‫‫کیٹیگری‬ :
06 February 2020 - 13:22
News ID: 442064
فونت
آیت اللہ شیخ ابراہیم زکزاکی اور انکی اہلیہ کی جسمانی حالت تیزی کیساتھ خراب ہو رہی ہے ۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق نائیجیریا کی اسلامی تحریک کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ شیخ ابراہیم زکزاکی کے تنہاء باقی بچ جانیوالے فرزند محمد ابراہیم زکزاکی نے نائیجیریا کی جیل میں قید اپنے والدین کی خراب جسمانی حالت اور انکے علاج معالجے پر حکومت کیطرف سے لگائی گئی مکمل پابندی کیطرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے ایک پیغام میں لکھا ہے کہ میرے والدین کی خراب جسمانی حالت کو عمدی طور پر نظرانداز کر کے انہیں قتل کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔

علاوہ ازیں نائیجیریا میں واقع شیخ زکزاکی کی اسلامی تحریک کے دفتر نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آیت اللہ شیخ ابراہیم زکزاکی اور انکی اہلیہ کی جسمانی حالت تیزی کیساتھ خراب ہو رہی ہے جبکہ حکومت کیطرف سے انکے علاج معالجے اور طبی معائنے پر بدستور پابندی عائد ہے۔

واضح رہے کہ آیت اللہ شیخ ابراہیم زکزاکی اور انکی اہلیہ کو سال 2015ء کے "زاریا قتل عام" کے بعد سے تاحال بغیر کسی الزام کے قید میں رکھا گیا ہے جبکہ انکے 7 میں سے 6 بیٹے نائیجیرین پولیس اور فوج کی براہ راست فائرنگ سے شہید ہو چکے ہیں۔

آیت اللہ شیخ ابراہیم زکزاکی اور انکی اہلیہ کو سال 2015ء میں زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد سے تاحال انکے طبی معائنے اور علاج معالجے پر حکومت نے پابندی لگا رکھی ہے ۔

درحالیکہ سال 2015ء کے قتل عام کے دوران نائیجیرین فوج کیطرف سے فائر کئے مارٹر گولوں کے ٹکڑے تاحال شیخ زکزاکی کے جسم میں باقی ہیں۔

یاد رہے کہ سال 2015ء میں نائیجیریا کے شہر زاریا میں نواسۂ رسول (ص) حضرت امام حسین (ع) کی عزاداری کیلئے منعقد ہونیوالے مسلمانوں کے ایک اجتماع پر نائیجیرین فوج نے مارٹر گولوں سمیت اپنے بھاری ہتھیاروں کیساتھ حملہ کر دیا تھا جسکے نتیجے میں 2000 سے زیادہ نائیجیرین مسلمان شہید اور سینکڑوں زخمی ہو گئے تھے۔

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬