07 July 2010 - 19:14
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 1547
فونت
25 رجب کی مناسبت سے( پہلی قسط ):
هادی الیاسی / اشھد نقوی : امام کاظم (علیه السلام) بیس کی عمر میں اپنے والد مکرم حضرت امام صادق (علیه السلام) کی شھادت کے بعد سن 148 ق میں درجہ امامت پر فائز ہوئے۔ منصور دوانیقی عباسی خلفاء میں سے ظالم ترین خلیفہ تھا کہ اس کے زمانہ حکومت میں امام کاظم (علیه السلام) کے دوران امامت کا اغاز ہوا
امام موسي کاظم (عليه السلام)

منصور امام جعفر صادق (علیه السلام) کو شھید کرکے اپنی حکومت کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے درپہ تھا اور اس نے اس سلسلے میں بہت سارے لوگوں کا خون بہایا ۔

اس نے اپنی حکومت کو استوار کرنے کی غرض سے فقط شیعوں ہی کا خون نہی بہایا بلکہ بہت سارے فقہاء اور اھل سنت کی عظیم شخصیتیں جو اس کی مخالف تھیں ان کا بھی قتل عام کیا یا انہیں آزار و اذیت دی جیسا کہ ابوحنیفہ کو ابراهیم (عبدالله محض کے بیٹے ، عراق میں عباسی حکومت کے خلاف قیام کرنے والوں کے رھبر) کی حمایت کےالزام میں کوڑے مارے اور زندان میں ڈال دیا تھا۔ [1]

اس لحاظ سے منصور دوانیقی کے خلاف ھر قسم کا اقدام اس کے منفی جزبات کو ابھارنے کے برابر تھا جو شیعوں کے حق میں بہتر نہی تھا ۔

منصورسن 158 ق تک تخت حکومت پر رہا اور اپنی ستمگری کے جلوے دیکھاتا رہا ۔ منصور کے بعد کے عباسی خلفاء بھی ظلم روا کرنے میں منصور سے کم نہی تھے ۔ محمد معروف به مهدی (158 ـ 169)، هادی (169 ـ 170) اور هارون الرشید (170 ـ 193)؛ ھر ایک نے شیعوں خصوصا امام کاظم (علیه السلام) پر ظلم کرنے میں ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑدیا تھا ۔

اسی بنیاد پر امام کاظم (علیه السلام) مکتب تشیع کی بقاء ، تحفظ اوراس کے توسعہ کی غرض سے بنیادی کام انجام دینے میں مشغول رہے اور اس حرکت کی اساس علم اورمنسجم پروگرام پرا ستوار تھی۔

سب سے پہلے ساتویں امام نے اپنے پدر بزگوار کی علمی نھضت کو اگے بڑھاتے ہوئے شاگردوں کی تربیت میں مشغول ہوئے اورعظیم علمی شخصیتیں تربیت دیں ۔

سید بن طاووس لکھتے ہیں : امام کاظم (علیه السلام) کے چاھنے والوں اور مددگاروں کا ایک بہت بڑا گروہ اپ کے اطراف میں اکٹھا ہوگیاتھا جو مختلف موضوعات اور عناوین پہ اپ کی باتوں اورگفتگو کو قلمبند کرتے تھے اور ھر حادثہ کے سلسلے میں اپ کا ھر حکم لباس تحریر سے مزین کیا کرتے تھے ۔ [2]

اس مرحلہ میں جس ھدف کی جانب اشارہ کیا جاسکتا ہے وہ الحادی اور کفرآمیز افکار سے مقابلہ ہے جو مسلمان نوجوانوں کے ذھنوں کو نشانہ بنائے ہوئی تھی امام (ع) نے محکم دلوں کے ذریعہ ان سے مقابلہ کیا اور ان افکار کی حقیقت کو بیان کرکے ان کا پردہ فاش کردیا جس کے نتیجہ میں بہت سارے لوگ اپنی خطا کا اعتراف کرتےہوئے حق کے راستے پر لوٹ ائےاور اپ کے علم کا کلمہ پڑھ لیا ۔ ا مام (ع) کی اس فعالیت کی اطلاع حکام جور وظلم تک پہونچ گئی جس کے نتیجہ میں اپ کے چاھنے والوں کو زندان کا منھ دیکھنا پڑا ۔

اور یہ اتنا شدید تھا امام کاظم (علیه السلام) نے اپنے ایک شاگرد هشام سے دشمنوں سے مناظرے اور گفتگو کرنے سے پرھیز کرنے کو کہا، ھشام نے بھی امام (ع) کے حکم کے مطابق مهدی (عباسی خلیفة) کے مرتے دم تک اپنی علمی گفتگو سے اجتناب کیا ۔ [3]

________________________________________

[1]. تاریخ الخلفاء، ص 259.
[2]. الانوار البهیة، ص 170.
[3]. رجال کشی، ص 172.
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬