‫‫کیٹیگری‬ :
03 February 2018 - 14:27
News ID: 434889
فونت
آیت الله محسن اراکی:
مجمع جهانی تقریب مذاهب اسلامی کے جنرل سکریٹری نے کہا: ادیان و مذاهب کے مابین ھرگز جنگیں نہیں تھیں بلکہ ستمگروں اور ظالموں نے اپنے ذاتی منافع کی تکمیل میں دین کی آڑ میں جنگیں لڑیں ۔
آیت اللہ محسن اراکی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، مجمع جهانی تقریب مذاهب اسلامی کے جنرل سکریٹری آیت ‌الله محسن اراکی نے تہران میں « بین الاقوامی ایسوسی ایشوز پر ایشیا کی سیاسی پارٹیوں کی مستقل کمیٹی کے انتیسیوں اجلاس » سے خطاب کرتے ہوئے کہا: بغیر عدالت کے صلح کا محقق ہونا ناممکن ہے کیوں کہ بغیر عدل و انصاف کے صلح برقرار نہیں کی جاسکتی ، عدالت تمام امتوں اور ملتوں کی خواہش ہے ، یہ وہ بات ہے جس پر سبھی متفق ہیں ۔

آیت الله اراکی نے عدل و انصاف کا مفھوم بتاتے ہوئے کہا: عدالت ، امام علی(ع) کے ایک جملہ میں عدالت خلاصہ ہوگئی ہے کہ حضرت نے فرمایا « دوسروں کے لئے وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہوے اور جو اپنے لئے ناپسند ہے اسے دوسروں کے لئے بھی پسند نہ کرو » ۔

انہوں نے مزید کہا: میں سیاسی پارٹیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ امام علی(ع) کے اس بیان کی ملتوں کے درمیان ترویج کریں کیوں کہ اگر کوئی ملت یا ملک اپنے لئے اقتصادی یا ترقی پسند کرتا ہے تو دوسروں کو اس منزل تک پہونچنے سے نہ روکے ، اگر ہمیں امنیت پسند ہے تو ھرگز دوسروں کی امنیت سلب نہ کریں ۔

مجمع جهانی تقریب مذاهب اسلامی کے جنرل سکریٹری نے تاکید کی: اگر دنیا کے ممالک اور سیاسی پارٹیاں اس قول کے آئینہ میں جو کچھ خود لئے پسند کریں دورے دوسروں کے لئے بھی پسند کرنے لگیں تو مشکلات ختم ہوجائیں گی ، لہذا ہمیں اس بات سے پر دھیان دینا چاہئے کہ صلح و امنیت اور ترقی، عدل و انصاف کا حصہ ہے ۔

انہوں نے واضح طور سے کہا: مغربی ایشیا میں شیعہ و سنی نامی کوئی جنگ نہیں ہے ، میانمار میں بھی بودھسیٹ اور مسلمانوں کے درمیان جنگ نہیں ہے بلکہ جنگ کے آغازگر وہ ستمگر افراد ہیں جو دین کی آڑ میں اپنے منافع کی تکمیل میں مصروف ہیں ، یہ بظاھر دیندار مگر باطنی طور سے شیطان پرست ہیں ، شام و عراق میں بھی شیعہ و سنی جنگ نہیں ہے وہ تو صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ زندگی بسر کرتے آئے ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ جس دور سے امریکا نے اپنی سیاست میں جنگوں کو مذھبی رنگ دے دیا یہ مشکلات وجود میں آئیں ۔ لہذا جنوبی ایشیا میں مذھبی جنگ نہیں بلکہ جنگ ان ستمگروں کی چھڑی ہوئی ہے جو اپنے منافع کی تکمیل کو دین کو سہارا بنائے ہوئے ہیں ۔

مدرسین حوزه علمیہ قم کونسل کی بنیادی کیمٹی کے رکن نے تاکید کی : : ادیان و مذاهب کے مابین ھرگز جنگیں نہیں تھیں بلکہ ستمگروں اور ظالموں نے اپنے ذاتی منافع کی تکمیل میں دین کی آڑ میں جنگیں لڑیں ۔

انہوں نے مزید کہا: مجمع جهانی تقریب مذاهب اسلامی کے جنرل سکریٹری کے ناطے ایشیا کی سیاسی پارٹیوں سے میری درخواست ہے کہ اپنی حکومتوں کو عدالت و انصاف کی جانب بڑھنے کی درخواست کریں کیوں کہ اگر فلسطین میں عدالت اجراء کردی جائے تو ظلم خاتمہ ہوجائے گا ۔

آیت ‌الله اراکی نے اپنی تقریر کے آخر میں فلسطین کے مسائل کی جانب اشارہ کیا اور کہا : فلسطین کے سلسلے میں اسلامی جمهوریہ ایران کی پیشکش اور تجویز سےعلاقے اور خصوصا فلسطین میں صلح و امنیت قائم ہوگی ، نیز بحرین ، شام و یمن کے مسائل کچھ اس طرح ہیں کہ وہاں کی عوام کو خود اپنی تقدیر کا فیصلے کرنے کا حق دینا چاہئے ، سعودیہ بھی یمن کو مٹی کے ڈھیر میں بدلنے کے بجائے یمنی عوام کو اپنے سلسلے میں فیصلہ کرنے کا موقع دے ۔/۹۸۸/ ن۹۷۱

 

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬