01 April 2017 - 19:42
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 427242
فونت
پاکستان میں ایرانی سفیر :
پاکستان میں ایرانی سفیر نے یہ کہتے ہوئے کہ اسلامی ممالک انتشار کی صورتحال سے دوچار ہیں، حالات میں بہتری کیلئے ایران اور پاکستان موثر کردار ادا کرسکتے ہیں کہا: دہشتگردی عالمی مسئلہ، یہ کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہے دہشتگردی کسی بھی قسم کی ہو بری ہے ۔
مہدی ہنر دوست

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، پاکستان میں ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست نے اپنے بیان میں یہ کہتے ہوئے کہ اسلامی ممالک انتشار کی صورتحال سے دوچار ہیں، حالات میں بہتری کیلئے ایران اور پاکستان موثر کردار ادا کرسکتے ہیں کہا: دہشتگردی عالمی مسئلہ، یہ کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہے  دہشتگردی کسی بھی قسم کی ہو بری ہے ۔

مہدی ہنر دوست نے کہا:  دو ملکوں کے درمیان کوئی بھی تنازعہ یا کشیدگی نہ صرف دونوں ملکوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے، بلکہ اسکے خطے میں دیگر ملکوں کی معیشتوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ خطے میں پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنانے کیلئے ان تنازعات اور تناو کی صورتحال کا خاتمہ ضروری ہے۔
 
انہوں‌ نے کہا : انکا ملک پاکستان اور بھارت کیساتھ اپنے خصوصی تعلقات اور اثر و رسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر دونوں ملکوں کے مابین پھر ثالثی کیلئے تیار ہے، جس سے خطے میں پائیدار امن و استحکام کو فروغ ملے گا۔ ایرانی حکومت اس سلسلے میں کسی بھی تعاون کیلئے اپنی آمادگی کا اعلان کر چکی ہے۔

ایرانی سفیر نے کہا : یہ بات صحیح ہے کہ بعض قوتین خطے میں اپنی موجودگی اور مداخلت کیلئے اس قسم کے تنازعات کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔

انہوں ‌نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا : دہشت گردی عالمی مسئلہ بن چکا ہے اور یہ کسی ایک ملک تک محدود نہیں۔ دہشت گردی کسی بھی قسم کی ہو، بری ہے۔

مہدی ہنر دوست نے او آئی سی کے کردار سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا : اس وقت کئی اسلامی ممالک انتشار کی صورتحال سے دو چار ہیں، ہمیں انکی حالت بہتر کرنے کیلئے کوششیں کرنا چاہئے۔ اس اہم کام کی ذمہ داری بڑے اسلامی ملکوں پاکستان اور ایران کے کندھوں پر ہے۔

انہوں نے کہا : اس وقت اسلامی دنیا کو کثیر الجہتی مسائل کا سامنا ہے۔ پاکستان اور ایران کے قریبی دوستانہ اور برادرانہ تعلقات ہیں۔ سی پیک سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک عظیم منصوبہ اور یہ نہ صرف چین اور پاکستان بلکہ تمام خطے کیلئے فائدہ مند ہے۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬