‫‫کیٹیگری‬ :
22 January 2020 - 16:34
News ID: 441984
فونت
آیت الله فقیهی:
مدرسین حوزه علمیہ قم کونسل کے رکن نے آخرت پر یقین نہ ہونا معاشرہ کی بہت ساری مشکلات کی بنیاد جانا اور کہا: اعتقادات میں استحکام بہت ساری مشکلات سے دوری کا سبب ہے۔

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، مدرسین حوزه علمیہ قم کونسل کے رکن آیت الله محسن فقیهی نے آج اپنے درس اخلاق میں کہا کہ دنیاوی اور مادی مسائل پر فقط توجہ رکھنے والے اور معنوی مسائل سے دوری اپنانے والے مشکلات سے روبرو ہوں گے ۔

انہوں نے مزید کہا: معارف اور معنویت پر بی توجہی کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا ایمان ضعیف ہے ، لہذا ہمیں اپنے ایمان کو مضبوط اور مستحکم بنانا چاہئے ، ہرگز الھی وعدوں کو مذاق نہ سمجھیں بلکہ اپنے ضعیف ایمان میں استحکام پیدا کریں تاکہ شک و تردید کا شکار نہ ہوں ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے استاد نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ اگر یقین ہوگا تو الھی احکامات پر زیادہ توجہ کریں گے کہا: الھی اور دینی معارف ہمارے دلوں میں اترنا چاہئے ، جزاء اور سزاء کے بارے میں الھی وعدوں پر توجہ کریں کیوں کہ ایمان میں ضعف ، الھی احکامات میں سستی کا سبب ہے۔

انہوں نے مزید کہا: اگر انسان اعمال کو صحیح انجام دے تو اس کی بازگشت خود انسان کی جانب ہے اور انسان اس سے سودمند ہوگا وگرنہ خداوند متعال کو انسان کی عبادتوں کو کوئی ضرورت نہیں ہے ، مادی اور معنوی منافع قابل مقایسہ نہیں ہیں لہذا انسان اپنے معنوی منافع تامین کرکے اپنی آخرت کو سنوارے ۔

آیت الله فقیهی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ایمان کو تقوائے الھی اور اعمال صالح کے ساتھ ہونا چاہئے چاہئے کہا: یہ نہیں ہوسکتا کہ انسان ایمان کا دعوا کرے مگر دینی احکامات پر عمل نہ کرے بلکہ اپنے اعمال صالح کے ذریعہ خود کو ثواب کا مستحق قرار دے ۔

انہوں نے بیان کیا: ہمارے معاشرہ کی ایک مشکل یہ ہے کہ اخرت ، بہشت و جہنم کی بہ نسبت ہمارا اعتقاد کمزور ہے ، اسی بنیاد پر ہم مختلف قسم کے فسادات جیسے اخلاقی و اقتصادی وغیرہ سے روبرو ہیں جبکہ اگر اخرت پر ہمارا ایمان مضبوط ہوجائے تو غبن وغیرہ جیسی مشکلات ختم ہوجائیں گی اور معاشرے سے برائیاں مٹ جائیں گی ۔

مدرسین حوزه علمیہ قم کونسل کے رکن نے اپنے بیان کے دوسرے حصہ میں تکبر و غرور کو انسان کے تکامل کی راہ میں روکاٹ جانا اور کہا: کبھی یہ دیکھنے میں اتا ہے کہ انسان علم حاصل کرنے کے بعد تکبر و غرور کا شکار ہوجاتا ہے اور اسے اس بات کی توقع ہوتی ہے کہ لوگ اس کا احترام کریں جبکہ جو علم غرور و تکبر کا سبب ہو وہ علم نہیں ہے اور ایسا علم ھرگز انسان کی ترقی و تکامل کا باعث نہ ہوگا بلکہ علم، انسان کے اندر تقوائے الھی میں افزائش ، تواضع اور انکساری کا سبب بننا چاہئے ۔/۹۸۸/ ن

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬