21 October 2017 - 13:02
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 430473
فونت
لاہور مرکز تحفظ ختم نبوت میں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے محمد ممتاز اعوان نے برطانوی پارلیمنٹ کے ۲ ممبران کی جانب سے پاکستانی پارلیمنٹ میں ختم نبوت کے عنوان پر کیپٹن(ر) صفدر کی تقریر پر اعتراض اور قادیانیوں کو مظلوم بنانے کی جھوٹی مہم جوئی کی شدید مذمت کی اور اسے ۲۰ کروڑ پاکستانی مسلمانوں کے ایمان پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ یہود و نصاری کی جانب سے قادیانیوں کی حمایت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ قادیانی انگریز کا لگایا ہوا پودا ہے۔
یوم تحفظ ختم نبوت

رسا ںیوز ایجنسی نے کی رپورٹ کے مطابق، کل مسالک ورلڈ پاسبان ختم نبوت کی اپیل پر دینی جماعتوں تحریک تحفظ حرمین شریفین، جے یو آئی، جے یو پی، عالمی تحریک تحفظ ختم نبوت، جماعت اسلامی، جمعیت اہلحدیث، جمعیت اہلسنت، تحریک ملت جعفریہ اور تنظیم علما و مشائخ اہلسنت نے ملک بھر میں یوم تحفظ ختم نبوت منایا جس کے تحت تمام مکاتب فکر کے علما نے جمعہ کے اجتماعات پر ختم نبوت حلف نامہ حذف کرنے کے ذمہ داروں کو سزا نہ دینے کیخلاف شدید احتجاج کیا اور عوام الناس سے مذمتی قراردادیں پاس کرائیں۔

علماء نے نواز شریف اور ان کے خاندان پر فرد جرم عائد کیے جانے پر کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اور ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے پر سابق وزیراعظم نواز شریف مکافات عمل کا شکار ہوئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نواز حکومت ختم نبوت سے غداری کرنیوالے مجرموں کو کڑی سزا دیتے ہوئے ان کو حکومتی عہدوں سے فی الفور برطرف کرے۔ لاہور مرکز تحفظ ختم نبوت میں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علامہ محمد ممتاز اعوان نے برطانوی پارلیمنٹ کے 2 ممبران کی جانب سے پاکستانی پارلیمنٹ میں ختم نبوت کے عنوان پر کیپٹن(ر) صفدر کی تقریر پر اعتراض اور قادیانیوں کو مظلوم بنانے کی جھوٹی مہم جوئی کی شدید مذمت کی اور اسے 20 کروڑ پاکستانی مسلمانوں کے ایمان پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ یہود و نصاری کی جانب سے قادیانیوں کی حمایت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ قادیانی انگریز کا لگایا ہوا پودا ہے اور وہ پاکستان میں یہود و ہنود کے ایجنٹ کا کردار ادا کر رہا ہے اس لئے انہیں ملک کے تمام اعلیٰ و حساس عہدوں سے برطرف کیا جائے اور قادیانیوں کی ہر قسم کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھی جائے۔

دوسری جانب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مرکز ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں منعقد ہونیوالی سالانہ ختم نبوت کانفرنس ملکی سلامتی کی رقت آمیز دعا کیساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ کانفرنس کی مختلف نشستوں سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اور دینی تعلیمات و اسلامی اقدار اور علماء کرام کو دیوار سے لگانے کی سازشیں امت مسلمہ کیلئے لمحہ فکریہ ہیں۔ امتناع قادیانیت ایکٹ کی روشنی میں قادیانیوں کو اسلامی شعائر، کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات کے استعمال سے منع کیا جائے۔ حکومت اپنے کئے گئے وعدہ کے مطابق قادیانیوں کے متعلق 7 بی اور 7 سی کو سابقہ حالت پر بحال کرے۔ مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جب تک قادیانی کلیدی عہدوں پر براجمان ہیں اس وقت تک ملک میں امن قائم ہونا ناممکن ہے لہٰذا سول اور فوج کے تمام کلیدی عہدوں سے قادیانیوں کو ہٹایا جائے۔ چند ٹکٹوں کے عوض مسئلہ ختم نبوت شب خون مارنے والے اور ناموس رسالت کا سودا کرنیوالے حکمرانوں کو نمرود اور فرعون کا انجام بد بھی یاد رکھنا چاہئے۔ اسلامیان پاکستان کسی صورت میں بھی آنیوالے الیکشن میں قادیانیت نواز امیدواروں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ شرکا کانفرنس نے مطالبہ کیا کہ قادیانی تخریب کار ادارے اور عسکریت پسند تنظیمیں خدام الاحمدیہ، انصار اللہ، لجنہ اما اللہ اور تنظیم اطفال الاحمدیہ پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬