‫‫کیٹیگری‬ :
26 February 2018 - 13:48
News ID: 435165
فونت
پاکستان کے شیعہ رھنماوں نے ملک بھر سے ایران و عراق زائرین کی آمد و رفت کی مشکلات کے حل کیلئے ۱۶ رکنی کمیٹی قائم کی، یہ کمیٹی کوئٹہ سے تفتان بارڈر روانگی اور وہاں پہ رہائش، قافلہ سالاروں سے روابط اور اسی طرح زائرین کی نجف، کربلا اور مشہد مقدس سے زیارات کے بعد واپسی کے شیڈول بھی طے کرے گی اور ان کی رہنمائی کرے گی۔
پاکستانی زائرین

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدر حجت الاسلام و المسلمین قاضی نیاز حسین نقوی کی سربراہی میں ایران اور عراق کے مقدس مقامات کی زیارت کیلئے جانیوالے زائرین کے مسائل کے حل اور ان کی آمد و رفت کو مربوط بنانے کیلئے 16 رکنی مرکزی کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق، بار بار کے مطالبات اور وفاقی حکومت کیساتھ متعدد اجلاسوں میں طے کردہ امور کے بعد جامعتہ المنتظر میں منعقد ہونیوالے اجلاس میں مرکزی کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں حجت الاسلام محمد افضل حیدری، حجت الاسلام عارف حسین واحدی، قاضی غلام مرتضیٰ اور ڈاکٹر سید محمد نجفی سمیت پانچوں صوبوں خیبر پختونخواہ، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان سے دو دو، جبکہ آزاد کشمیر سے ایک رکن کمیٹی کے ممبران ہوں گے۔ اس حوالے سے پنجاب سے حجت الاسلام مظہر عباس علوی، اخلاق کاظمی، سندھ سے مولانا ریاض حسین الحسینی، مولانا فیاض حسین مطہری، خیبرپختونخواہ سے حجت الاسلام رمضان توقیر، سید ابرار حسین، بلوچستان سے حجت الاسلام ہاشم رضا موسوی، لیاقت علی ہزارہ، گلگت بلتستان سے مولانا محمد طحہٰ، دیدار علی اور آزاد کشمیر سے حجت الاسلام سید فرید عباس بھی شامل ہیں۔

حجت الاسلام و المسلمین نیاز حسین نقوی نے کہا کہ یہ کمیٹی ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں تفتان بارڈر کے ذریعے زیارات جانیوالے محبان اہلبیت کی کوئٹہ اور بارڈر پر مشکلات کو حل کرنے میں مدد دے گی، جو ملک بھر سے زائرین کی آمد و رفت، کوئٹہ سے تفتان بارڈر روانگی اور یہاں رہائش، قافلہ سالاروں سے روابط اور اسی طرح زائرین کی نجف، کربلا اور مشہد مقدس سے زیارات کے بعد واپسی کے شیڈول بھی طے کرے گی اور ان کی رہنمائی کرے گی، تاکہ رش نہ ہونے پائے۔

واضح رہے کہ پورا سال خاص طور پر گرمیوں کی چھٹیوں، محرم الحرام اور اربعین کے موقع پر عاشقان اہل بیت کی ہزاروں کی تعداد میں روانگی اور حکومت کی طرف سے ہر ماہ صرف دو بار کانوائے کی پالیسی کے باعث کوئٹہ اور تفتان بارڈر پر ہزاروں زائرین کو ہفتوں رکنا پڑتا تھا۔ جس کی وجہ سے امن و امان کے مسائل کیساتھ رہائش اور دیگر معاملات بھی سامنے آئے، تشکیل کردہ کمیٹی اس حوالے سے وزارت داخلہ، وزارت مذہبی امور اور بلوچستان حکومت سے رابطے میں رہے گی تاکہ زائرین کی آمد و رفت کو مربوط نظام کے تحت لایا جائے۔ /۹۸۸/ ن۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬