07 June 2020 - 20:46
News ID: 442895
فونت
بی جے پی اور اس سے منسلک ہندو انتہا پسند تنظیموں کی طرف سے مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف تعصب اور ناروا سلوک کا سلسلہ جاری ہے۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی اور اس سے منسلک ہندو انتہا پسند تنظیموں کی طرف سے مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف تعصب اور ناروا سلوک کا سلسلہ جاری ہے۔

بھارتی حکومت کورونا وائرس میں مبتلا مسلمانوں اور اقلیتوں کا سرکاری اسپتالوں میں علاج کرنے سے بھی گریز کررہی ہے۔ پوری دنیا میں کورونا وائرس نے ہلاکت خیز تہلکہ مچا رکھا ہے اور ہر ملک اپنے شہریوں کی صحت و سلامتی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں تلاش و کوشش کررہا ہے لیکن بھارت واحد ملک ہے جہاں مہلک کورونا وائرس کی آڑ میں مسلمانوں کو نفرت، تعصب اور ظلم و تشدد کا بری طرح نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق ہندوتوا یا اکھنڈ ہندو مملکت کی علمبردار مودی حکومت کی شہ پربھارتی مسلمانوں اور اقلیتوں کو کورونا وائرس کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ہندو اکثریتی علاقوں سے مار مار کر نکالا جارہا ہے۔

انہیں سبزی، پھل اور کھانے پینے کی دوسری اشیا خریدنے نہیں دی جارہی ہیں اور مسلمان مریضوں کو سرکاری اسپتالوں میں علاج کی سہولت دینے سے انکار کیا جارہا ہے۔

اس سلسلے میں اُتر پردیش میں جہاں ایک انتہا پسند ہندو یوگی وزیراعلیٰ ہے، اس نے میڈیا میں اشتہار بھی جاری کیا ہے، عام مسلمانوں کو تعصب کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔

تبلیغی جماعت کو کورونا پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی نے بھی اپنے ایک بیان میں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف اس نفرت انگیز مہم کی شدید مذمت کی ہے اور بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسلامو فوبیا کی اس بے بنیاد مہم کو روکے اورمسلمان اقلیت کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے۔

بھارت میں لاکھوں افراد کو بھوک اور مصائب میں پھنسانے والی مودی سرکار اپنی ناکام پالیسیوں کو چھپانے کے لئے نت نئے سماجی اور مذہبی مسائل پیدا کررہی ہے۔

بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی اور اس سے منسلک ہندو انتہا پسند تنظیمیں بھارت میں نفرت کی دیواریں تعمیر کررہی ہیں۔ بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کی کوششوں اور کاوشوں کو دنیا کی کوئي طاقت نظر انداز نہیں کرسکتی۔

بھارتی مسلمان بڑے صبر و تحمل کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں حالانکہ ان سے ان کی ترقی اور پیشرفت کے اسباب کو سلب کرنے کی تلاش کی جاری ہے۔ بھارتی حکومت کو اپنے رویہ میں تبدیلی پیدا کرنی چاہیے ورنہ اس کے سنگين نتائج برآمد ہوں گے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت میں جب سے بی جے پی اقتدارمیں آئی ہے تب سے بھارتی معاشرے میں نفرت اور مذہبی منافرت پھیلائي جارہی ہے ، بھارتی حکمراں جماعت نے اقتدار میں آنے کے بعد بابری مسجد پر بھی قبضہ کرلیا ہے بابری مسجد کے سلسلے میں مسلمانوں کو انصاف فراہم نہیں کیا گيا بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتوں کو آئے روز جبر و ستم یا تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

گزشتہ برس کی طرح اس برس بھی اونچی ذات کے ہندوؤں کی جانب سے نچلی ذات کے ہندوؤں، مسیحوں اور مسلمانوں کے خلاف تعصب اور بدسلوکی کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔

مسلمان بھارت میں سب سے بڑی اقلیت ہیں جو تقسیم ہند سے قبل ہندوستان میں سیکڑوں برس حکمران بھی رہے۔

تاہم تقسیم ہند کے بعد سے بھارت میں مسلمانوں کو تعصب کا سامنا رہا اور بھارت کے بانی رہنماؤں میں سب سے معروف موہن داس کرم چند گاندھی کو ہی 1948 میں ہندو مسلم اتحاد کی حمایت کرنے پر ایک ہندو انتہا پسند نتھورام گوڈسے نے قتل کردیا تھا۔

ہندو مسلم اتحاد کی حمایت کرنے پر ہندو انتہا پسندوں کی اکثریت مہاتما گاندھی کو " غدار" قرار دیتی ہے حالانکہ وہ خود ایک کٹر ہندو تھے، اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے گاندھی کے قاتل گوڈسے کو ہیرو قراردیا جارہا ہے۔

بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک، تشدد اور قتل جیسے واقعات کے بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ہیومن رائٹس واچ سمیت کئی عالمی تنظیمیں تشویش کا اظہار کرچکی ہیں ۔

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬