02 September 2010 - 13:37
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 1771
فونت
رھبر معظم انقلاب:
رسا نیوزایجنسی – رھبر معظم انقلاب اسلامی نے پاکستان میں تباہ کن سیلاب پرامداد میں تیزی لانے کے لئے مسلم اقوام کے نام پیغام دیا ۔
رھبر معظم

رسا نیوزایجنسی کی رھبر معظم کی خبر رساں سائٹ سے منقولہ رپورٹ کے مطابق ، قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے پوری دنیا کی مسلمان قوموں کے نام ایک پیغام میں پاکستان میں تباہ کن سیلاب، اس سے وسیع پیمانے پر ہونے والے نقصانات اور دسیوں لاکھ پاکستانیوں کی فوری امداد کی ضرورت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس نازک وقت میں اسلامی اخوت کی بنیاد پر اپنے فرائض پر ہمیں عمل کرنا چاہئے اور مصیبت زدہ مسلمان بھائیوں اور بہنوں کی امداد کے لئے تیزی سے آگے آنا چاہئے۔
ولی امر مسلمین کے پیغام کا متن مندرجہ ذیل ہے؛

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عظیم امت اسلامیہ!

سیلاب کا المیہ جس سے پاکستانی مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو انتہائی پر محن حالات کا سامنا ہوا ہے روز بروز زیادہ تباہ کن ہوتا جا رہا ہے۔ اس المئے نے شمالی پاکستان سے جنوبی پاکستان تک بہت سے علاقوں کو زیر آب کر دیا ہے اور دسیوں لاکھ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ اس خانماں سوز افتاد کے باعث امداد رسانی کا عمل بھی انتہائی مشکلات سے دوچار ہے۔ پاکستان کے مسلمان عوام کو ایسے عالم میں اس المئے کا سامنا کرنا پڑا ہے کہ جب قابض و جارح امریکی فوجی مسلسل الٹے سیدھے بہانوں سے اس اسلامی ملک کی سرزمین پر حملے کر رہے ہیں۔

با شرف مسلمان اقوام!

نقصانات کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ دسیوں لاکھ بھائیوں اور بہنوں کو آذوقے، لباس اور رہائش کی ضرورت تو ہے ہی ملک کی بنیادی تنصیبات بھی تباہ ہو چکی ہیں۔ بد قسمتی یہ ہے کہ عالمی اداروں نے مصیبت زدہ انسانوں کی امداد کے اپنے فریضے پر صحیح طور پر عمل نہیں کیا ہے اور یہ ایسا معاملہ ہے جس پر توجہ دینے اور باریک بینی سے جس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

مسلمان بھائیو اور بہنو!

ہماری امداد کی مقدار کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو وہ پاکستانی سیلاب زدگان کی ضرورتوں کے پہاڑ کے سامنے ہیچ ہے لیکن اس نازک وقت میں ہمیں اسلامی اخوت کی بنا ہر اپنے فرائض پر عمل کرنا چاہئے اور ان مصیبت زدہ بھائیوں اور بہنوں کی مدد کے لئے آگے بڑھنا چاہئے۔ جس نکتے پر اسلامی حکومتوں اور عالمی اداروں کی زیادہ توجہ کی ضرورت ہے وہ اس مصیبت سے نمٹنے کے منصوبوں کی تیاری اور ان پر عملدرآمد میں حکومت پاکستان کی مدد کرنا، امداد رسانی کا انداز اور اس کے دراز مدتی نتائج ہیں۔ یہ ایسا معاملہ ہے جو قدرتی آفات کے موقعے پر حکومتوں کو ہمہ گیر اور بھرپور امداد رسانی کے سلسلے میں مشکلات سے دوچ‍ار کرتا ہے۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬