‫‫کیٹیگری‬ :
19 April 2017 - 14:55
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 427601
فونت
اب ہر طرف یہ مصلحین ہیں اور ریاست کی رٹ۔۔۔ اب ہر سو یہ غیور ہیں اور کیڑوں کی طرح رینگتے ہوئے کافر و مشرک و ملحد و بے غیرت۔۔۔ اب ہر سمت یہ پارسا ہیں اور اولیائے کرام کے مزارات پر دعائیں کرنے والے بے دین۔۔۔ اب ہر جگہ یہ مجاہدین ہیں اور تعلیمی درسگاہوں کا تقدس۔۔۔۔ بس اب تو خاموشی سے اللہ ہی اللہ کریں ۔۔۔ ورنہ اگر آپ نے لب کشائی کی جسارت کی تو آپ بھی گناہ کبیرہ کے مرتکب ہو جائیں گے۔
نذر حافی

تحریر: نذر حافی

اللہ ہی اللہ کیا کرو۔۔۔۔۔

 اللہ ہی اللہ کیا کرو۔۔۔۔۔

 ہر وقت ہر دم *اللہ ہی اللہ* صرف اللہ فقط اللہ * یہ درس ہے میرے دینی مدارس اور یونیورسٹیوں کے مصلحین و اکابرین کا۔ لیکن سچ بات یہ ہے کہ کوئی اللہ کو بڑا مانے یا نہ مانے، اس سے انہیں کوئی غرض نہیں اور ہاں ان کے نزدیک بہتر یہی ہے کہ لوگ *اللہ سبحانہ* کو بڑا ماننے کے بجائے انہیں اور ان کی تنظیموں اور پارٹیوں کو بڑا مانیں، لوگ اللہ کی طاقت کی بجائے ان کی طاقت کے نعرے لگائیں۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ جس دن لوگوں نے *اللہ* کو بڑا مان لیا، اس روز روئے زمین پر کوئی کسی پر تشدد نہیں کرے گا اور کوئی پارٹی  یونیورسٹیوں کے ہاسٹلز میں دہشت گردوں کو پناہ نہیں دے گی۔

اچھا تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ میرے مدارس کے مصلحین اور میری یونیورسٹیوں کے متقین کا متفقہ فیصلہ ہے کہ چاہے خود تم اللہ کو بڑا مانو یا نہ مانو، لیکن ہماری خاطر ہر جگہ  *اللہ اکبر*  کے نعرے ضرور لگاو! آخر یہ بھی تو خدمت خلق ہے۔ جی ہاں خدمت خلق چونکہ آخر کچھ *لوگوں کا پیٹ* تو انہی نعروں سے بھرتا ہے اور کچھ لوگوں کو ووٹ بھی انہی نعروں سے ملتے ہیں۔ اب اگر کچھ لوگ ان نعروں کی بھینٹ چڑھ بھی جائیں تو کونسی قیامت آجاتی ہے، خس کم جہاں پاک۔۔۔۔
ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ میرے بھائیو! وقت کی آواز یہی ہے کہ ہر جگہ اللہ کی بڑائی کا اعلان کیجئے اور *ملک کے قانون، یونیورسٹی کے تقدس، فوج و پولیس کے تقدس اور بے گناہوں کے خون کی حرمت کو پامال کیجئے* ۔۔۔ آخر یہ سب کچھ کرنے سے کسی کی توہین یا کسی کی شان میں گستاخی تو نہیں ہوتی۔ یہ کتنی اچھی اور پاک و پاکیزہ سیاست ہے کہ ہر جگہ اعلان کرو کہ اللہ سب سے بڑا ہے، بار بار اعلان کرو، اللہ اکبر کے اتنے نعرے لگاو کہ لوگ تمہیں *اللہ کا نمائندہ* سمجھنے لگیں۔

جب لوگ تمہیں اللہ کا نمائندہ سمجھنے لگیں تو پھر کسی کو اپنے سامنے *سر اُٹھانے کی اجازت مت دو۔*
بازار کے ہر چوک اور گلی کے ہر موڑ پر جلاد بٹھا دو۔
تعزیرات اور فتووں کی بارش کر دو۔
جو سر اُٹھا کر چلے وہ سر کاٹ دو۔۔۔۔
جس گھر سے تمہارے خلاف آواز اٹھے، اس گھر کو آگ لگا دو۔۔۔۔
جس بدن میں سرکشی کی لہر دکھائی دے، اُسے سنگسار کر دو۔۔۔۔
جو تمہاری تنظیم اور طاقت کا کفر کرے، اس کافر کو نشان عبرت بنا دو۔۔۔ کسی کو احمدی، کسی کو قبر پرست، کسی کو لبرل، کسی کو مشرک، کسی کو ملحد، کسی کو گستاخ، کسی کو شیعہ ۔۔۔ سب کو مار دو، سب کو مار دو کہ یہی اصلاح کا سیدھا اور سادہ راستہ ہے۔

اگر مارو مارو کے مناظر دیکھنے والے لوگ چیخیں تو لوگوں کو *توحید کے درس دو* اور انہیں بتاو کہ خبردار ہم سے نہ الجھنا *ہم اللہ والے ہیں*، *نعرہ تکبیر والے ہیں*۔۔۔۔
ہم تمہیں اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں، نماز کی طرف، روزے کی طرف، جہاد کی طرف اور حج کے ساتھ ساتھ ریال اور ڈالر کی طرف دعوت دیتے ہیں۔۔۔۔

جو ہمارے خلاف چیخے، وہ گویا اللہ کے خلاف چیخا ہے* اور آج کے بعد جو اللہ کے خلاف چیخے گا *اس کی زبان* کاٹ دی جائے گی اور اس کی لاش کو درخت پر لٹکایا جائے گا۔۔۔ اس لئے کہ اللہ کے خلاف چیخنا گناہ ہے، *گناہ کبیرہ* ہے۔۔۔۔۔

یہ *اللہ کی مرضی* ہے کہ اس نے ہمیں اپنا نمائندہ بنایا ہے، ہم اس کا قانون نافذ کر رہے ہیں، لہذا ہم سے الجھنا مہنگا پڑے گا۔۔۔

یہ کہہ کر میرے مصلحین نے نسل نو کے ہاتھوں میں، منشیات، کلاشنکوف، پسٹل اور پتھر تھما دیئے اور انہیں اناً فاناً متقی، مومن اور مجاہد بنا دیا۔۔۔۔

ویسے بھی جس کے پاس، منشیات اور اسلحہ ہو تو اسے دوسرے لوگ کیڑے مکوڑے ہی نظر آتے ہیں۔ اب ہر طرف اسلحہ بردار یہ متقی اور مومن ہیں اور نہتے لوگوں کی جان و مال۔۔۔۔

اب ہر طرف یہ مصلحین ہیں اور ریاست کی رٹ۔۔۔ اب ہر سو یہ غیور ہیں اور کیڑوں کی طرح رینگتے ہوئے کافر و مشرک و ملحد و بے غیرت۔۔۔ اب ہر سمت یہ پارسا ہیں اور اولیائے کرام کے مزارات پر دعائیں کرنے والے بے دین۔۔۔ اب ہر جگہ یہ مجاہدین ہیں اور تعلیمی درسگاہوں کا تقدس۔۔۔۔

بس اب تو خاموشی سے اللہ ہی اللہ کریں ۔۔۔ ورنہ اگر آپ نے لب کشائی کی جسارت کی تو  آپ بھی گناہ کبیرہ کے مرتکب ہو جائیں گے۔/۹۸۸/ ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬