کہ جب ۲۰۱۰ء ؁میں الہ آباد ہائی کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل بنچ کا فیصلہ آیا تو ایک کے مقابلے میں دو ججوں کی اکثریت سے یہ فیصلہ آیا تھا یعنی متفقہ فیصلہ نہیں تھا۔جب کہ سپریم کورٹ کی بنچ پانچ ججوں پر مشتمل تھی اور اس سلسلے کے جتنے مقدمات تھے سب یکجا کردیئے گئے تھے لیکن کسی میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہوا اور متفقہ فیصلہ سامنے آگیا۔ پھر بھی اس میں اتنا جھول رہ گیا کہ اہم سابقہ جج بھی اس سے متفق نظر نہیں آئے۔

اس فیصلے میں کئی باتیں بہترین اور قابل تعریف ہیں جن کے آئندہ اچھے اثرات مرتب ہوں گے لیکن کچھ باتیں آئندہ کسی مسئلے میں نظیر بن کر مسائل بھی پیدا کر سکتی ہیں ۔ اسے اتفاق سمجھا جائے تب بھی یہ عجیب اتفاق ہے کہ اسرائیل میں مغربی حصہ میں جو یہودی بستیاں بسائی جارہی تھیں اسرائیل کا پشت پناہ ہونے کے باوجودچالیس سال تک امریکہ ان کا مخالف تھا لیکن اس فیصلے کے دس دن کے اندر اندر اس نے اپنا موقف بدل دیا اور یہودیوں کے ذریعہ بسائی گئی بستیوں کو جائز و قانونی بستیاں تسلیم کرلیا ۔ اگر چہ وہ ملک کے باہر کی بات ہے لیکن قابل غور ضرور ہے اس لئے کہ ہندوستان سے امریکہ و اسرائیل کے رابطے مضبوط ہیں ۔ اور اس کے علم میں ضرور آیا ہوگا کہ اجودھیا کےحساس مسئلے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ کیا آیا ہے۔

ملک و قوم کی ہمدردی ہی میں سہی ایک طبقہ ماضی میں مصالحتی کوششوں کو ترجیح دینے پر زور دے رہا تھا۔صلح جو اور امن پسند عام ہندو جو کل سے آج تک اپنی میانہ روی پر بر قرار رہے وہ قابل قدر ہیں ان کے لئے پلکیں بچھانا چاہئے۔ وہ دہشت گرد جو کلمہ گو بھی ہیں جب ہم ان سے قطعاً بیزار ہیں تو ان دہشت پھیلانے والوں اور فتنہ و فساد کی آگ بھڑکانے والے جو غیر کلمہ گو ہیں ان سے ہمارا یارانہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ ایودھیا کے معاملہ سے جو لوگ جڑے رہے اور اسے سیاسی مقاصد سے یرغمال بنا لیا وہ ایسے فراخ دل نہیں کہ وہ کسی ایثار و قربانی کی قدر کریں اور ان کا دل جیتا جاسکے ایسے لوگوں کا بدلتا ہوا رنگ صرف وقتی ہوتا ہے۔ اب یہی دیکھ لیجئے کہ سپریم کورٹ نے سنی وقف بورڈ کو مسجد بنانے کے لئے پانچ ایکڑ زمین دینے کا حکم دیا تھا تو اس پر وشو ہندو پریشد سے وابستہ اور دیگر شدت پسند لیڈروں نے یہ صاف اعلان کردیا کہ پریکرما کے حدود میں تو ہم مسجد بننے ہی نہیں دیں گے اور بابر کے نام سے ہندوستان بھر میں کوئ مسجد نہیں بننے دیں گے۔ چلئے اجودھیا میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے لیکن اگر مسلم اکثریتی کسی علاقے میں کوئی نئی مسجد بنا کر یا بوسیدہ مسجد کو درست کرکے اس کا نام بابری مسجد رکھ دیاجائے تو کیا ہندوستانی قانون ا سے روکتا ہے؟ جبکہ ابھی تک یہی ثابت ہوا کہ نہ تو بابر نے ہندوستان میں آکر کسی ہندو حکمراں سے مقابلہ کیاہو اور نہی اس نے کوئی مندر توڑ کر مسجد بنوائی۔ تو صرف غلط پروپگنڈہ ہی کے نتیجے میں اس نام سے نفرت ہے۔ رہا پانچ ایکڑ زمین کا معاملہ تو غیرت قومی کا تقاضا یہی ہے کہ اس سے دست بردار ہوا جائے۔

اگر مصالحت کے ذریعہ یہ معاملہ ختم ہوتا تو یہ طے شدہ تھا کہ متنازعہ زمین زور دے کراکثریتی فرقہ ہی حاصل کرتا۔ ولو اقلیت اکثریت کا دل جیتنے کی نیت سے ایسا کرتی لیکن ہمیشہ کے لئے یہ لگایا ہوا داغ دامن پر رہ جاتا کہ مندر توڑ کر مسجد بنائی گئی تھی جب ہم نے زور دیا تو وہ ہمیں واپس مل گئی۔ لیکن سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے ہمیشہ کے لئے اس لگائے ہوئے داغ کو دھودیا اور تاریخی فیصلہ دے دیا کہ کوئی مندر توڑ کر مسجد نہیں بنائی گئی تھی۔ یا مسجد میں جو مورتیاں رکھی گئیں تھیں یا ا سے جو منہدم کیا گیا تھا ان باتوں پر اسی طرح سے ہمیشہ ناز کیا جاتا رہتا جیسے کہ ماضی میں نامور رہنماؤں نے اسے اپنا فخریہ کارنامہ قرار دیا تھا۔ لیکن سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے ایسا کرنے والوں کو ہمیشہ کے لئے مجرموں کی فہرست میں لاکر کھڑا کردیا۔ اب انہیں سزا ملے یا نہ ملے یہ دوسرا مرحلہ ہے۔ سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے اس میں ابتداءًجو بات کہی تھی کہ آستھا کی بنیاد پر فیصلہ نہیں ہوگا اس کے برخلاف یہی آستھا بنیاد بنی اور وہ جگہ رام للا کی ملکیت قرار دے دی گئی۔یہ آستھا کا معاملہ پہلے طاقتور نہیں تھا جب سیاسی حلقوں نے اس معاملے کو بہت اچھالا تو یہ معاملہ مضبوط ہوا ۔یہ کوئی بات نہ ہوئی کہ آستھا پر تو اتنی اعتنا ہو کہ اس مسئلے پر کوئی بات ہی نہ ہوسکتی ہو یہاں تک کہ سپریم کورٹ بھی اس مسئلے میں کنارہ کشی کرنا مناسب سمجھے اور ملک میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کو قانونی تحفظ حاصل ہونے کے باوجود قانون شریعت کو بالکل ردّی کی ٹوکری میں ڈال دیا جائے۔ پورے ملک کے سامنے یہ سوالیہ نشان ہے کہ مذہبی جذبات کو بھڑکا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے اور ملک کو کمزور کرنے کا سلسلہ اگر اسی طرح جاری رہا تو نہ جانے کتنی عبادت گاہیں زد میں آجائیں گی اور نہ جانے کتنے ہجومی تشدد اورفتنے سر اٹھا لیں گے ان پر قابو پانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوجائے گا۔ بادی النظر میں تجزیہ کرنےکی شکل میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس سلسلےمیں مسلم فریقوں نے مقدمات میں جو کوشش کی اس میں بھی شروع سے کچھ جھول رہ گیا ہے مثلاً بابری مسجد کو اللہ کی ملکیت قرار نہ دے کر سنی وقف بورڈ کی ملکیت قرار دیا گیا اور اسی بنیادپر مقدمہ لڑا گیا۔جب ابرہہ نے خانۂ کعبہ پر حملہ کیا تھاتو اس کےمتولی جناب عبد المطلب نے دو ٹوک الفاظ میں یہ کہا تھا کہ یہ کسی کی ملکیت ہے ( یعنی اللہ کی )بالآخر اللہ نے اپنی ملکیت کی حفاظت کی یہ ناقابل رد حقیقت ہے۔ ظاہر ہے رام للا کے مقابلے میں جب سنی وقف بورڈ آیا اس کی حیثیت کمزور مانی گئی اور عدالت نے کب سے کب تک نماز پڑھی گئی ان ثبوتوں کو دیکھا اگر یہ پر زور دعویٰ کیا گیا ہوتا کہ اللہ کی ملکیت ہے جو حقیقی دعویٰ ہوتا اور یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ اللہ کے لئے نماز پڑھی جاتی ہے خود اللہ نماز نہیں پڑھتا۔ لہٰذا اب یہ نہ دیکھا جاتا کہ کب سے نماز ہوئی یا نہیں ، بلکہ یہ دیکھا جاتا کہ کب سے مسجد کا وجود تھا ۔اگر چہ سپریم کورٹ کے سامنے ۱۸۵۷ء؁ سے پہلے نماز پڑھنے کے ثبوت نہیں پیش کئے جاسکے لیکن عقل و قرائن کے نتائج مایوس کن نہیں۔ خدمت گاروں کے لئے شاہی وظائف گواہ ہیں کہ مسجد اذان و نماز سے محروم نہیں تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ بات دنیا کے عجائب میں سے ہوتی کہ اجودھیا میں ۱۵۲۸ میں ایک مسجد بنی جس میں ۳۳۰ سال تک نماز ہی نہیں ہوئی جبکہ مسلم حکمرانوں کے غلبہ کا دور تھا۔اُس دور کے وقائع نگار اس عجوبے کو اپنی تحریروں میں ضرور لاتے لیکن ایسی کوئی تحریر موجود نہیں ہے۔

بابری مسجد نرسمہا راؤ کی وزارت عظمیٰ کے دور میں توڑی گئی ان کے دفتر سے اس مسئلہ کے حل کے لئے عوام سے تجویزیں مانگی گئی تھیں وہ اردو داں تھے میں نے انہیں ایک اردو میں خط لکھا تھا اس میں چند تجویزیں تھیں۔ بعدمیں اس موضوع پر اپنے دیگر مضامین میں بھی میں نے کچھ تجویزیں پیش کی تھیں جن میں یہ دو تجویزیں بھی تھیں۔ جن کا خلاصہ درج ہے: (۱) مسجد کی جگہ تبدیل نہیں ہوسکتی ہے اور وہاں بدلے حالات میں مسجد بننا آسان آسان نہیں رہ گیا ہےلہٰذا اس جگہ عیدگاہ بن سکتی ہے سال میں دو دن معقول فورس لگا کر عیدین کی نمازیں ہوسکتی ہیں۔ (۲) فریقین کو بیک وقت متنازعہ جگہ دی نہیں جاسکتی تھی لیکن دونوں کو اس سے محروم ضرور کیا جا سکتا تھا صرف مسجد کے علاقہ کو مضبوطی سے محصور کردیا جاتا تو نماز تو نہ ہوتی لیکن صنم پرستی سے وہ جگہ محفوظ رہتی۔سپریم کورٹ کے سامنے اگر اس نہج سے بات پیش ہوتی تو ممکن ہے فیصلے کی شکل کوئی اور ہوتی۔ اسلام بنیادی طور سے شرک کا سخت مخالف ہے اور اس کی نظرمیں یہ ظلم عظیم ہے:إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ۔یقیناً شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ (سورہ لقمان آیت ۱۳)

یہ ہمیں تسلیم ہے کہ ملک کی بعض دیگر مسجدوں پر بھی اغیار کا قبضہ ہے در اصل تقسیم ملک کے بعد وہ لوگ جو مسلم لیگ کی بے شعور و جذباتی آواز پر اپنا وطن خیر باد کہہ کر پاکستان کے ہورہے بالخصوص سرحدی علاقوں میں پنجاب کے مسلمان انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ اس طرح ان کی مسجدیں ویران ہوجائیں گی اور ایسا ہوا بھی ’’ خانۂ خالی را دیو می گیرد‘‘

ان مسجدوں پر سکھوں کا قبضہ ہوا لیکن بعض مثالیں موجود ہیں کہ جب مسلمانوں نے ان سے مطالبہ کیا تو انہوں نے مذکورہ مقبوضہ مسجدیں خالی کرکے ان کے حوالے کردیں اور دیگر مقبوضہ مسجدوں کے سلسلہ میں بھی ان سے ایسی ہی امیدیں ہیں۔ اس کے برعکس بابری مسجد پر غیر قانونی جارحانہ قبضہ ہوا اور اسے تشدد و جارحیت کے ساتھ توڑا گیا۔

۱۷؍ نومبر ۲۰۱۹ء؁ کو ممتاز ڈگری کالج لکھنؤ میں جو مسلم پرسنل لا بورڈ کی میٹنگ ہوئی اس میں اس بات پر بہت زیادہ زور دیا گیا کہ مسجد ثریٰ سے ثریا تک ہمیشہ مسجد رہتی ہے نہ اسے تبدیل کیاجاسکتا ہے نہ اسے فروخت کیا جاسکتا ہے۔ نہ اس کے بدلے میں کچھ لیا جاسکتا ہے۔ ماضی میں اس بات پر زور کم دیا گیا ۔ صورتحال یہ تھی کہ جب کسی ٹی وی چینل پر مذاکرہ ہوتا تھا تو اُدھر سے تو یہ کہا جاتا تھا کہ’ جائے پیدائش ( جنم بھومی) بدلی نہیں جاسکتی جبکہ مسجد کی جگہ تبدیل کی جاسکتی ہے‘۔ وہاں جرح میں ایسے نمائندے ہوتے تھے جو جواباً یہ نہیں کہہ پاتے تھے کہ ’جائے پیدائش اختلافی ہے اور اگر اختلافی نہ بھی ہو تو وہاں مندر نہ بنے تو کوئی پاپ نہیں ہوجائے گا۔ اس کے برعکس مسجد کی جگہ کے اوپر اگر کوئی عمل شرک انجام پائے تو جن لوگوں کی پیروی میں کمزوری کی وجہ سے ایسا ہوا ہو وہ گنہگار ہوں گے‘۔ مسجدیں جہاں تبدیل ہوئی ہیں تو اگر ظالم حکمرانوں نے تبدیل کی ہیں تو ان کے قول و فعل کا اسلام ذمہ دار نہیں ہے ۔ اور با صواب فقہاکےفقہ کی روشنی میں کئیے جانے والے فیصلوں کے نتیجے میں کوئی تبدیلی ہوئی ہے تو مفاد اسلام و مسلمین میں ہوئی ہےبت پرستی کے لئے نہیں۔ لہٰذا اپنے ہاتھوں مسجد کی جگہ کو فریق مخالف کے حوالے کردینے کا مطلب تھا ایک جدید مثال کا قائم ہوجانا ۔ لہٰذا سپریم کورٹ سے رجوع کر نا ہی اس مسئلے کا حل تھا۔ ہاں یہ بات تسلیم ہےکہ وہ خطہ عرب جہاں سے شرک کو ملک بدر کردیا گیا تھا اُسی کے بعض ممالک میں سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے ایسے معبد تعمیر ہوگئے کہ جہاں یہ عمل شرک دھڑلے سے انجام پارہا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب یہ جگہ ملکی قوانین کی روشنی میں مسجد نہیں رہ گئی ہے ۔ لیکن فقہا بہتر جانتے ہوں گے کہ آیا یہ جگہ موجودہ صورت حال میں احکام مسجد سے بھی بے نیاز ہوگئی ہے یا نہیں۔ اگر نہیں تو ہمیشہ پیشانیٔ مسلم عرق ندامت سے تر رہے گی۔ اور اپنے معبود سے شرمسار رہے گی، بشرطیکہ اس سلسلے میں اس نے کوتاہیاں کی ہوں تو۔ رہا فلاں بورڈ فلاں بورڈ کا معاملہ تو یہ حکومتی ادارے ہوتے ہیں یہ حکومت کی مرضی کے خلاف بہت دور تک نہیں جاسکتے بالخصوص اس صورت میں جب ان پر بدعنوانی کے الزامات ہوں اور جانچ کی تلوار ان کے سروں پر لٹک رہی ہو۔
یہ بھی دھیان میں رہے کہ یہ تنازعہ کسی مکان یا کسی عام خطہ کے لئے نہیں تھا بلکہ مسجد یعنی خدا کے گھر سے منسوب عمارت کا تنازعہ تھا تو مسجد کا نام آئے اور دین اور شریعت کا نام نہ آئے، یہ عقل سے کوسوں دور کی بات ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ آستھا کے مقابلے میں اگر کسی بات پر زور دیا جاسکتا تھا تو یہی شرعی قوانین کا حوالہ تھا جن کی اپنی اہمیت ثابت و مسلّم ہے۔

منہدم شدہ اور ملکی قانون کی روشنی میں اپنی حیثیت سے محروم ہوجانے والے اے مظلوم خانۂ خدا پوری امت مسلمہ شرمندۂ و نادم ہے کہ وہ کوئی غیر قانونی قدم اٹھا نہیں سکتی تھی لیکن جو طویل قانونی سفر اس نے طے کیا اس میں ضرور کوئی نہ کوئی کوتاہی رہ گئی جس کی وجہ سے ہم تجھ سے محروم ہوگئے۔ اور اب سوائے صبر و تحمل کے اور کوئی چارہ نہیں رہ گیاہے۔ جب فیصلہ آیا جب بھی ہم نے صبر و تحمل کے ذریعہ ملکی فضا کو خراب ہونے سے بچایا اور اب بھی نظر ثانی کی اپیل پر سپریم کورٹ جو فیصلہ کرے اسے ہمیں صبر و تحمل سےتسلیم کرنا ہے۔ خدائی وعدہ ہے:

وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ ۔ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ أُولَـٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ۔(سورہ بقرہ آیت ۱۵۵۔۱۵۶)

اے خانۂ خدا خدا حافظ اے خانۂ خدا خدا حافظ

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں