23 January 2011 - 17:14
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 2324
فونت
آيت الله مظاهري :
رسا نيوزايجنسي - حضرت آيت الله مظاهري نے انواع ظلم کو شمار کرتے ہوئے کہا : بے يار ومدد گار افراد پر ظلم کرنے سے اجتناب کرنا پرھيز کرنا بہت اھميت کا حامل ہے افسوس اج معاشرے ميں غيبت ، تہمت اور افواي جيسي مظالم بہت زيادہ رائج ہيں ?
آيت الله مظاهري

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق، حضرت آيت الله حسين مظاهري نے اپنے ھفتہ وار درس اخلاق ميں امام حسين(ع) سے منقول روايت کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : امام حسين(ع) نے سيد سجاد (ع) سے اخري وصيت ميں اپنے شيعوں بلکہ تمام بشريت کو خطاب کرکے يوں فرمايا : : بے يار ومدد گار افراد پر ظلم کرنے سے اجتناب کرو?

بسم الله الرّحمن الرّحيم

«رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي»

امام محمد باقر«ع» نے اپنے پدر بزرگوار امام سجاد«ع» سے اورانہو ں نے اپنے پدر بزرگوار حضرت سيّدالشهداء«ع» سے اور انہوں نے اميرالمومنين عليہ السلام سے نقل کيا ہے کہ بے يار ومدد گار افراد پر ظلم کرنے سے اجتناب کرو?

انہوں نے ظلم کي قسميں بيان کرتے ہوئے کہا :

حکام کا ظلم

بے ياور ومددگار پر ظلم کا واضح ترين مصداق بعض حکومتوں کا اپني عوام پر ظلم ہے وہ صاحبان تخت وتاج جو اپني عوام بے بس عوام پر مظالم روا رکھتے ہيں خدا کے علاوہ کوئي بھي انکا ياور ومددگار نہي اور يہ روايت کا واضح ترين مصداق ہے ?

يہ ظلم بدترين ظلم اور نہايت ناپسنديدہ طريقہ پيغمبر اسلام (ص) کي فرمايش کے مطابق برے افراد کا کسي قوم پر مسلط ہونا خود انکے برے اعمال کا نتيجہ ہے جيسا کہ اپ نے فرمايا : «سَيَأْتِي زَمَانٌ عَلَى أُمَّتِي يَفِرُّونَ مِنَ الْعُلَمَاءِ کَمَا يَفِرُّ الْغَنَمُ عَنِ الذِّئْبِ فَإِذَا کَانَ کَذَلِکَ ابْتَلَاهُمُ اللَّهُ تَعَالَى بِثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ الْأَوَّلُ يَرْفَعُ الْبَرَکَةَ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَ الثَّانِي سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ سُلْطَاناً جَائِراً وَ الثَّالِثُ يَخْرُجُونَ مِنَ الدُّنْيَا بِلَا إِيمَان‏» ميري امت پر ايک دن ائے گا جب وہ علماء سے دامن بچائے گي جيسے کہ بکرياں بھڑيے سے فرار کرتي ہيں اور جب ايسا ہونے لگے تو خدا وند متعال انہيں تين مصيبتوں ميں گرفتار کرے گا ايک : انکے مال ميں برکت ختم ہوجائے گي ? دو : ان پر ظالم بادشاہ مسلط کرديگا ? تين : دنيا سے بے ايمان اٹھيں گے ?

فيميلي کا ايک دوسرے پر ظلم کرنا :

ظلم کي ايک قسم فيميلي کا ايک دوسرے پر ظلم کرنا ہے ، بيوي کا شوھر پر ظلم کرنا اور شوھر کا بيوي کے حق ميں ظلم کرنا يا اولادوں کا ماں باپ کي بہ نسبت اور ماں باپ اولادوں کي بہ نسبت ظلم کرنا يہ سب ظلم کے مصاديق ہيں ?

بيوي کي جب کوئي پناہ گاہ نہ ہوتو وہ مجبور ہے کہ اپنے شوھر پہ تکيہ کرے اور گھٹ گھٹ کر جان دے اور شوھر کي بد اخلاقيوں کو تحمل کرتي رہے ?

يا اسي طرح بوڑھي ماں مجبور ہے کہ اپنے بچے کي بدزباني کو تحمل کرتي رہے اور حقيقتا ايسي اولاد بہت بڑے گناہ انجام ديتي ہے ?

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬