‫‫کیٹیگری‬ :
28 July 2019 - 20:36
News ID: 440920
فونت
آیت اللہ جوادی آملی: 
حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے مشہور و معروف استاد نے بیان کیا : یونیورسٹیوں کے اسلامی ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان میں نماز خانہ ہو اور مذہبی پروگرام منعقد ہوتے ہوں بلکہ علم اگر الہی ، دینی، قرآنی اور علوی ہو جائے تب یونیورسٹیاں اسلامی کہلائیں گی۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے مشہور و معروف استاد آیت اللہ جوادی آملی نے امام رضا علیہ السلام کے روضہ مبارک کے قدس ہال میں علماء اور یونیورسٹی کے اساتید کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران یونیورسٹیوں کو اسلامی بنانے اور علوم انسانی میں تغیر و تبدل کرنے کی ضرورت کی تاکید کی۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا  : علم و دانش خالق و مخلوق کے درمیان صراط مستقیم ہے علم کو اسلامی ہونا چاہیے، جو ہمار ے اور خدا کے درمیان رابطہ برقرار کرنے کے لئے ہو ایسا علم اسلامی علم ہے ۔

قرآن کریم کے مفسر نے اسلامی علم کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : یونیورسٹیوں میں علم اگر اسلامی ہو جائے تو معیشتی فساد خود بخود ختم ہو جائے گا ۔ جب تک یونیورسٹیوں میں پڑھائے جانے والےدرس اسلامی نہ ہوجائیں تب تک مسائل کے حل ہونے کی امید نہیں رکھی جاسکتی ۔

آیت اللہ جوادی آملی نے تاکید کرتے ہوئے کہا : وہی یونیورسٹی اسلامی کہلائی جاسکتی ہے جس میں تعلیمات اسلامی علوم کے طرز پر پڑھائے جاتے ہوں۔تحصیل علم کے بارے میں اصرار کیا جاتا ہے کہ علم ضرور حاصل کرو اس لیے کہ علم تم کو اللہ تک پہنچانے کا راستہ ہے ، یہاں علم سے مراد وہ علم ہے جو اسلام کی بنیاد پر استوار ہو۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بیان کیا : اسلام  تمام موضوعات کا احاطہ کیۓ ہوئے ہے اور اس کے خاص اہداف و مقاصد ہیں، تو اگر موضوع یا مضمون دینی نہج پر ہوا تو وہ علم بھی دینی ہو حاتا ہے  اور محقق، استاد اور دانشگاہ  یا یونیورسٹی کو اسلامی بنا دیتا ہے۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے مشہور و معروف استاد نے بیان کیا : اگر کسی علم کے مضامین اور مطالب میں دین شامل ہوجائے تو پھر یقینا اس کا حصول، مقصد اور اس علم کی پوری کی پوری فضا دینی ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا : تحصیل علم میں، عالم ہونا لازم ہے لیکن کافی نہیں ہے اور قرآن نے صرف علم و عقل کی دعوت نہیں دی ہے کہ بس عالم و عاقل ہوجائیں۔

آیت اللہ جوادی آملی نے بیان کیا : خداوندعالم قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے : تمھارا نفس عالمانہ ہو اورتم  علم  کی بنیادوں پر استوار رہو، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جو صرف دوسروں کی باتوں کو نقل کرتا ہے وہ نقال ہے عالم نہیں ہے ۔

انہوں نے اپنی تقریرکے ایک اور حصے میں یونیورسٹیوں میں تدریس کئے جانے والے مضامین کی اقسام کا ذکر کیا کہ جن میں سے بعض علوم کا موضوع فعل خدا ہے اور کچھ  فعل، انسان سے تعلق رکھتے ہیں۔

آیت اللہ جوادی آملی نے کہا: خداوندعالم جس وقت مافی السماء و مافی الارض و ما بینهما کے متعلق گفتگو کرتا ہے تو کہتا ہے کہ یہ سب عاقل، حامد، مطیع اور عالم ہیں۔ یعنی تم جس زمین اور زمانے میں زندگی بسر کررہے ہو وہ تمہاری تمام حرکات و سکنات سے آگاہ ہیں ، گواہی دیتے ہیں، اور گواہی دینے کا مطلب ان کا محل شہادت میں حاضر ہونا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین و زمان شاہد و گواہ ہیں تاکہ ان کی گواہی قابل قبول قرار پائے۔

قرآن کریم کے مفسر نے نے آیت کے معنی و مفہوم کو خداوندعالم کی نشانیوں کی شناخت کروانے کے مفہوم میں بے حد وسیع قرار دیا اور کہا : زمین و آسمان کی شناخت کےعلم کی روح  و جوہر، فعل خدا ہے اور یہ فعل ، خداکی نشانی ہے اور اس علم کے جوہر میں خداکے علاوہ کوئی اور چیز شامل نہیں ہے۔

آیت اللہ جوادی آملی نے علم کو خدائی ہونے کی تاکید کرتے ہوئے بیان کیا : جو کچھ بھی زمین و آسمان میں ہے وہ خداوند عالم کی جانب راہنمائی کے علاوہ کسی اور سمت اشارہ نہیں ہے۔ جب کسی علم کی تدریس کی جائے اور یہ عظمت  اس علم میں نظر نہ آئے تو وہ گویا عظمت و قدرت الہی کے روبرو اندھا ہوگیا ہے ۔

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬