18 July 2012 - 16:40
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 4340
فونت
تحرير: ڈاکٹر ساجد خاکواني
رسا نيوزايجنسي - برما، ميانمارميں مسلمانوں کے قتل معاملہ اس وقت شروع ہوا جب ’’ٹونگوپ‘‘نامي شہرميں نمازپڑھ کر واپس آرہے مسلمانوں کي بس پر بدھوں نے حملہ کيا جس ميں دس مسلمان جاں بحق ہوگئے ?
ميانمار

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، جون 0122 ميں برما کے وسطي علاقہ ميں دس مسلمانوں کے ظالمانہ قتل کے خلاف جب مسلمانوں نے اپنے اکثريتي صوبے ميں احتجاج کيا تو برما کي پوليس نے مسلمانوں پربے دريغ ، اندھادھند فائرنگ کرتے ہوئے ان پر بندوقوں کے دہانے کھول ديے اوربراہ راست مظاہرين کے سروں کے نشانے ليے جس سے ہزاروں مظاہرين موقع پر ہي جاں بحق ہوگئے اور بے شمار زخمي ہوئے ?

يہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب ’’ٹونگوپ‘‘نامي شہرميں جون کومسلمانوں کي بس پر بدھوں نے حملہ کيا جو نمازپڑھ کر واپس آرہے تھے اور اس حملے ميں بعض اطلاعات کے مطابق بدھوں نے پراناکوئي حساب چکانے کے ليے مذہبي عصبيت کي بنيادپر بس کے مسافروں کو اس بے دردي سے زدوکوب کياجس سے دس مسلمان شہيد ہوگئے ?

ردعمل ميں مسلمانوں نے 8 جون کو ايک بہت بڑامظاہرہ کيا جس ميں بعض غيرمصدقہ اطلاعات کے مطابق مقامي انتظاميہ سے آنکھ مچولي بھي ہوئي? معاملات کي غيرجانبدارانہ تحقيقات کي بجائے 10جون کو رياست کے صدر کي طرف سے مسلمانوں کے علاقے شمالي اراکان ميں زبردست قسم کي ہنگامي حالت نافذ کرکے توعسکري اداروں کوکھلي چھوٹ دے دي کہ کسي قسم کي تحقيقات ودستاويزي ثبوت کے بغير مسلمانوں کي پکڑ دھکڑ کريں ?

عسکري اداروں نے پوري بد معاشي کے ساتھ مسلمانوں کے گھروں پر دھاوابولاخوب پکڑ دھکڑاور بازاروں ميں لوٹ مار کے بعد عورتوں بچوں اور بوڑھوں سميت پوري آبادي کوزدوکوب اور ماردھاڑ کا نشانہ بنايا،عيني شاہدين کے بيان کے مطابق ٹرکوں کے ٹرک مسلمانوں سے بھر کر نامعلوم مقام کي طرف لے جائے گئے اور اب تک ان کاکوئي پتہ نہيں? يہ ساري گرفتارياں اور ماردھاڑ بغير کسي قانوني کاروائي کے عمل ميں آئي اور بعض آزاد ذرائع کي طرف سے ہزاروں افراد کے قتل کي اور بعض مقامات پرمسلمانوں کے زندہ نذرآتش کرنے کي خبريں بھي ملي ہيں ?

وہاں کسي بين الاقوامي ادارے کے صحافي کوجانے کي اجازت نہيں? ايک اندازے کے مطابق اب تک نوے ہزارمسلمان لاپتہ ہيں اور تعداد ميں اضافہ بھي متوقع ہے ? حالات کے مارے لٹے پٹے مسلمانوں نے جب ہزاروں کي تعداد ميں بنگلہ ديش کي طرف رخ کياتو وہاں کي ’’سيکولر‘‘قيادت نے ان ’’انسانوں‘‘کو قبول کرنے سے انکار کردياکيونکہ سيکولرازم صرف ان کو انسان مانتاہے جومغربي تہذيب کي گنگاجمناميں نہائے ہوئے ہوں، فرزندان توحيد،عاشقان مصطفي ،غلامان اہل بيت اورداڑھي ،ٹوپي،پگڑي اورمقامي لباسوں ميں ملبوس تو سيکولرازم کے نزديک توانسان نہيں ہيں بلکہ يہ تو ان کے جانوروں کے برابر بھي ’’انساني حقوق‘‘نہيں رکھتے ? پس اب تک وہاں مہاجرين کے خيموں کي لمبي لمبي بستياں قائم ہو چکي ہيں جنہيں کوئي رياست قبول کرنے کے ليے تيار نہيں صرف اس ليے کہ وہ کلمہ گوہيں?

برما کے مسلمانوں پر يہ کوئي نيا شب خون نہيں ہے، يہاں کے مسلمان گزشتہ کئي نسلوں سے اپني بقا کي سياسي و نيم عسکري جنگ لڑ رہے ہيں? 050ء ميں ’’بياط وائي‘‘نامي مسلمان سردار کا ذکر ملتا ہے جسے ’’مان‘‘خاندان کے بادشاہ نے اس ليے قتل کردياتھاکہ وہ قوت جمع کررہاتھا? وہ دن اور آج کا دن سامراج کے جہاز کرہ ارض کے سمندروں پر قابض رہيں اور ان کي ظالم افواج با راتوں اور جنازوں پر بمباري کرتي رہيں تو بھي وہ امن عالم کے ٹھيکيدار ہيں اور مسلمان اپنے گھرميں دفاعي جنگ لڑے توبھي دہشت گرد اور عسکريت پسند ہيں ?

برماکے مشہور تاريخي ہيروبادشاہ’’کيان سيتھا‘‘ نے اپنے وقت کے مسلمان سردار’’رحمان خان‘‘کو سياسي و مذہبي اختلافات کي بنيادپر قتل کرادياتھا اور اس مسلمان کے قتل کے ليے اس بادشاہ نے جلاد کوخصوصاََ اپني ذاتي تلوار دي تھي? 652 ميں ہندوستان کے بادشاہ شہنشاہ خرم شا ہجہاں کا دوسرابيٹا شاہ شجاع کواس کي بد قسمتي برمالے گئي،اس نے وہاں سے نکلنے کے ليے بھاري رقم برماکے بادشاہ ’’سانٹھاسدھاما‘‘کوپيش کي اور کہا کہ اس رقم کے عوض اسے ايک بحري جہاز دے دياجائے تاکہ وہ حج پر جاسکے، برماکے لالچي بادشاہ نے آداب سفارت کي خلاف ورزي کرتے ہوئے ہندوستاني شہزادے کو قتل کرديا،اس کي دولت پر قبضہ کرليا اور اس کي عورتوں کو پس زنداں ڈال ديا جہاں وہ بھوک کے ہاتھوں ہلاک ہو گئيں?

اس ظالمانہ اقدام کے خلاف جب برما کے مسلمانوں نے بے چيني کااظہارکيا توہر داڑھي والے کو مسلمان سمجھ کر تہہ تيغ کر دياگياجوبچ گئے وہ مجبوراََہجرت کرکے تو ہندوستان آ گئے?

589 1ء ميں برمي بادشاہ ‘‘بے انٹاؤنگ‘‘نے رياست کے بچے کھچے مسلمانوں کو زبردستي بدھ مذہب ميں شامل کرنے کي سرتوڑ کوشش کي ليکن پھر بھي کچھ مسلمان جب استقامت پزيررہے اورانہوں نے برماميں شمع ايمان روشن رکھي? 760ء ميں ’’النگ پايا‘‘نامي برمي بادشاہ نے مسلمانوں کے ذبيحے پر پابندي لگاکر انہيں حلال گوشت سے محروم کرديا? 819ء ميں برمي بادشاہ’’بداوپايا‘‘نے چار علماء دين اسلام کو خنزيرکاگوشت کھانے پر مجبور کيا،انکار پر اس ظالم بادشاہ نے چاروں کو قتل کراديا?

مشہور ہے کہ ان ائمہ اربعہ کي شہادت کے بعد سات دنوں تک برما ميں مکمل اندھيرارہاجس کے باعث بادشاہ نے توبہ اور ندامت کااظہارکياتب اجالا نمودارہوا? برطانوي دور حکومت ميں 1921کے سروے کے مطابق برما ميں نصف ملين سے زائد مسلمان آباد تھے ليکن انگريزکي ’’سيکولرجمہوريت ‘‘ہندوستان کي طرح وہاں بھي غيرمسلموں پر ہي مہربان رہي?

845 1ء ميں برمامسلم کانگريس(MC) بني،عبدالرزاق اس کے صدر منتخب ہوئے جو مسلمان ہوتے ہوئے بھي بدھوں کي مذہبي کتاب کي قديمي زبان سے گہري واقفيت رکھتے تھے? مسلمانوں نے اس پليٹ فارم سے برما کي آزادي ميں بھي بھرپور کردار اد کيا ليکن آزادي کے بعد 1955ميں مسلمانوں کي اس تنظيم کو ختم کردياگيا? بعد کي حکومتوں نے محسن کش رويہ اختيارکرتے ہوئے برماکو بدھ رياست قراردے دياگيا اورذبيحے تک پر پابندي لگادي گئي اورحاجيوں کے راستے ميں بھي روڑے اٹکائے جانے لگے?

1962ميں’’جنرل ني ون‘‘ کے دور کا آغاز ہواجو مسلمانوں کے ابتلا و آزمائش کے ايک نئے عہدکا آغاز تھا? فوج سے مسلمانوں کو مکمل طور پر نکال باہر کيا گيا،انہيں جانوروں کا قاتل قرارديا گيا اور معاشرے ميں ان کے لئے ’’کالا‘‘ کا لفظ بول کر ان کي معاشرتي تذليل و تحقيرکي جانے لگي اورمسلمانوں کے ليے اپني شريعت پر چلنا بھي دشوار تر کر دياگيا?

افغانستان کے اندر’’باميان‘‘کے مجسموں کے معاملے کے بعد برما ميں بدھوں کے بلوے نے مسلمانوں کي مساجد اور کئي بستياں نذرآتش کرديں اور قتل و غارت گري کا بازارگرم کئے رکھا،حالانکہ اگر باميان کا معاملہ غلط بھي تھا تو برما کے مسلمان تو اس کے ذمہ دار نہيں تھے?

اس بہت بڑے سانحے کے بعد بعض مسلمان نوجوانوں نے رياست سے ٹکرانے کا عنديہ بھي ظاہر کيا کہ ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘کے مصداق يہ ايک فطري معاملہ تھا ليکن مسلمانوں کي بيدار مغزقيادت نے انہيں اس امر سے باز رکھا?

6 مارچ997 1کو بدھوں کا ايک بہت بڑا گروہ مسلمانوں کے خلاف نعرے لگاتا ہوا آگے بڑھا اورانہوں مسجد کو آگ لگادي،اس کے بعد مسلمانوں کي مقدس کتب کو جمع کر کے نذرآتش کيا، پھر مسلمانوں کي املاک اور کاروباري دکانوں ميں لوٹ مار کي ، کئي لوگوں کو قتل کيا اور بے شمار لوگ زخمي بھي ہوئے? اور سارے عمل ميں رياست تماشائي بني رہي?

5 مئي001 2کو ايک بار پھر بدھوں نے مسلمانوں کي گيارہ مساجد مسمار کيں، چارسوسے زائد گھروں کو آگ لگادي اور دوسوافراد کو موت کے گھاٹ اتاردياجن ميں سے بيس افراد وہ تھے جو مسجد ميں نمازادا کررہے تھے اور انہيں اس قدر پيٹا گيا کہ وہ جان کي بازي ہار گئے، بدھوں کا مطالبہ تھا کہ مسلمانوں کي مساجد کو مسمار کر دياجائے جسے حکوت نے تمام بين الاقوامي قوانين کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مان ليا اور متعدد مساجد زميں بوس کر دي گئيں اور بعض کو مقفل کردياگيا? مسلمان اپنے گھروں پر عبادت کے ليے مجبورکيے گئے اور بعض نے ہجرت کرلي? اب تک لاکھوں برمي مسلمان ہجرت کر کے تو بنگلہ ديش اور تھائي لينڈ کي سرحدوں پر خيموں ميں زندگي بسر کرنے پر مجبور ہيں?

009 2ميں تھائي لينڈ کي فوج نے برمي مسلمان مہاجرين کو بے دردي سے ماراپيٹا اور پھر انہيں کشتيوں ميں بٹھاکرکھلے سمندرميں دھکيل ديا جہاں بے رحم موجيں ان مسلمانوں کو نگل گئي اور مشرق سے مغرب تک پوري دنيا خاموش رہي? اس دوران حکومت برما اور بين الاقوامي اداروں کے بہت سے وعدے، مذاکرات، بيانات، رپورٹس، قرارداديں اورسرويز مگرمچھ کے آنسؤں سے زيادہ ثابت نہ ہوئے جن کي تفصيل کے ليے ايک عليحدہ دفتردرکارہے?

برمي مسلمانوں کا قصور صرف يہ ہے کہ وہ امت محمديہ کاايک حصہ ہيں،اگر وہ عيسائي يا يہودي ہوتے يا کم از کم گوري رنگت کے حامل ہي ہوتے تو پوري دنيا کا ميڈيا آسمان سر پر اٹھا ليتا، نيٹوکي افواج امن عالم کا نعرہ بلند کرتي ہوئي پہنچ جاتيں، امريکي قيادت کے دورے ہي ختم نہ ہوتے، يورپي يونين فوراََ سے بيشتر پابندياں عائد کر ديتي،اقوام متحدہ حقوق انساني کي پائمالي پر قرارداديں منظورکرتا ہوا اپنے خزانوں کے منہ کھول ديتا،عرب شيوخ اتني بڑي بڑي رقوم کے چيک پيش کرتے کہ آنکھيں پھٹي کي پھٹي رہ جاتيں،عالمي اداروں کے نمائندے اپنے کارندوں کے ہمراہ مظلومين کے ايک ايک فرد کے ساتھ کھڑے ہو کرتصويريں بنواتے اور وطن عزيزاسلامي جمہوريہ پاکستان کي اين جي اوزان کے حالات پر ڈاکومينٹري فلميں اور ڈرامے بناکر عالمي ايوارڈ حاصل کر چکي ہوتيں اور مسلمانوں کے حکمران ان کے غم ميں ہلکان ہو چکے ہوتے?

افسوس ہے ان سيکولرازم کے پيروکاروں پر جن کا قبلہ مغرب اور جن کا خداپيٹ اورجن کا مذہب پيٹ سے نيچے کي خواہش ہيں ? انہيں نسلوں سے خون ميں نہاتے ہوئے، جمہوريت کے اس دور ميں مذہبي آزادي تک کے حق سے محروم برمي مسلمان نظر نہيں آتے?

ليکن آخر کب تک ؟ ظلم کي رات کتني ہي تاريک ہوں آخر کو اسے ختم ہونا ہے ? پوري دنيا پر يورپ کي غلامي کے بعد آزادي کا سورج طلوع ہوا ليکن برمي مسلمانوں پر انگريزکي غلامي کے بعداس سے بدترغلامي مسلط کر دي گئي اورسيکولرازم کي لگي اندھي عينک سے دنياکي قيادت کو صرف وہي نظر آتاہے جو امريکہ اور برطانيہ کي حکومتيں ’’عالمي برادري‘‘کے نام پر ان کاہاتھ پکڑ کر انہيں سجھاديتي ہيں?

امت مسلمہ کي عملي جدوجہد کے باعث گزشتہ صدي ہيل ہٹلراورسرخ سويرے جيسے ہاتھيوں کو نگل گئي اوراس صدي کا سورج امريکہ کے زوال کي خوشخبري لے کر طلوع ہواہے ? سامراج اپنے استعماري نعروں سميت غرقاب ہوگا اور پس ديوارافق فاران کي چوٹيوں سے پھوٹنے والي روشني ايک بار پھر عالم انسانيت کو اپني آسودگي و راحت بھري گودميں بھرلے گي?

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬