‫‫کیٹیگری‬ :
16 June 2017 - 16:35
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 428569
فونت
آیت الله مکارم شیرازی:
سرزمین ایران کے مرجع تقلید حضرت آ‌یت الله مکارم شیرازی نے شب قدر سے استفادہ کی توفیق عظیم الھی نعمت جانا اور کہا: شب قدر کا امتیاز یہ ہے کہ اس شب میں قران کریم نازل ہوا ۔
آیت الله مکارم شیرازی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، قم ایران کے مرجع تقلید حضرت آیت الله ناصر مکارم شیرازی نے گذشتہ شب مدرسہ علمیہ امام کاظم(ع) قم ایران میں اعمال شب قدر کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے شب قدر سے استفادہ کی توفیق عظیم الھی نعمت جانا اور کہا: شب قدر کا امتیاز یہ ہے کہ اس شب میں قران کریم نازل ہوا ۔

انہوں نے مزید کہا: قرآن کریم خدا کی عظیم نعمت اور عنایت اور نور و هدایت کا سرچشمہ ہے ، انسان اپنی حیات میں قرانی احکامات پر عمل کر کے سعادت اور کامیابی سے ہمکنار ہوسکتا ہے ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج فقہ و اصول کے استاد نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ شب قدر مقدرات معین کئے جانے کی شب ہے کہا: اس شب انسان کے حق میں الھی نعمتیں اور انسانی تقدیریں لکھی جاتی ہیں اور ہر کسی کو اس کی توانائی کے بقدر عطا کیا جاتا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا: ایمان، عمل صالح اور توبہ انسان کا کوٹہ بڑھا سکتا ہے ، شب بیداری اور توبہ انسان کی صلاحیت میں افزائش کا سبب ہے تاکہ انسان کے لئے اس تقدیر میں کچھ بڑھا کر تحریر کیا جائے لہذا اس رات سے زیادہ زیادہ استفادہ کریں ۔

حضرت آیت الله مکارم شیرازی شب قدر کے دیگر امتیازات کی جانب اشارہ کیا اور کہا: یہ شب ھزار ماہ کی شبوں پر افضل ہے ، اگر انسان شب قدر کی فضیلت کو سمجھ لے اور اس شب خوب اپنے وظائف پر عمل کرے تو اس رات پوری عمر کے بقدر فضائل اکٹھا کرسکتا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا: شب قدر حضرت امام علی(ع) سے نام سے جڑی ہوئی ہے ، لوگ ان شبوں میں فداکاری ، مجاھدت اور خدمت کو حضرت امام علی(ع) سے سیکھیں اور اس پر عمل کریں، شب قدر میں حضرت امام علی(ع) کی یاد اس شب کی اہمیت کو دوبالا کردیتی ہے ۔

اس مرجع تقلید نے لوگوں کو نهج البلاغۃ سے مانوس اور اس کتاب سے قریب ہونے کی تاکید کرتے ہوئے کہا: نهج البلاغۃ کے تین حصے ہیں ، خطبے ، خطوط اور کلمات قصار ، کہ ان میں سے ہر ایک میں انسانی زندگی کے لئے مکمل پروگرام موجود ہے ، لہذا اس کتاب کو اپنی حیات کا سرنامہ قرار دیا جائے ، نهج البلاغۃ حضرت(ع) کی بے مثال اور گراں بہا علمی میراث ہے ، معاشرے کی اس کتاب سے دوری کم کی جائے ۔

انہوں نے مزید کہا: حضرت نے نهج البلاغۃ میں امام حسن مجتبی (ع) کے نام وصیت میں فرمایا کہ اپنے دلوں کو موعظے کے ذریعہ زندہ کرو ، ہوائے نفس کو زھد و تقوا الھی اور دنیا سے بے توجہی کے ذریعہ موت دے دو ، اپنے دل کو یقین کے ذریعہ طاقت دو اور علم و حکمت نیز موت کے تذکرہ کے ذریعہ اسے کنٹرول کرو ۔

حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے امام حسن مجتبی (ع) کو حضرت امام علی (ع) کی وصیت کے کچھ ابتدائی کلمات کی تفسیر کرتے ہوئے کہا: انسان کے دل اور اس کی روح کی حیات اور موت ہے ، کبھی انسان سے معنویت مرجاتی یعنی خداوند متعال سے اس کی محبت ، لگاو ، نماز اور عبادتوں میں کمی آجاتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ نابود ہوجاتی ہے اور انسان برائیوں کی جانب تمایل پیدا کرلیتا ہے اور شیطان اس پر مسلط ہوجاتا ہے ۔

انہوں نے قرآن، پیغمبر اسلام(ص) اور اهل بیت طاهرین(ع) کو انسان کا بہترین موعظہ گر بتایا اور کہا: قرانی آیات اور اس کی معنویت سے انسیت و لگاو انسان کی روح میں تازگی اور حیات پیدا کرتی ہے ، قران کا فرمان ہے کہ خدا کے لئے قیام کریں اور اپنی عقلوں کو استعمال میں لاو ، حضرت امام علی(ع) نے فرمایا کہ موت انسانوں کے لئے بہترین موعظہ ہے ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج فقہ و اصول کے استاد نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ انسان واعظوں کی باتوں کو سنے تاکہ بیدار ہوسکے کہا: انسان کے اندر بھی موعظہ گر موجود ہے ، امیرالمومنین علی علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر انسان خدا سے اپنا رابطہ ٹھیک کر لے تو خدا لوگوں سے اس کا رابطہ ٹھیک کردے گا ، جس کے پاس اندرونی اور باطنی موعظہ گر موجود ہوگا خدا اس کی حفاظت کرے گا ۔

انہوں ںے مزید کہا: انسان کا اندرونی موعظہ گر اس کا ضمیر ہے کہ جب بھی انسان دین کے خلاف کوئی کام انجام دیتا ہے تو اسے اس کا ضمیر جھنجھوڑتا ہے ، حتی اگر انسان غلط راستے پر لگ جائے تو اسے واپس لوٹا ہے ، مگر ہاں افسوسناک ہے وہ دن جس دن انسان اپنے اندرونی واعظ کو کھو بیٹھے ۔

حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے تہران کے حالیہ تلخ حادثہ کی جانب اشارہ کیا اور کہا : اس  سانحے میں 17 بے گناہ لوگ مارے گئے تقریبا 50 لوگ زخمی ہوئے مختلف ممالک نے اس سانحے پر تعزیت پیش کی مگر جب انسان کا ضمیر مردہ ہوجائے تو امریکا جیسا بن جاتا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا: بعض امریکی حکمراں نے اس تلخ سانحے کو مثبت بتایا اور اس پر خوشحالی کا اظھار کیا ہے جبکہ یہ نیچ صفت لوگ اس موقع سے بخوبی استفادہ کرسکتے تھے تاکہ ملت ایران کے دلوں میں موجود اپنی نفرت کو کم کرلیں مگر انہوں نے اس طرح باتیں کر ہر دور سے زیادہ آج ملت ایران کے دلوں میں اپنی نفرت کی بیج بو دی ہے ، جس کے پاس بھی ضمیر ہوگا کیا وہ اس طرح کی باتیں نہیں کرسکتا مگر ہاں جب ضمیر نہ ہو تو عقل بھی ماری جاتی ہے ۔

اس مرجع تقلید نے یاد دہانی کی : انسان اندرونی واعظ اور ضمیر کو بیدار رکھے کیوں کہ ضمیر انسان کو برے کاموں کے تدارک کا موقع فراھم کرتا ہے ، گناہوں سے توبہ اس وقت قبول ہوتی ہے جب نیک اعمال کے ذریعہ گذشتہ برائیوں کا تدارک کیا جاسکے ۔

انہوں نے امیرالمومنین علی(ع) کے فضائل کی جانب اشارہ کیا اور کہا: آپ(ع) کی ایک اہم فضیلت یہ ہے کہ آپ(ع) نے اس وقت اسلام کا ساتھ دیا جب اسلام یک و تنہا تھا ، تاریخ میں اس کے مختلف نمونے اور مثالیں موجود ہیں کہ ان میں سے ایک جنگ احد ہے ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج فقہ و اصول کے استاد نے کہا: جنگ احد میں جب سب فرار ہوگئے تو حضرت امام علی(ع) پروانے کے مانند مرسل آعظم(ص) کے اطراف میں چکر کاٹ رہے تھے ، حضرت پر 16 سنگیں ضربے وارد ہوئے ، اس کے باوجود کے آپ کو 90  زخم لگے مگر حضرت نے رسول اسلام (ص) کو تنہا نہیں چھوڑا اور یک و تنہا اسلام و رسول اسلام(ص) کی حمایت کی ۔/۹۸۸/ ن ۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬