27 November 2011 - 17:13
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 3484
فونت
قطيف عربستان کے امام جمعہ :
رسا نيوزايجنسي - قطيف عربستان کے امام جمعہ نے سعوديہ ميں ہونے والے چار بيگناہ شہيدوں کي جانب اشارہ کرتے ہوئے تاکيد کي کہ بعض اسلامي ممالک ميں مسلمانوں کا خون سستہ ہوگيا ہے ?
حجت الاسلام شيخ حسن صفار

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق، قطيف عربستان کے امام جمعہ ، حجت الاسلام شيخ حسن صفارنے گذشتہ روز شيعوں کے جمع غفير ميں مسجد امام رضا ميں روايت کے ائينے ميں اسلام ميں خون خرابے کي حرمت کو بيان کرتے ہوئے کہا : اسکے با وجود کہ اسلام ميں خون کا احترام ہے اور اس کي حرمت پہ تاکيد کي گئي ہے ھم بعض اسلامي معاشرے ميں اس بات کے شاھد ہيں کہ مسلمانوں کا خون سستہ ہوگيا ہے ، ان معاشرے کي سڑکيں مسلمانوں کے خون سے رنگين ہيں ، اسلامي ممالک کے حکمراں بڑي اساني کے ساتھ مسلمانوں کے خون بہا ديتي ہيں ، افسوس قتل عام ، دھشت گردي ، بمبلاسٹ اور مرڈر بعض اسلامي ممالک کے تحت نظر انجام پارہا ہے ?

انہوں نے سعودي انتظاميہ کے ہاتھوں قطيف کے شھريوں کے قتل عام کي شديد مذمت کرتے ہوئے کہا : ان دنوں قطيف کي عوام 4 جوانوں کي شھادت کے سبب جنہيں پوليس نے ڈائرکٹ گولي کا نشانہ بناکر شھيد کرديا اور ديگرمتعدد افراد کے زخمي ہونے کے سبب سکتے ميں ہے ، اس علاقے کے حالات بحراني اور لوگوں کے جزبات مجروح ہيں ? ميں شھيد گھرانوں کو اس نوجوان کي شھادت پر تسليت پيش کرتا ہوں اور حکومت کو اس خون خرابے کي بہ نسبت اگاہ کرتا ہوں ?

حجت الاسلام صفارنے سعودي حکومت کو پيش انے والے واقعات کي بہ نسبت خاص توجہ دينےکي تاکيد کرتے ہوئے کہا : ملک کے ليڈرس ميدان ميں اتر کر لوگوں کے دلوں کا مرحم بنکر اور ان ستم ديدہ افراد سے ھمدردي ديکھا کر جو بہت ناچيز خواھش ہے موجودہ مشکلات کے خاتمے کي کوششيں کريں ، وہ فقط شھري حقوق اور مسلکي تعصب کے خاتمے کے خواھاں ہيں تاکہ دوسرے اس موقع سے سوء استفادہ نہ کرسکيں ?

قطيف کے امام جمعہ نے بيان کيا : درد ميں بھرے بيانات جو حکمرانوں کي زبان سے نکلتے ہيں اور لوگوں کے درد کي تسکين اور مشکلات کے حل کي کوششيں عوام کو متاثر کرتي ہيں اور عقلاء و صلح طلب افراد کو حالات کو معمول پر لانے ميں مددگار ہيں ?

انہوں نے اعتراضات کو مسلکي بتائے جانے پر شديد اعتراض کرتے ہوئے تاکيد کي : حکمرانوں کا عوام کے مطالبات کو نہ سننا اور ان کے خلاف مذھبي موقف اختيار کرنے نے بحران کو نيا رخ دے ديا ہے جس سے دشمن پورا پورا فائدہ اٹھانے کي کوشش کررہا ہے ، ميں حکومت اور عوام دونوں کو با خبررہا ہوں اختلافات اور بحران دونوں کے حق ميں نقصان دہ ہے اور اس صورت ميں ملک بڑے نقصان سے روبرو ہوگا ?

شيخ حسن صفار نے بيان کيا : انتظاميہ عوام کے احساسات سے کھواڑ کرنے سے پرھيز کرے اور فورا ان سے ٹکرانے کي کوشش نہ کريں اس طرح کسي قسم کا خون نہ بہے گا ?

قطيف کے اس عالم دين نے احتجاجات کو پرامن ہونے کي تاکيد کرتے ہوئے کہا : جوانوں سے درخواست ہے کہ عرب قوم اس عرب کي بہار ميں جو کچھ بھي مصر وتيونس ويمن وبحرين ميں حاصل ہوا پرامن اعتراضات کي بنياد پر تھا ، ميں اپ سبھي سے درخواست کرتا ہوں کہ ٹکرانے سے پرھيز کريں ?

انہوں نے اخر ميں کہا : اپ سبھي حضرات حضرت مسلم بن عقيل (س) جو کربلا کے پہلے شھيد مانے جاتے ہيں کونمونہ عمل قرار ديں اور اختلافات سے اجتناب کريں ?


تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬