16 June 2012 - 18:59
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 4227
فونت
پچيس رجب ساتويں امام کي شہادت پر :
رسا نيوزايجنسي - امام رضا عليہ السلام نے فرمايا : ميرے والد امام موسي بن جعفر عليھما السلام کي زيارت ميرے جد امجد امام حسين عليہ السلام کي زيارت کي مانند ہے?
امام موسي کاظم  (ع)

شيعيان آل محمد (ص) کے ساتويں امام اور نويں معصوم باب الحوائج حضرت امام موسي بن جعفر عليہ السلام نے 25 رجب المرجب سنہ 183 ہجري کو بغداد کے جيل خانے ميں شہادت پائي? اور اس علاقے ميں سپرد خاک کئے گئے جس کو آج کاظمين يا کاظميہ کہا جاتا ہے?

امام موسي کاظم عليہ السلام کي قيد کے بارے ميں شيخ مفيد نے الارشاد ميں روايت کي ہے کہ امام عليہ السلام کي گرفتاري کا سبب عباسي بادشاہ کا وزير يحيي بن خالد بن برمک يا يحيي برمکي تھا کيونکہ ہارون نے اپنے بيٹے امين کو اپنے ايک قريبي شخص محمد بن جعفر بن اشعث کے سپرد کيا تھا جو کسي زمانے ميں خراسان کے والي رہے تھے اور يحيي برمکي کو خوف تھا کہ اگر امين خلافت سنبھالے تو جعفر بن محمد کو دربار پر مسلط کرے گا اور يحيي اور برمکي خاندان کے دوسرے افراد کو بے دخل کردے?

جعفر بن محمد شيعيان آل محمد (ص) ميں سے تھے اور امام موسي کاظم عليہ السلام کي امامت کے قائل تھے اور يحيي نے کئي بار يہ بات ہارون کے گوش گزار کرائي تھي?
يحيي نے [ايک شيطاني چال چلي اور] امام موسي کاظم عليہ السلام کے بھتيجے علي بن اسمعيل بن جعفر کو مدينہ سے بلوايا تا کہ وہ آکر ہارون کے پاس امام عليہ السلام کي بدگوئي اور عيب جوئي کرے?

امام موسي بن جعفر عليہ السلام نے علي بن اسمعيل کي مدينہ سے حرکت سے قبل، اس کو بلوايا اور فرمايا کہ وہ اس سفر سے اجتناب کرے اور اگر بغداد جانا اس کے لئے بہت ضروري ہے تو ہارون کے پاس جا کر آپ (ع) کي بدگوئي نہ کرے? علي بن اسمعيل کي آنکھوں کے سامنے دنيا کي چمک تھي اور امام عليہ السلام کے حکم کو نظر انداز کرتے ہوئے بغداد ميں يحيي برمکي کے پاس پہنچا اور يحيي نے ايک ہزار درہم دے کر اس کو خريد ليا?

ہارون اس سال حج کے لئے گيا اور مدينہ ميں امام موسي کاظم عليہ السلام اور مدينہ کے اکابرين نے اس اس استقبال کيا? ليکن ہارون نے رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي قبر شريف کے پاس کہا: يا رسول اللہ (ص) ميں آپ سے معافي مانگتا ہوں کہ ميں امام موسي بن جعفر (ع) کو قيد کرنا چاہتا ہوں کيونکہ وہ چاہتے ہيں کہ آپ کي امت کو درہم برہم کرديں اور ان کا خون بہا ديں? اور اس کے بعد حکم ديا کہ امام عليہ السلام کو مسجد سے گرفتار کيا جائے اور خفيہ طور پر بصرہ کے والي عيسي بن جعفر بن منصور کے پاس لے جايا جائے?
عيسي نے کچھ عرصہ بعد ہارون کو ايک خط لکھا کہ "موسي بن جعفر (ع) قيدخانے ميں عبادت اور نماز کے سوا کسي کام کي طرف توجہ نہيں ديتے يا کسي کو بھيج ديں کہ آپ (ع) کو اپني تحويل ميں ليں يا پھر ميں آپ (ع) کو رہا کردوں گا"?

ہارون امام عليہ السلام کو بغداد لے گيا اور فضل بن ربيع کے سپرد کيا اور کچھ دن بعد فضل سے کہا کہ امام عليہ السلام کو آزار و اذيت پہنچائے ليکن فضل نے انکار کيا چنانچہ ہارون نے امام عليہ السلام کو فضل بن يحيي بن خالد برمکي کے سپرد کيا؛ چونکہ امام عليہ السلام فضل بن يحيي کے گھر ميں نماز و عبادت و تلاوت قرآن ميں مصروف رہے چنانچہ فضل نے آپ (ع) کو آزار و اذيت دينے سے اجتناب کيا اور ہارون کو معلوم ہوا تو غضبناک ہوا چنانچہ يحيي بن خالد برمکي نے امام عليہ السلام کو "سندي بن شاہک" کے سپرد کيا اور سندي نے آپ (ع) کو قيدخانے ميں مسموم کيا? امام عليہ السلام کي شہادت زہر کي وجہ سے ہوئي تو سندي بن شاہک نے بغداد کے درباري فقہا اور اور اشراف کو بلوا کر آپ (ع) کا جسم بے جان انہيں دکھايا اور ان سے گواہي طلب کي کہ امام (ع) کے بدن پر کسي زخم يا گلا گھونٹنے کے آثار نہيں ہيں? اور اس کے بعد امام عليہ السلام کو بغداد کے علاقے "باب التبن" ميں مقبرہ قريش ميں سپرد خاک کيا? امام موسي کاظم عليہ السلام جمعہ سات صفر يا 25 رجب سنہ 183 ہجري کو 55 سال کي عمر ميں شہيد ہوئے?

(الارشاد شيخ مفيد)

امام موسي کاظم عليہ السلام کي بعض اخلاقي خصوصيات

کلام و سخن

ائمہ معصومين عليہم السلام کا شيوہ تھا کہ مخالفين ولايت اور غرض و مرض لے کر شکوک و شبہات کي ترويج کرنے والوں کو اپنے کلام سے قائل کيا کرتے تھے اور ان کا جواب لاجواب ہوتا تھا؛ کيونکہ ايسے افراد عام طور پر بادشاہوں کے درباروں سے حکم لے کر بدانديشي اور کج انديشي کي ترويج کے بدلے انعام پاتے تھے? ان ہي کج فکر دانشوروں اور دربار کے وظيفہ خواروں ميں سے ايک "نفيع انصاري" تھا?

مروي ہے کہ ايک دن ہارون نے امام عليہ السلام کو بلوايا اور امام دربارہارون ميں تشريف لے گئے? نفيع دروازے پر بيٹھا اندر جانے کا اذن پانے کا منتظر تھا کہ امام (ع) اس کے سامنے سے وقار و عظمت کے ساتھ دربار ميں داخل ہوئے?

نفيع نے اپنے قريب کھڑے عبدالعزيز بن عمر سے پوچھا: يہ باوقار شخص کون تھا؟

عبدالعزيز نے کہا: يہ علي بن ابيطالب عليہ السلام کے بزرگوار فرزند اورآل محمد (ص) ميں سے ہيں? وہ امام موسي بن جعفر عليہ السلام ہيں? نفيع جو آل رسول (ص) کے ساتھ بنوعباس کي دشمني سے آگاہ تھا، اور خود بھي آل محمد (ص) کے ساتھ بغض و عداوت رکھتا تھا، کہنے لگا: ميں نے بنو عباس سے زيادہ بدبخت کوئي گروہ نہيں ديکھا، کہ وہ ايسے فرد کے لئے اتنے احترام کے قائل ہيں کہ اگر طاقت پائے تو انہيں سرنگون کرے گا? ميں يہيں رکتا ہوں اور جب وہ باہر آئيں تو ان کے ساتھ ايسا سلوک کروں گا کہ ان کي شخصيت ٹوٹ جائے?

عبدالعزيز نے نفيع کي عداوت بھري باتيں سن کر کہا: جان لو کہ يہ ايسے خاندان سے تعلق رکھتے ہيں کہ اگر کوئي کلام کے گھوڑے پر سوار ہو کر ان پر حملہ کرے تو وہ خود پشيمان ہوتا ہے اور خجلت و ندامت کا دھبہ تا حيات ان کے ماتھے پر باقي رہتا ہے?

تھوڑي دير بعد امام عليہ السلام دربار سے باہر آئے اور اپني سواري پر بيٹھ گئے? نفيع پر عزم چہرے کے ساتھ امام عليہ السلام کے سامنے آيا اور امام عليہ السلام کے گھوڑے کي لگام پکڑ لي اور غرور آميز لہجے ميں پوچھا: تم کون ہو؟

امام عليہ السلام نے اطمينان کے ساتھ جواب ديا: اگر تم ميرا نسب پوچھ رہے ہو تو ميں محمد صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم اور ابراہيم خليل اللہ اور اسمعيل ذبيح اللہ عليہما السلام کا فرزند ہوں اور اگر ميرا وطن پوچھنا چاہتے ہو تو ميں اسي سرزمين کا رہنے والا ہوں جس کے حج و زيارت کو خداوند متعال تم پر اور تمام مسلمانوں پر فرض کرديا ہے؛ اگر ميري شہرت جاننا چاہتے ہو تو ميں اس خاندان سے ہوں جس پر صلوات و درود بھيجنا، ہر نماز ميں، خداوند متعال نے تم پر واجب کرديا ہے اور اگر تم نے فخر فروشي کي رو سے مجھ سے ميرا تعارف پوچھا ہے تو خدا کي قسم! ميرے قبيلے کے مشرکين نے تيرے خاندان کے مسلمانوں تک کو اپنے برابر نہيں سمجھا اور انھوں نے پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم سے عرض کيا کہ ان لوگوں کو ہماري طرف بھيجيں جو قبيلے کے لحاظ سے ہمارے ہم شان و ہم مرتبہ ہوں? اب تم ميرے گھوڑے کے سامنے ہٹ جاؤ اور اس کي لگام کو چھوڑ دو?

نفيع نے اپني پوري شخصيت و حيثيت کو برباد ديکھا اور اپنے غرور کو کلام امام عليہ السلام کے بھاري طوفان ميں ضائع ہوتا ہوا تھا تو ايسے حال ميں کہ اس کا ہاتھ کانپ رہا تھا اور اس کا چہرہ شدت شرمندگي سے سرخ ہورہا تھا، امام عليہ السلام کے گھوڑے کي لگام چھوڑ کر سامنے سے ہٹ گيا?

عبدالعزيز بن عمر نے ہاتھ نفيع کے کندھے پر رکھا اور طنزيہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا: اے نفيع ميں نہ کہہ رہا تھا کہ تم ان کا مقابلہ نہيں کرسکو گے?

ايک اہم سبق

امام عليہ السلام کي اخلاقي خصوصيات ميں ايک ان کي خصوصيت غيرمعمولي عفو اور درگذر سے عبارت ہے? ايک نمونہ:

مروي ہے کہ جس شہر ميں امام کاظم عليہ السلام کي رہائش تھي وہاں خلفاء کا ايک ايک عقيدتمند رہتا تھا جو امام عليہ السلام سے عجيب عداوت رکھتا تھا اور جب بھي امام عليہ السلام کو ديکھتا دشنام طرازي کرتا اور حتي بعض اوقات اميرالمؤمنين عليہ السلام کو بھي اپني بدزباني کا نشانہ بناتا تھا? ايک روز امام عليہ السلام اپنے اصحاب کے ہمراہ اس شخص کي کھيتي کے قريب سے گذرے تو اس شخص نے معمول کے مطابق دشنام طرازي کي?

امام عليہ السلام کے اصحاب غضبناک ہوئے اور امام عليہ السلام سے درخواست کي اس شخص کو سزا دينے کي اجازت ديں ليکن امام (ع) نے اس اقدام کي شدت سے مخالفت کي?
ايک دن امام عليہ السلام اس شخص کي طرف گئے اور اس سے ملاقات کرنا چاہي ليکن وہ شخص اپنے بھونڈے کردار سے باز نہ آيا اور امام عليہ السلام کو ديکھتے ہي زبان دشنام طرازي کے لئے کھول دي?

امام عليہ السلام گھوڑے سے اترے اور اس شخص کو سلام کيا تو اس نے اپني دشنام طرازي کو شدت بخشي?

امام عليہ السلام نے کشادہ روئي کے ساتھ فرمايا: اس کھيتي ميں زراعت کا خرچہ کتنا ہے؟

اس نے جواب ديا: 100 دينار؛

امام عليہ السلام نے پوچـھا: کتنا منافع کمانے کي اميد رکھتے ہو؟

اس شخص نے گستاخي اور طعنہ زني کے انداز ميں کہا: ميں علم غيب نہيں رکھتا کہ ميں اس کھيت سے کتنا منافع کماؤں گا ليکن ميرا خيال ہے کہ اس کھيتي ميں ميں 200 دينا کماؤں گا?

امام عليہ السلام نے تين سو سونے کے دينار کي ايک تھيلي اس شخص کو عطا کرتے ہوئے فرمايا: يہ لے لو اور کھيتي اور زراعت کا ماحصل بھي تمہارا، مجھے اميد ہے کہ خداوند وہ منافع بھي تمہيں عطا فرمائے جس کي تمہيں اميد ہے?

اس شخص نے شرمندہ اور حيرت زدہ ہوکر امام عليہ السلام سے تھيلي وصول کي امام عليہ السلام کا ماتھا چھوما اور اپنے بھونڈے رويئے کي معافي مانگي اور امام عليہ السلام بزرگواري سے اس شخص کي غلطياں بخش ديں?

ايک دن وہ مرد مسجد ميں حاضر ہوا اور جب اس کي نظر امام موسي کاظم عليہ السلام پر پڑي تو کہا: خدا خود ہي بہتر جانتا ہے کہ اپني رسالت کو کہاں اور کس کے دوش پر قرار دے?
اس شخص کي بات اصحاب امام (ع) کي حيرت کا سبب ہوئي؛ وہ جاننا چاہتے تھے کہ کونسي چيز اس کے رويئے ميں تبديلي کا موجب ہوئي ہے؟

اصحاب نے پوچھا: کيا ہوا؟ اس سے پہلے تو تم کچھ اور کہتے رہے ہو!

مرد عرب نے سر جھکا کر کہا: تم نے صحيح سنا ہے اور بات وہي ہے جو تم نے اب تھوڑي دير پہلے سني ہے اور ميں اس کے سوا ہرگز کچھ اور نہيں کہوں گا? اس کے بعد اس شخص نے ہاتھ اٹھائے اور امام عليہ السلام کے لئے دعا کي?

وہ مرد مسجد سے نکل گيا اور امام عليہ السلام بھي اپنے گھر کي طرف روانہ ہوئے اور راستے ميں اپنے اصحاب سے مخاطب ہوکر فرمايا: "اب بتاؤ کہ ان دو راستوں ميں‎ سے کون سا راستہ بہتر تھا؛ وہ جو تم اپنانا چاہتے تھے يا وہ جو ميں نے اپنايا؟ ميں نے اس کا مسئلہ اسي رقم سے حل کيا جو تم جانتے ہو اور اپنے آپ کو اس کے شر سے آسائش بخشي?

آراستگي اور پيراستگي

امام عليہ السلام کي ايک پسنديدہ خصوصيت ـ جو لوگوں کو آپ (ع) کي طرف جذب کرتي تھي ـ آپ کي صفائي ستھرائي اور آراستگي تھي? ان لوگوں کے برعکس جو اسلام کي بعض تعليمات و احکام ميں افراط اور زيادہ روي ميں مبتلا ہوجايا کرتے تھے اور بعض ديگر احکام و تعليمات کو سرے سے ترک کيا کرتے تھے اور آج بھي ان لوگوں کي زندہ مثاليں پانا زيادہ مشکل نہيں ہے اور ايسے کئي لوگ آج بھي ملتے ہيں جو صفائي اور حفظان صحت کے اصولوں کو عبادت کے بہانے ترک کرديتے ہيں اور بعض معاشروں ميں ان ہي لوگوں کو انتہائي قدر کي نگاہ سے ديکھا جاتا ہے اور انہيں معاذاللہ اولياء اللہ کا يا مجذوب وغيرہ جيسے القاب سے نوازا جاتا ہے!?

امام کاظم عليہ السلام کا ايک محب آپ (ع) کي خدمت ميں حاضر ہوا اور سلام کيا اور آپ (ع) کا حال پوچھا اور امام عليہ السلام کے چہرہ مبارک کي طرف غور سے ديکھا کہ آپ (ع) نے بڑي عمر کے باوجود داڑھي کو خضاب لگايا ہے اور آپ (ع) چہرہ نوجوانوں جيسا ہے?

اس شخص نے عرض کيا: ميري جان آپ پر فدا ہو، کيا آپ نے داڑھي کو خضاب لگايا ہے؟

امام عليہ السلام نے فرمايا: ہاں! کيونکہ آراستگي کے خداوند متعال کي بارگاہ ميں پاداش و ثواب ہے? اور پھر داڑھي کو خضاب لگانا، خواتين کي پاکدامني اور ازواج کي عفت کا سبب بنتا ہے? تھيں ايسي عورتيں جو اپنے شوہروں کي عدم آراستگي کي وجہ سے فساد اور گناہ ميں مبتلا ہوگئي ہيں?

صلہ رحمي کي اہميت

امام موسي کاظم عليہ السلام اپنے آباء و اجداد کي طرح صلہ رحمي کو بہت اہميت ديا کرتے تھے اور قرابت داروں کو بدترين حالات ميں بھي عزت و احترام ديتے اور ان کي مدد کرتے تھے اور دوسروں سے ان کي رعايت حال کي تلقين فرمايا کرتے تھے?

مروي ہے کہ امام صادق عليہ السلام کو سانس لينے ميں دشواري ہورہي تھي اور بستر شہادت پر آرام فرما رہے تھے? عباسي بادشاہ منصور نے آپ (ع) کومسموم کروايا تھا اور آپ (ع) اپني حيات طيبہ کے آخري لمحات سے گذر رہے تھے? بعض اصحاب اور شاگرد، قرابتدار اور دوست آپ (ع) کے ارد گرد موجود تھے اور سب اپنے عالم و دانشمند پيشوا کے فراق ميں آبديدہ تھے?

امام عليہ السلام نے اسي حال ميں اپنے بيٹے امام کاظم عليہ السلام سے نہايت دشواري کے ساتھ، وصيت فرمائي: حسن افطس کو ستر دينار دے ديں اور فلان شخص کو اتني رقم ديں اور فلان کو اتني ??? اور پھر اپنے فرزند کو وصيت فرمائي?

ساعد نامي خادم نے روتے ہوئے امام عليہ السلام سے عرض کيا: کيا آپ ايسے شخص کو رقم ديں گے جس نے آپ کے خلاف تلوار اٹھائي اور آپ کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا؟
امام عليہ السلام نے ساعد کي طرف نظر گھمائي اور فرمايا: کيا تم نہيں چاہوگے کہ ميں ان لوگوں ميں سے ہوجاؤں جن کے بارے ميں خداوند متعال نے فرمايا:"وَ الَّذين يَصِلُونَ ما أمَرَ اللّهُ بِهِ اَنْ يُوصَلَ وَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ يَخافُونَ سُوءَ الْحِسابِ"? (سورہ رعد آيت 21)?

ترجمہ: وہ [مؤمنين] ايسے لوگ ہيں کہ ان رشتوں کو قائم کرتے ہيں جن کا خداوند متعال نے حکم ديا ہے اور اپنے پروردگار سے ڈرتے ہيں اور يوم الحساب کي دشواريوں سے فکرمند ہيں?

ہاں اے ساعد! خداوند متعال نے جنت کو خلق فرمايا اور اس کو اچھي طرح خوشبو عطا فرمائي اور جنت کي دل انگيز خوشبو ايک ہزار سال کے فاصلے سے آتي اور محسوس ہوتي ہے ليکن دو قسم کے لوگ اس کو محسوس نہيں کرسکتے ايک وہ جو عاق والدين اور ماں باپ کے نافرمان ہيں اور ايک وہ لوگ جو صلہ رحمي کو منقطع کرتے ہيں [اور اپنے رشتہ داروں سے رشتہ کاٹ ديتے ہيں]?

شيخ مفيد اپني کتاب الارشاد کے صفحہ 575 پر رقمطراز ہيں کہ امام موسي کاظم عليہ السلام خوف خدا سے اس قدر روتے تھے کہ آپ کي داڑھي آنسؤوں سے تر ہوجاتي تھي اور سب سے زيادہ صلہ رحمي اور قرابتداروں سے ميل ملاقات کو اہميت ديتے اور اس کا اہتمام فرمايا کرتے تھے? راتوں کو مدينہ منورہ کے بے نواؤں کي ضروريات پوري کرتے اور ان کي دلجوئي کرتے تھے اور ان کے لئے نقد رقم اور آٹے اور کھجوروں کے زنبيل لے جايا کرتے تھے اور انہيں معلوم نہيں تھا کہ يہ عطيات کس بزرگ کي طرف سے ان کے لئے ارسال کئے جارہے ہيں?

مظلوموں اور محروموں کي مدد گناہوں کا کفارہ

معاشرے کے محرومين، محتاجوں اور ظلم و ستم کا شکار ہونے والے افراد کي مدد ائمہ طاہرين عليہم السلام کي زندگي کے اٹل اصولوں ميں سے تھي اور امام کاظم عليہ السلام اسي بنا پر ان کي مادي، اخلاقي اور روحاني مدد فرمايا کرتے تھے اور اپنے دوستوں، جاننے والوں اور قرابتداروں کے احوال سے آگاہ رہنے کے لئے کوشاں تھے اور ان سے ملنے اور ان کے مسائل حل کرنے کي کوشش فرمايا کرتے تھے تا کہ ان کے حالات سے پوري طرح آگاہ رہيں اور حتي الوسع ان کے معاشي مسائل حل کريں جيسا کہ امام کاظم عليہ السلام سميت رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم اور ائمہ ہدايت عليہم السلام کي حديثوں ميں بھي يہ رجحان بڑي وضاحت کے ساتھ بيان مورد تاکيد قرار پايا ہے? امام عليہ السلام ہر موقع و مناسبت سے مسلمانوں کو مدد پہنچانے کے سلسلے ميں استفادہ کيا کرتے تھے اور عباسي گھٹن کے دور ميں آپ (ع) کي اہم ترين سفارش يہ تھي کہ مؤمنين اور مظلومين کي مدد گناہوں کا کفارہ ہے?

زياد بن ابي سلمہ کا ماجرا

مروي ہے کہ امام کاظم عليہ السلام کے محبين ميں سے "زياد بن ابي سلمہ" کے ہارون عباسي کي مشينري سے بھي قريبي تعلقات تھے?

ايک دن امام عليہ السلام نے زياد سے فرمايا: اے زياد بن ابي سلمہ! ميں نے سنا ہے کہ تم ہارون الرشيد کے لئے کام کرتے ہو اور اس کي حکومت کے ساتھ تعاون کرتے ہو؟!
زياد نے عرض کيا: ہاں! ميرے سيد و سرور?

امام عليہ السلام نے فرمايا: کيوں؟

زياد نے کہا: ميرے مولا! ميں ايک آبرومند انسان ہوں ليکن تہي دست اور محتاج ہوں اور اپنے خاندان کي ضروريات پوري کرنے کے لئے کام کرنا ميري مجبوري ہے?

امام عليہ السلام نے ناراضگي کا اظہار کرتے ہوئے فرمايا: اگر ميں اونچائي سے گر جاؤں اور ميرے بدن کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائيں تو يہ ميرے لئے اس سے کہيں بہتر ہے کہ ظالموں کے امور انجام دوں يا ان کے بچھونوں پر ايک قدم رکھوں؛ سوائے ايک صورت کے! کيا جانتے ہو کہ وہ کون سي صورت ہيں؟

زياد نے عرض کيا: نہيں ميري جان آپ پر فدا ہو?

فرمايا: ميں ہرگز ان کے ساتھ تعاون نہيں کرتا مگر يہ کہ ايسا کرکے کسي مؤمن کے دل سے غم کا بوجھ ہلکا کروں يا اس کي کوئي مشکل حل کروں يا اس کا قرض ادا کرکے پريشاني کے آثار اس کے چہرے سے مٹا دوں?

اے زياد! خداوند متعال ظالموں کے مددگاروں کے ساتھ جو کم از کم سلوک روا رکھتا ہے وہ يہ ہے کہ انہيں آگ کے تابوت ميں بند کرديتا ہے حتي کہ روز حساب آن پہنچے اور قيامت بپا ہوجائے?

اے زياد! جب بھي ان ظالموں کے کسي کام کو اپنے ذمے ليتے ہو اپنے بھائيوں سے نيکي کرو اور ان کي مدد کرو تا کہ يہ تمہارے کاموں کا کفارہ ہو? جب تم قوت و طاقت حاصل کرو تو جان لو کہ تمہارا خدا بھي قيامت کے دن صاحب قوت و اقتدار ہے اور جان لو کہ تيري نيکياں گذرجاتي ہيں اور ممکن ہے کہ لوگ تمہاري نيکيوں کو بھول جائيں ليکن خدا کے ہاں وار تمہاري قيامت کے لئے محفوظ اور باقي رہيں گي?

علي بن يقطين کا ماجرا

ہارون عباسي کے دربار ميں امام موسي کاظم عليہ السلام کے دوسرے صحابي "علي بن يقطين" تھے? وہ کئي بار امام عليہ السلام کي خدمت ميں حاضر ہوئے تھے تا کہ عباسي بادشاہ کے دربار سے اپنا تعلق منقطع کريں ليکن امام عليہ السلام انہيں اجازت نہيں دے رہے تھے؛ کيونکہ امام عليہ السلام جانتے تھے کہ وہ اہل بيت رسول صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے حقيقي حبدار ہيں? ايک بار وہ اسي نيت سے امام عليہ السلام کي خدمت ميں حاضر ہوئے اور ہارون کے دربار سے اسعتفا دينے کي اجازت مانگي تو امام عليہ السلام نے شفقت کے ساتھ فرمايا: ايسا مت کرو? ہم آپ کو پسند کرتے ہيں اور آپ کو دوست رکھتے ہيں؛ ہارون کے دربار ميں تمہاري ملازمت تمہارے بھائيوں کي آسودگي کا سبب ہے؛ اميد ہے کہ خداوند متعال تمہاري وجہ سے پريشانياں برطرف فرمائے اور ان کي دشمنيوں اور سازشوں کي آگ کو ٹھنڈا کردے?

علي بن يقطين جو امام عليہ السلام کا کلام قطع نہيں کرنا چاہتے گويا سراپا توجہ بن کر سن رہے تھے?

امام عليہ السلام نے فرمايا: اے علي بن يقطين! جان لو کہ ظالموں کے دربار ميں ملازمت کا کفارہ محرمين کا حق لينا ہے? تم مجھے ايک چيز کي ضمانت دو ميں تمہيں تين چيزوں کي ضمانت دوں گا؛ تم وعدہ کرو کہ جب بھي کوئي مؤمن تم سے رجوع کرے اس کي ہر حاجت اور ہر ضرورت پوري کرو گے؛ اس کا حق اس کو دلاؤگے اور اس کے ساتھ احترام کے ساتھ پيش آؤگے ميں بھي ضمانت ديتا ہوں کہ تم کبھي بھي گرفتار نہ ہوگے، ہرگز دشمن کي تلوار سے قتل نہ کئے جاؤگے اور کبھي بھي تنگدستي اور غربت کا سے شکار نہ ہوگے?

جان لو کہ جو بھي مظلوم کا حق اس کو دلا دے اور اس کو دل کو خوش کرے سب سے پہلے خداوند متعال اور پھر رسول خدا صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم اور پھر ائمہ عليہم السلام سے اس سے راضي اور خوشنود ہونگے?

علم و دانش کا خورشيد جہانتاب

امام موسي کاظم عليہ السلام دوسرے ائمہ معصومين (ع) کي طرح آسمان دانش پر خورشيد عالمتاب کي مانند پرتو افگن تھے? تمام علمي مسائل کا احاطہ اور کامل و شامل جواب، آپ (ع) کے علمي مقام و منزلت کے ہزاروں نکتوں ميں سے ايک تھا?

"بريہہ" نامي عيسائي عالم اس زمانے کے عيسائيوں کے لئے فخر و اعزاز کا سرمايہ سمجھے جاتے تھے؛ وہ کچھ عرصے سے اپنے عقائد ميں تردد کا شکار ہوئے تھے اور حقيقت کي تلاش ميں مصروف تھے اور اس سلسلے ميں کوئي دقيقہ فروگذاشت نہيں کيا کرتے تھے?

کبھي کبھي مسلمانوں کے ساتھ اپنے ذہني سوالات کے بارے ميں بحث بھي کرنے لگتے تھے ليکن پھر بھي محسوس کرتے تھے کہ گويا انہيں ان کے سوالات کا جواب نہيں مل سکا ہے اور جو کچھ وہ چاہتے ہيں اس کو کہيں اور تلاش کرنا چاہئے?

ايک دن بريہہ کچھ شيعہ افراد سے ملے تو انھوں نے انہيں امام صادق عليہ السلام کے شاگر ہشام بن حَکَم کا پتہ ديا جو علم عقائد کے زبردست استاد تھے? ہشام کي کوفہ ميں دکان تھي اور بريہہ بعض عيسائي دوستوں کے ہمراہ ان کي دکان پر پہنچے جہاں ہشام چند افراد کو قرآن سکھا رہے تھے? دکان ميں داخل ہوئے اور آنے کا مقصد بيان کيا?

بريہہ نے کہا: ميں نے بہت سے مسلمان دانشوروں کے ساتھ مناظرے اور مباحثے کئے ہيں ليکن کسي نتيجے پر نہيں پہنچ سکا ہوں! اب ميں آيا ہوں کہ آپ کے ساتھ اعتقادي مسائل کے بارے ميں بات چيت کروں?

ہشام نے کشادہ روئي کے ساتھ کہا: اگر آپ مجھ سے حضرت عيسي عليہ السلام کے معجزات کي توقع رکھتے ہيں تو ميرے پاس وہ طاقت نہيں ہے?

ہشام نے مزاحيہ انداز ميں بات کا آغاز کيا تو اس کا اثر مثبت ثابت ہو اور بريہہ نے ابتداء ميں اسلام کي حقانيت کے بارے ميں بعض سوالات پوچھے اور ہشام نے اپني قوت اور علم و دانش کي حد تک صبر اور حوصلے کے ساتھ جواب ديا اور اس کے بعد ہشام کي باري آئي تو انھوں نے بھي چند سوالات اٹھائے ليکن بريہہ بے بس ہوگئے اور اطمينان بخش جواب نہ دے سکے?
بريہہ کو گويا وہ آدمي مل چکا تھا جس کي انہيں ضرورت تھي چنانچہ دوسرے دن بھي ہشام کي دکان پر گئے، ليکن اس بار وہ تنہا تھے اور ہشام سے پوچھا: اتني قابليت اور دانائي کے باوجود بھي کيا آپ کے استاد بھي ہيں؟

ہشام نے کہا: بے شک ميرے استاد ہيں?

بريہہ نے کہا: وہ کون ہيں اور کہاں رہتے ہيں اور ان کا پيشہ کيا ہے؟

ہشام نے ان کا ہاتھ پکڑ ليا اور انہيں اپنے برابر ميں بٹھايا اور امام صادق عليہ السلام کي منفرد اخلاقي خصوصيات ان کے لئے بيان کيں? انھوں نے امام جعفر صادق عليہ السلام کے نسب، بخشش، علم و دانش، شجاعت اور عصمت کے بارے ميں تفصيل سے بات کي اور پھر بريہہ کے قريب ہوکر کہا: "اے بريہہ! خدا نے اپني جو بھي حجت گذشتہ لوگوں کے لئے آشکار فرمائي ہے، ان لوگوں کے لئے بھي آشکار فرماتا ہے جو ان کے بعد آنے والے ہيں اور خدا کي زمين کبھي بھي حجت خدا سے خالي نہيں ہوتي? ہشام نے انہيں بتايا کہ ان کے استاد حضرت امام صادق عليہ السلام مدينہ منورہ ميں سکونت پذير ہيں?

بريہہ اس روز سراپا سماعت تھے اور ہمہ تن گوش؛ ان کو آج تک اتني ساري دلچسپ باتيں سننے کو نہيں ملي تھيں چنانچہ سن رہے تھے اور ذہن نشين کررہے تھے? بريہہ گھر لوٹے تو بہت خوش تھے اور نہايت خندہ پيشاني کے ساتھ اپني بيوي کو آواز دي کہ جلدي سے مدينہ کے سفر کے لئے تيار ہوجاؤ؛ ہشام بن حکم نے بھي اس سفر ميں ان کا ساتھ ديا? سفر بہت دشوار اور مشکل تھا ليکن امام کے ديدار کي اميد سختيوں کو آسان کررہي تھي? آخر کار سب مل کر مدينہ منورہ ميں داخل ہوئے اور فوري طور پر امام صادق عليہ السلام کي خدمت ميں حاضر ہوئے?

امام عليہ السلام سے ملاقات کا شرف حاصل کرنے سے قبل، انہيں امام موسي کاظم عليہ السلام کي زيارت نصيب ہوئي? ہشام نے بريہہ کے ساتھ اپني شناسائي کا ماجرا کہہ سنايا تو امام موسي کاظم عليہ السلام نے فرمايا: تم اپنے دين کي کتاب (انجيل) سے کس قدر واقف ہو؟

بريہہ نے کہا: انجيل سے آگاہ ہوں?

امام کاظم (ع) نے فرمايا: آپ کس قدر مطمئن ہيں کہ تم نے اس کے معاني کو صحيح طرح سے سمجھ ليا ہے؟

بريہہ نے کہا: ميں بہت زيادہ مطمئن ہوں کہ ميں نے اس کے معاني کو درست سمجھ ليا ہے?

امام کاظم عليہ السلام نے انجيل کے بعض کلمات بريہہ کے لئے بيان کئے? بريہہ يہ ديکھ کر کلام امام (ع) کے شيدائي ہوگئے اور زمان و مکان کو بھول گئے اور يہ بھي بھول گئے کہ انھوں نے اتنا لمبا راستہ طے کيا ہے? امام عليہ السلام کے کلام مبارک سے اس قدر متأثر ہوئے اور اسلام کي عظمت اور حقانيت اس قدر ان کے لئے آشکار ہوئي کہ بحث کو جاري رکھنے اور مزيد سوالات پوچھنے اور جوابات ميں ليت و لعل کرنے کي بجائے اپنے باطل عقائد کو ترک کرکے مسلمان ہوگئے? بريہہ کے اسلام لانے کي خاص بات يہ تھي کہ ابھي اس زمانے کے امام حضرت جعفر بن محمد صادق عليہ السلام کي خدمت ميں نہيں پہنچے تھے کہ آپ ( ع) کے نوجوان فرزند امام ہفتم حضرت امام موسي بن جعفر عليہ السلام کے ہاتھوں مسلمان ہوگئے?
بريہہ نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کرنے کے بعد کہا: ميں پچاس برسوں سے آپ کي طرح کے آگاہ فرد، حقيقي عالم اور دانشمند استاد کي تلاش ميں ہوں?

?????????

حوالہ جات:
1? بحارالانوار، ج48، ص143؛ مناقب آل ابي طالب، ج3، ص431?
2? شيخ مفيد، محمد بن محمد بن النعمان، الارشاد في معرفة الحجج الله علي العباد، برگردان: سيّد هاشم رسولي محلاتي، تهران، دفتر نشر فرهنگ اسلامي، چاپ چهارم، 1378 ش، ج 2، ص 327?
3? بحارالانوار، ج 72، ص 100?
4? بحار، ج 71، ص 96?
5? بحار، ج 48، ص 172?
6? بحار، ج 48، ص 136؛ ج 75، ص 379 (با اندک تفاوت)?
7? الاصول من الکافي، ج 1، ص 227، ح 1?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬