01 February 2015 - 23:47
News ID: 7753
فونت
واشنگٹن پوسٹ نے قبول کیا :
رسا نیوز ایجنسی ـ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنے ایک مقالہ میں امریکا کے جاسوسی تنظیم کے پانچ سابق اہل کار نے راز فاش کیا ہے کہ عماد مغنیہ کے قتل میں امریکا بھی شامل تھا اور یہ صہیونی اسرائیل حکومت کی جاسوسی تنظیم موساد کا تعاون کر رہا تھا ۔
شہيد عماد مغنيہ


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنے ایک مقالہ میں امریکا کے جاسوسی تنظیم کے پانچ سابق اہل کار نے راز فاش کیا ہے کہ عماد مغنیہ کے قتل میں امریکا بھی شامل تھا اور یہ صہیونی اسرائیل حکومت کی جاسوسی تنظیم موساد کا تعاون کر رہا تھا ۔

واشنگٹن پوسٹ اخبار نے اس مقالہ میں راز فاش کیا ہے کہ سن 2008 میں جب عماد مغنیہ شام کے دار الحکومت دمشق کے ایک ریسٹورینٹ سے باہر نکل رہے تھے تو سی آئی اے کے جاسوس ان پر پوری طرح نظر رکھے ہوئے تھی ۔

اس امریکی اخبار کے بیان کے مطابق جب عماد مغنیہ اپنی گاڑی کے قریب آئے تو ایک بم جو اس گاڑی کے اسٹپنی کے ٹائر میں سیٹ کیا ہوا تھا جس کو اسرائیل کے پائتخت تل اویو سے کنٹرول کیا جا رہا تھا دور ہی سے صہیونی اسرائیل کے جاسوسوں کے توسط دھماکہ کیا گیا جس کے ذریعہ عماد مغنیہ کو شہید کر دیا گیا ۔

واشنگٹن پوسٹ نے قبول کیا ہے کہ صہیونی حکومت کی جاسوسی تنظیم موساد امریکی سی آئی اے کے ساتھ دمشق میں رابطہ میں تھی اور حقیقت میں ان لوگوں نے بم کے دھماکہ کے مناسب وقت کا اعلان کیا ۔ 


سی ائی اے اور موساد جاسوسی تنظیم کے ساتھ تعاون صرف عماد مغنیہ کو شہید کرنے کے بعد ختم نہیں ہوا بلکہ امریکا کی جاسوسی تنظیم سی آئی اے کے سابق حکام کے قول کے مطابق جس بم کے ذریعہ سے عماد مغنیہ کو شہید کیا گیا وہ بھی امریکا کے تعاون سے بنایا گیا تھا اور شمالی کیرولینا میں واقع سی آئی اے کے ایک کارخانہ میں کئی مرتبہ اس کا امتحان بھی کیا گیا تھا ۔

امریکا کی جاسوسی تنظیم سی آئی اے کے سابق حکام نے واشنگٹن پوسٹ اخبار سے کہا : ہم لوگوں نے تقریبا ۲۵ بار اس بم کو بنایا تا کہ اطمینان ہو سکے کہ جیسا بم ہم لوگ بنانا چاہتے ہیں کاملا ویسا ہی یہ بم تیار ہوا ہے ۔

واشنگٹن پوسٹ اخبار نے تاکید کرتے ہوئے بیان کیا ہے : امریکا کی جاسوسی تنظیم سی آئی اے اور موساد جاسوسی تنظیم کے ساتھ اس دہشت گردانہ آپریشن کی منصوبہ بندی اور انجام دینے میں تعاون حقیقت میں عماد مغنیہ کی عظیم اہمیت کی نشانی بیان کر رہی ہے ۔

اس امریکی اخبار نے اسی طرح قبول کیا ہے کہ امریکا ابھی تک عماد مغنیہ کے شہادت میں سی آئی اے تنظیم کے تعاون کرنے کو قبول کرنے میں کتراتا رہا ہے ۔ 

دوسری طرف نوٹری ڈیم یونیورسٹی کے بین الاقوامی قانون کے پروفیسر، ماری الن اوکانل نے واشنگٹن پوسٹ سے گفت و گو میں عماد مغنیہ کو شہید کرنے میں امریکا کی جاسوسی تنظیم سی آئی اے اور موساد جاسوسی تنظیم نے جو طریقہ اپنایا تھا وہ گینگیسٹر دہشت گردی کے لئے اپناتے ہیں ۔

نوٹری ڈیم یونیورسٹی کے بین الاقوامی قانون کے پروفیسر نے بیان کیا : عماد مغنیہ کے قتل میں میدان جنگ کے قدیم ترین قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔
 

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬