23 May 2010 - 15:01
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 1358
فونت
مذھبی رھنما :
رسا نیوزایجنسی - پاکستان کے مذھبی علماء نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے فیس بک کومستقل طور پربند کئے جانے کا مطالبہ کیا
فيس بک

رسا نیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، توھین رسالت خاکہ کے حوالے سے نکالے گئے احتجاجی جلوس میں مذھبی ، سیاسی جماعتوں کے رھنما نے حکومت پاکستان سے فیس بک کومستقل طور پربند کئے جانے کا مطالبہ کیا ۔

مقریرین نے یہ کہتے ہوئے کہ پہلے مسلمانوں کے جذبات مجروح کئے جاتے ہیں اور جب وہ اپنےغم وغصہ کا اظہارکرتے ہیں تو اسے انتہا پسندی اور بنیاد پرستی قرار دیا جاتا ہے کہا : فیس بک جیسی ویب سائٹس کو عارضی نہیں، مستقل طور پربند کیا جاناچاھئے اورمغرب اپنا دہرا معیار ختم کر کے انصا ف کے فلسفے پرعمل کرے ۔

شرکاء نے کہا: اس طرح کی تحریک کے ذریعہ مسلمانوں کے جذبات مجروح کئے جا رہے ہیں لھذاجن ممالک نے گستاخانہ خاکے جاری کرنے والوں کی سرپرستی کی ہے ان ممالک کے سفیروں کو فی الفور ملک بدرکیا جائے اور ان ممالک سے ہر قسم کے سفارتی تعلقات منقطع کئے جائیں۔

ان لوگوں نے کہا: مسلمان کسی بھی صورت میں توہین رسالت برداشت نہیں کر سکتےاوراگر مسلم حکمرانوں نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو مسلمان انہیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔

گستاخانہ خاکے بنانے والے اسلام کے بدترین دشمن ہیں اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر رہے ہیں، لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ میدان عمل میں آئیں اور دشمنان اسلام کی جانب سے اسلام کےخلاف کی جانے والی سازشوں کا جواب دیں۔

مقررین نے حکومت سے فی الفور توہین رسالت کو عالمی سطح پر دہشت گردی قرار دلانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنےکا مطالبہ کیا ۔

ان لوگوں نے کہا : توہین رسالت کے خلاف مسلم حکمرانوں بالخصوص صدر، وزیراعظم اور وزیر خارجہ اقوام متحدہ اور دنیا بھرکے سربراہان کو خطوط ارسال کریں اورمسلم ممالک کا اجلاس بلا کر مشترکہ طور پر احتجاج کریں اور گستاخ ممالک کی نشریات، مصنوعات پر پابندی عائدکی جائے اور احتجاجاً سفارتی اور تجارتی تعلقات بھی منقطع کئے جائیں ۔
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬