07 June 2011 - 17:46
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 2867
فونت
کويت ميں مراجع تقليد کے نمائندے :
رسا نيوزايجنسي - کويت ميں مراجع تقليد کے نمائندے نے بحرين کے داخلي مسائل ميں ايران کي مداخلت کے معاملے کو ميڈيا کي پيداواربيان کيا ?
سيد محمد باقر المهري

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، کويت ميں مراجع تقليد کے نمائندے ، حجت الاسلام و المسلمين سيد محمد باقر المهري نے السياسہ نيوزپيپربحرين سے گفتگو ميں بحرين ميں کھانے پينے کي اشياء کے بھيجے جانے کي تکذيب کرتے ہوئے کہا : ھم نے کھانے پينے کي اشياء بحرين نہي بھجيں ہيں اور بحريني عوام ان چيزوں کي نيز مند بھي نہي ہے ?

انہوں نے مزيد کہا : ھم اورحکومت کويت بحرين کے داخلي مسائل ميں مداخلت کا قصد نہي رکھتے ، فقط ھم نے بحران کے اغاز ميں مخالفين اور حکومت بحرين کو مشورہ ديا تھا کہ گفتگو کے ذريعہ مشکلات کا حل نکالنے کي کوشش کريں ?

حجت الاسلام المهري نے بحرين کي موجودہ صورت حال پہ اظھار افسوس کرتے ہوئے کہا : ابھي تک بحرين کے حالات ناگفتہ بہ ہيں اميد وار ہوں کہ بحرين کي مشکلات جلد از جلد ختم ہوجائيں ، اگرمخالفين اوربحريني حکومت وساطت کے لئے ھميں دعوت ديں تو موجودہ بحراني صورت حال سے نکلنے کے لئے اپني تمام توانائي صرف کردوں گا ?

کويت ميں مراجع تقليد کے اس نمائندے نے بحرين کے داخلي معاملات ميں ايران کي ھر قسم کي مداخلت کا انکار کرتے ہوئے کہا : اسلامي جمھوريہ ايران نے ھرگز بحرين کے داخلي معاملات ميں مداخلت نہي کي بلکہ يہ ميڈيا کا بنا بنايا کھيل ہے تاھم امريکا اور انگلينڈ نے بھي بحرين کے داخلي مسائل ميں ايراني مداخلت کي بات نہي کي ہے ?

انہوں نے بحريني شيعوں کو وطن پرست بتاتے ہوئے کہا : شاہ کے زمانے ميں انجام پائي نظر سنجي ميں بحريني شيعوں نے خود کو وطن پرستي اور ايران سے عدم وابستگي کا ثبوت پيش کيا تھا اوريہ اس بات کا بيان گر ہے کہ بحرين کے شيعہ اپنے ملک سے محبت کرتے ہيں اور انہيں پسند نہي ہے کہ ان کا ملک ذرہ برابر بھي بيگانہ طاقتوں سے وابستہ رہے ?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬