18 April 2017 - 14:50
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 427575
فونت
سرگئی لاوروف :
روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ شام پر امریکہ کے میزائل حملے سے سفارتی طریقے سے بحران کا عمل تعطل سے دوچار ہو گیا۔
روسی وزارت خارجہ

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ماسکو میں ایک پریس کانفرنس سے اپنے خطاب میں صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ شام میں الشعیرات ایربیس پر امریکہ کے میزائل حملے سے صرف صورت حال مزید پیچیدہ ہوئی ہے جس سے بحران شام کے سیاسی حل کی کوششیں بھی بری طرح سے متاثر ہوئی ہیں۔

روس کے وزیر خارجہ نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ بعض علاقائی و بین الاقوامی فریق، شام کی موجودہ صورت حال سے غلط فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں، کہا کہ روس نے بارہا تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ شام میں حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق کئے جانے والے دعوے کے بارے میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں مکمل طور پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے جانے کی ضرورت ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ شام میں اندرون و بیرون ملک مخالفین ہوں یا بحران شام کے علاقائی و غیر علاقائی فریق ہوں، سب موجودہ صورت حال سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے اس ملک کی بشار اسد حکومت کو بحران کا ذمہ دار قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ یہ طریقہ نادرست اور خطرناک ہے۔

لاوروف نے اسی طرح شمالی کوریا کے خلاف امریکہ کی یکطرفہ کارروائی کی دھمکی کو بھی غلط طریقہ قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ امریکہ، شام میں یکطرفہ اقدام کی مانند شمالی کوریا میں ایسا اقدام کرنے کی کوئی غلطی نہیں کرے گا۔

روس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ جس راستے پر چل رہا ہے وہ بہت زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ماسکو، شمالی کوریا کی جانب سے ایٹمی و میزائل تجربات کو جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہیں، قابل قبول نہیں سمجھتا تاہم اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہوتا کہ امریکہ بین الاقوامی قوانین کو پیروں تلے روندنا شروع کردے۔

لاوروف نے کہا کہ روس کو امید ہے کہ امریکہ، شام میں الشعیرات کی مانند کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔اس سے قبل امریکی نائب صدر نے شمالی اور جنوبی کوریا کی سرحدوں کا معائنہ کرتے ہوئے دھمکی دی کہ پیونگ یانگ کے مقابلے میں واشنگٹن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران دنیا نے شام اور افغانستان میں امریکی طاقت اور صدر ٹرمپ کے سنجیدہ اقدامات کا مشاہدہ کیا ہے اور بہتر یہ ہوگا کہ شمالی کوریا بھی اس بات کو سمجھے اور امریکی طاقت کا اندازہ لگا لے۔

دوسری جانب سے شمالی کوریا نے جزیرہ نمائے کوریا کی کشیدہ صورت حال کے پیش نظر پہلی بار خصوصی آپریشنل فورس تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔

شمالی کوریا کی یہ خصوصی فورس اپنے ملک کے رہنما کیم جونگ اون کی ہدایات پر عمل شروع کرے گی۔ شمالی کوریا کی جانب سے یہ اقدام جنوبی کوریا اور امریکہ کی جانب سے خصوصی فورس تشکیل دیئے جانے کے ردعمل کے طور انجام دیا گیا ہے۔

شمالی کوریا نے تاکید کے ساتھ اعلان بھی کیا ہے کہ وہ امریکی جارحیت یہاں تک کہ ایٹمی حملے کا ایٹمی حملے سے جواب دینے کے لئے مکمل آمادہ ہے۔

یہ ایسے میں ہے کہ روس اور چین، جزیرہ نمائے کوریا میں امریکی فوجی نقل و حرکت پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں۔جبکہ جاپان کے ایک اخبار نے لکھا ہے کہ چین نے روس سے اپیل کی ہے کہ وہ شمالی کوریا کے مسئلے پر ممکنہ طور پر رونما ہونے والے المیے کی روک تھام کرے۔

جاپان کے اس اخبار کے مطابق روس اور چین نے صورت حال پر مکمل نظر اور اطلاعات رکھنے کے لئے اپنی فوجی کشتیوں کو جزیرہ نمائے کوریا میں امریکی بحری بیڑے کی جانب روانہ کر دیا ہے۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬