26 January 2018 - 21:47
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 434787
فونت
ایڈمیرل علی شمخانی :
اعلی ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ نے کہا کہ ایران کو کمزور اور افراتفری کا شکار کرنا دشمنوں کی ناکام خواہش ہے ۔
 علی شمخانی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اعلی ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ ایڈمیرل علی شمخانی نے کہا ہے کہ وطن عزیز ایران کو کمزور اور افراتفری کا شکار کرنا دشمنوں اور بعض ممالک کی خام خیالی اور ناکام خواہش ہے۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ دشمنوں نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے شروع دن سے وطن عزیز ایران کو کمزور کرنے کے لئے کمر کس لی مگر اسے آج تک اپنی سازشوں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں اور بعض ممالک کی جانب سے اسے غلط رنگ دینے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے شمخانی نے کہا کہ ایرانی آئین کے مطابق ملک میں احتجاج سب کا حق ہے اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ایسے تمام احتجاجوں کو تسلیم کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریاست اور قیادت اس بات پر متفق ہیں کہ احتجاج عوام کا حق ہے مگر بعض عناصر تشدد اور افراتفری کے ذریعے ان احتجاج کو کوئی اور رنگ دیتے ہیں جس کی وجہ سے بعض بدامنی کے واقعات بھی رونما ہوتے ہیں۔

ایڈمیرل علی شمخانی نے کہا کہ ایران کے حالیہ بدامنی کے واقعات میں دشمن عناصر اور بعض ممالک کی مداخلت کو بے نقاب کرنا مشکل کام نہیں، اس کے لئے موجودہ میڈیا کی مدد لے سکتے ہیں کہ بعض دشمن ممالک کس طرح ایران میں حالیہ احتجاج کو اپنے سیاسی مقاصد کے تحت دیکھایا یہاں تک کہ ایک ملک کے صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران میں بدامنی کی صورتحال کو مزید بڑھانے کے لئے کسی بھی امداد سے دریغ نہیں کریں گے، اس ملک کے صدر نے کہا کہ وہ ایران کے مسئلے کو سلامتی کونسل میں اٹھائیں گے یا اقوام متحدہ میں اس کی مستقل مندوب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے دنیا کو من گھڑت کہانیاں سنارہی تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں ہرگز ایمرجنسی صورتحال نافذ نہیں ہوئی، گزشتہ ۴۰ سال سے وطن عزیز ایران میں بعض مشکل صورتحال بھی سامنے آئی مگر اس کے باوجود ملک میں ایمرجنسی نہیں لگائی جبکہ فرانس میں تکفیری عناصر کی کاروائی کی وجہ سے ایمرجنسی نافذ ہوا اور ترکی میں تو اب بھی ایمرجنسی صورتحال نافذ ہے مگر ایران میں ایسی کوئی صورتحال سامنے نہیں آئی بلکہ حالیہ واقعات کے باوجود بھی ملک میں حالات معمول پر تھے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے دشمن بالخصوص امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست بڑی غلطی کے شکار ہیں۔ ان دشمنوں نے ایران کو کمزور اور غیرمستحکم کرنے کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

یمن میں سعودی جارحیت، یمنی عوام کی مظلومیت اور ملک میں تشویشناک انسانی بحران کا ذکر کرتے ہوئے ایڈمیرل شمخانی نے ایران کی جانب سے یمن کو میزائل دینے کے امریکی اور سعودی الزامات کو سختی سے مسترد کردیا۔

انہوں نے عالمی میڈیا پر زور دیا کہ وہ یمن پر سعودی جارحیت کے حقائق کو منظر عام پر لائے اور دنیا کو بتایا جائے کہ یمن پر مسلط کردہ جنگ غیرقانونی اور اس کا مقصد ملک کو غلام بنانا ہے۔

اس موقع پر انہوں ایران مخالف اماراتی حکام کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عربی ممالک کی نظر میں متحدہ عرب امارات شیشے سے بنی ہوئی ایک حکومت ہے جس کو ہر وقت ٹوٹنے کا خدشہ ہے اس لئے وہ بھاری خرچہ کرکے دوسروں کو بھی پیسہ کھلا کے نام نہاد طاقت کا مظاہرہ کرتا ہے۔

شام کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ یقینا داعش کے خلاف جنگ میں شامی صدر بشار الاسد نے فتح حاصل کی ہے۔ ایران اور روس کے تعاون سے داعش کے خلاف شامی قوم، حکومت اور مسلح افواج نے برتری حاصل کرلی۔

عراق کے حوالے سے ایڈمیرل شمخانی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، عراق میں امن و استحکام کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی رشتے قائم ہیں اور ہم ہمیشہ اپنے ہمسایہ ملک عراق کی قوم کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔

القدس کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو ایک اسٹریٹجک غلطی قرار دیتے ہوئے ایڈمیرل شمخانی نے مزید کہا کہ اس فیصلے کے خلاف احتجاج اور مذمتی بیان صرف عربی ممالک تک محدود نہیں رہے بلکہ پاکستان، ملائیشیا، انڈونیشیا اور دیگر ممالک میں امریکی فیصلے پر زبردست مظاہرے کئے گئے۔

انہوں نے جوہری معاہدے کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے تاہم سابق امریکی صدر باراک اوماما کے دورے میں بھی امریکی فریق نے خلاف ورزی کا آغاز کیا مگر ٹرمپ انتظامیہ واضح طور پر خلاف ورزی کرتی رہی۔

ایڈمیرل شمخانی نے کہا کہ ایران کی جوہری صلاحیت اور قابلیت کو پابندیوں اور فوجی دھمکیوں سے متاثر نہیں کیا جاسکتا بلکہ جتنا دباو سامنے ہو اتنا ہم اس شعبے میں ترقی حاصل کریں گے۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬