28 June 2011 - 15:41
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 2949
فونت
قائد انقلاب اسلامي :
رسا نيوزايجنسي – قائد انقلاب اسلامي نے عدليہ کے سربراہ اور کارکنان سے ملاقات ميں سختيوں کے وقت بصيرت کے ساتھ صبر و تحمل کو گزشتہ تينتيس برسوں ميں ملت ايران کي مسلسل پيشرفت کا راز قرار ديا?
قائد انقلاب اسلامي

رسا نيوزايجنسي کي رھبر معظم کي خبر رساں سائٹ سے منقولہ رپورٹ کے مطابق ، قائد انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے عدليہ کے سربراہ، اعلي عہديداروں، جج صاحبان اور کارکنوں سے ملاقات ميں سختيوں کے وقت بصيرت کے ساتھ صبر و تحمل کو گزشتہ تينتيس برسوں ميں ملت ايران کي مسلسل پيشرفت کا راز قرار ديا?

قائد انقلاب اسلامي نے قدرت اور عمومي اعتماد کو عدليہ کے لئے لازمي دو اہم ستونوں سے تعبير کيا اور فرمايا کہ تينوں شعبوں (عدليہ، مقننہ، مجريہ) اور خاص طور پر عدليہ کے حکام کے اعداد و شمار، رپورٹوں اور کارکردگي پر سواليہ نشان لگانے کے لئے کسي بھي طرح کا اقدام بالکل غلط، عمومي اعتماد کے منافي اور ملکي مفادات کے برخلاف ہے? اس ہم نکتے پر تمام حکام، بااثر افراد اور ذرائع ابلاغ کي توجہ ہونا چاہئے?

ايران ميں جمہوري اسلامي پارٹي کے دفتر ميں اٹھائيس جون سنہ انيس سو اکياسي کو ہونے والے دہشت گردانہ دھماکے کي برسي کي مناسبت سے منعقدہ اس سالانہ اجتماع سے خطاب ميں قائد انقلاب اسلامي نے سانحے کے شہيدوں کو خراج عقيدت پيش کيا? اس حملے ميں عدليہ کے سربراہ آيت اللہ بہشتي اور بہتر ديگر انقلابي رہنما شہيد ہو گئے تھے?

قائد انقلاب اسلامي نے فرمايا کہ اٹھائيس جون کا واقعہ واقعي ايک بڑي آزمائش تھي ليکن ملت ايران نے عظيم الشان امام (خميني رحمت اللہ عليہ) سے ملنے والي بصيرت اور صبر و ضبط کي طاقت کے ساتھ اس آزمائش کو نعمت ميں تبديل کر ديا اور طوفان کا رخ دشمنوں کي جانب موڑ ديا?

قائد انقلاب اسلامي نے ملت ايران کے اس کامياب تجربے کو ترقي و پيشرفت کا ايک اہم عنصر قرار ديا اور فرمايا کہ معاشرے ميں اسلامي اقدار کي ترويج اور اسلامي اصولوں پر عمل آوري نيز دنيا ميں اس کي تبليغ کے عظيم مقاصد کي تکميل کے باعث ملت ايران کو ہميشہ دنيا کي جابر طاقتوں، استعماري قوتوں، ڈکٹيٹروں اور ان کي جانب سے ايجاد کي جانے والي رکاوٹوں کا سامنا رہا اور آئندہ بھي رہے گا، بنابريں بصيرت پر استوار صبر و تحمل کے ساتھ سختيوں کے مقابلے ميں ڈٹ جانے اور آزمائشوں کو ترقي و پيشرفت کي سيڑھي ميں تبديل کر دينے کي ضرورت ہے?

قائد انقلاب اسلامي نے عدليہ کے محکمہ جاتي امور پر گفتگو کرتے ہوئے فرمايا کہ عمومي اعتماد اور قدرت و استحکام عدليہ کے دو بنيادي ستون ہيں? آپ نے فرمايا کہ افرادي اور فني صلاحيتوں سے ڈھانچے کي تقويت سے اس کے اندر قدرت پيدا ہوگي ، لياقت مند، فاضل، امانت دار اور باکردار انسانوں کي تربيت کے ساتھ ہي ساتھ اختراعي اقدامات، دقت نظري کے ساتھ قانون سازي اور عقلي پيمانے پر پرکھنے کے بعد گوناگوں فني اور محکمہ جاتي ترقيہ يافتہ وسائل کا صحيح استعمال عدليہ کے اندروني استحکام اور قدرت کي تمہيد ہے?

قائد انقلاب اسلامي نے عمومي اعتماد کے حصول کے لئے عدل و انصاف کے قيام کو لازمي قرار ديا اور فرمايا کہ عدليہ کے اندر انصاف کو ہمہ گير اور دائمي حقيقت ميں تبديل کرنے کے لئے تقوا، چھوٹے بڑے واقعات کے سلسلے ميں غير جانبدارانہ نقطہ نگاہ اور قانون پر دقت نظري کے ساتھ حکيمانہ انداز سے عمل آوري لازمي ہے?

قائد انقلاب اسلامي نے الزامات کو ميڈيا ميں اچھالے جانے کو سختي سے منع کيا اور فرمايا کہ کسي پر الزام عائد ہونے کا مطلب اسے مجرم قرار دينا نہيں ہے بنابريں عدليہ کے اندر يا باہر اسي طرح ميڈيا ميں کسي کو يہ حق نہيں ہے کہ جرم کو ثابت ہونے سے قبل ميڈيا ميں پيش کرے? قائد انقلاب اسلامي نے عدليہ پر بعض افراد کے جرائم کے انکشاف کے لئے دباؤ ڈالے جانے پر بھي تنقيد کي اور فرمايا کہ جرائم کو منظر عام پر بيان کرنے کي کوئي ضرورت نہيں ہے، کسي مسلمان کي عزت اچھالنے کا حق کسي کو نہيں ہے?

آپ نے فرمايا کہ شريعت نے کچھ خاص مواقع پر ہي سزا اور سزا کي تمام تفصيلات کو منظر عام پر لانے کي اجازت دي ہے چنانچہ اگر عدالت ميں جرم ثابت ہو جاتا ہے تب بھي مجرم قرار دئے گئے شخص کا نام منظر عام پر لانے اور ميڈيا کے ذريعے اس کي تشہير کرنے کي کوئي ضرورت نہيں ہے کيونکہ اس طرح اس کے اہل خاندان کے لئے مشکلات پيش آئيں گي اور ان پر دباؤ پڑے گا?

قائد انقلاب اسلامي نے اسلامي انقلاب کي فتح کے وقت سے ليکر اب تک عدليہ ميں ہونے والي پيشرفت کا بھي ذکر کيا?

اس ملاقات ميں عدليہ کے سربراہ آيت اللہ آملي لاري جاني نے اٹھائيس جون انيس سو اکياسي کے شہيدوں کو خراج عقيدت پيش کيا اور گزشتہ دو برسوں ميں عدليہ کے اندر انجام پانے والے اقدامات کي بريفنگ دي?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬