13 April 2017 - 20:16
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 427476
فونت
بشار اسد :
شام کے صدر جمہور نے کہا : شام حالیہ واقعے کی شفاف تحقیقات کے لئے ایک بین الاقوامی غیر جانبدرار تحقیقی کمیٹی کے ساتھ تعاون کرنے پر تیار ہیں۔
بشار اسد

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق شام کے صدر جمہور بشار اسد نے اپنے ایک گفت و گو میں بیان کیا : خان شیخون علاقے میں کیمیائی حملے کا واقعہ سو فیصد ٹوپی ڈرامہ ہے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا : شام کے پاس ایسا کوئی کمیائی ہتھیار نہیں اور وہ حالیہ واقعے کی شفاف تحقیقات کے لئے ایک بین الاقوامی غیر جانبدرار تحقیقی کمیٹی کے ساتھ تعاون کرنے پر تیار ہیں۔

شام کے صدر جمہور نے بیان کیا : شامی ایئربیس الشعیرات پر گزشتہ ہفتے امریکی حملے سے شام میں دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشن پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور شامی فوج دہشتگردوں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھی ہے ۔

شام کے حوالے سے امریکی مؤقف پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر بشار اسد نے تاکید کی : امریکہ شام کے مسئلے کا پرامن حل پر سنجیدہ نہیں اور وہ شام پر جارحیت کرکے دہشتگردوں کو مدد کرنا چاہتا ہے۔

یاد رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حجت الاسلام حسن روحانی نے شام میں مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کے لئے بین الاقوامی غیر جانبدرار تحقیقی کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے مرکز پینٹاگون نے بتایا تھا کہ مشرقی بحیرہ روم میں بحری بیڑے سے تقریبا 59 ٹام ہاک کروز میزائل سے شام کے ایک ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے شام پر فضائی حملے کے دوران کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے جس کی شامی حکومت نے سختی سے تردید کی ہے۔

شام پر امریکہ کی فوجی کاروائی کی بعض ممالک نے مذمت کی ہے جبکہ بعض ممالک بشمول سعودی عرب اور ترکی نے اس اقدام کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ صیہونی حکومت کو شام میں بشار اسد کی حکومت سے سخت خطرہ ہے اس لئے اس کی پالیسی کے تحت کسی بھی صورت میں بشار اسد کی حکومت ختم ہو جانی چاہیئے لہذا اسی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے خطے اور مغربی ممالک اور امریکا بشار اسد حکومت کو تباہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے ۔/۹۸۹/ف۹۳۰/ک۳۹۸/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬