‫‫کیٹیگری‬ :
10 June 2017 - 19:30
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 428484
فونت
آیت الله اعرافی:
ایرانی حوزات علمیہ کے سربراہ نے یہ کہتے ہوئے کہ صبر مشکلات پر غالب آنے کا وسیلہ ہے کہا: مشکلات کے روبرو ہمیں ایک فولادی ارادے کی ضرورت ہے ، انسان صبر کی طاقت سے مشکلا اور اپنی راہ میں موجود روکاوٹوں سے گذرسکتا ہے ۔
 آیت الله علی رضا اعرافی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق ، ایرانی حوزات علمیہ کے سربراہ آیت الله علی رضا اعرافی نے یوم ولادت حضرت امام حسن مجتبی(ع) کے موقع پر مسجد حضرت فاطمہ زهرا(س) کے ثقافی سیکشن کے افتتاحیہ کے پروگرام کہا : مجھے بخوبی یاد ہے کہ حضرت آیت الله خز علی اس مسجد میں تفسیر کا درس دیا کرتے تھے ۔

شھر قم کے امام جمعہ نے سوره مبارکہ آل عمران کی آخری آیات کی جانب اشارہ کیا اور کہا: ماه مبارک رمضان استقامت اور صبر و تحمل کی تمرین کا مہینہ ہے ، اس آیت میں مومنین سے خطاب میں انہیں چار حکم دیئے گئے ہیں ، پہلے حکم میں اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ تم اپنی زندگی میں صبر و تحمل سے کام لو ۔

انہوں نے مزید کہا: صبر و تحمل کی راہ میں اس بات پر توجہ ضروری ہے کہ جس راہ میں آپ کے قدم اٹھائیں گے ممکن ہے اس راہ میں مشکلات موجود ہوں ، طالب علم اور دیگر علم کے تشنہ افراد کی علمی ترقی کی راہ میں یقینا مشکلات موجود رہتی ہیں مگر اس سے صبر و تحمل کے ذریعہ گذرنا ضروری ہے ۔

ایرانی حوزات علمیہ کے سربراہ نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ صبر مشکلات پر غالب آنے کا وسیلہ ہے کہا: مشکلات کے روبرو ہمیں ایک فولادی ارادے کی ضرورت ہے ، انسان صبر کی طاقت سے مشکلات اور اپنی راہ میں موجود روکاوٹوں سے گذرسکتا  ہے ۔

انہوں نے مزید کہا: ماه مبارک رمضان استقامت کی تمرین کا مہینہ ہے ، کمزور ارادے کے لوگ مشکلات مقابل بہت جلد ہار جاتے ہیں ، شدید گرمی میں روزہ رکھنے والا اور مشکلات کو برداشت کرنے والا انسان ، استقامت پسند، صابر اور قوی ارادہ کا مالک انسان ہے ۔

آیت الله اعرافی نے بیان کیا: خداوند متعال کا دوسرا حکم «صابروا» ہے ، یعنی یہ کہ مومن اور مبلغ خود بھی صبر کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو صبر کی تلقین کرے ۔

انہوں نے مزید کہا: انقلاب کے زمانے میں ہر گلی کوچے کے لوگوں نے صبر و تحمل سے کام لیا اور استقامت کی یہاں تک کہ پیروزی ان کے نصیب ہوئی ، صابر معاشرہ اپنے دشمن پر پیروز ہوسکتا ہے ، جیسا کہ ملت ایران نے چار عشرے تک دشمن کے مقابل صبر و استقامت سے کام لیا اور اج تک پیروز رہی ۔

سرزمین قم کے امام جمعہ نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ حضرت امام حسن مجتبی(ع) خداوند متعال کے قریب صبر بردباری کی مثال ہیں کہا: قران کا تیسرا حکم حدود کی حفاظت ہے کہ ، مومن انسان انفرادی اور سماجی امور میں صبر کے ساتھ ساتھ حدود کی بھی مراعات بھی کرے ۔

انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ مسلمان ملکی حدود کی مراعات کے ساتھ ساتھ اعتقادی حدود کی مراعات بھی کریں کہا: مسجدیں اعتقادی حدود مراعات کرنے کے مقامات ہیں ، ھزاروں اخلاقی سازشیں اور خرافاتیں موجود ہیں جو ہمارے خانوادے کے لئے خطرہ ہیں لہذا ان اخلاقی اور اعتقادی حدود سے مسلمانوں کے عقائد و اخلاقیات کی حفاظت کی جائے ۔

ایرانی حوزات علمیہ کے سربراہ نے مسجدوں کی اہمیت کی جانب اشارہ کیا اور کہا: مسجدیں آباد کی جائیں تاکہ ثقافتی حدود کی حفاظت کی جاسکے ، آباد مسجد وہ ہے جہاں تین وقت نمازیں ہوں ، اس مسجد کا امام اور ٹریسٹیز فعال ہوں ، مسجد محلے کے تمام فعال افراد کو خداوند متعال سے جوڑنے کا وسیلہ ہونا چاہئے ۔

انہوں نے مزید کہا: مسجدوں کے ذریعہ محلوں اور خانوادوں میں گھستے منحرف عقائد کو روکا جائے ، «رابطوا» کا کھلا مصداق مسجد ہونی چاہئے ، مسجد جوانوں اور نوجوانوں کو الھی راستہ میں قرار دینے کا وسیلہ ہو ۔

آیت الله اعرافی نے آخر میں تاکید کی : قرآن کریم میں خداوند متعال کا چار حکم بیان کیا گیا ہے ، ایک تقوا ، دوسرے انفرادی صبر ، تیسرے سماجی صبر اور چوتھے حدود کی مراعات ۔ ان تمام کی مراعات کرنے والا انسان متقی کہلائے گا ، اگر مومن اور مسلمان میں یہ چار خصوصیتیں ہوں تو وہ یقینا کامیابی سے ہمکنار ہوگا ۔/۹۸۸/ ن۹۳۰/ ک ۷۴۶

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬