13 July 2013 - 13:42
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 5634
فونت
اسلامی اخلاق اور رھبر معظم انقلاب(5):
رسا نیوز ایجنسی – رھبر معظم انقلاب اسلامی ایران نے حضرت امام جعفرصادق علیہ ‌السلام منقول حدیث کی تشریح میں تاکید کی : مومنین ایک دوسرے کے خدمت گزار ہیں ۔
رھبر معظم انقلاب اسلامي
 
رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رھبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت‌الله العظمی خامنہ ‌ای نے سیکڑوں طلاب و افاضل کی شرکت میں حسینیہ امام خمینی(رہ) تھران میں منعقد ہونے درس خارج میں اخلاقی حدیثوں کی تشریح کی ۔
رھبر معظم انقلاب اسلامی نے حضرت امام جعفرصادق علیہ ‌السلام منقول حدیث «‫عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ(ع) قَالَ سَمِعْتُهُ یَقُولُ الْمُؤْمِنُونَ خَدَمٌ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ قُیل وَ کَیْفَ یَکُونُونَ خَدَماً بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ قَالَ یُفِیدُ بَعْضُهُمْ بَعْضاً... روی نے امام جعفرصادق علیہ ‌السلام سے نقل کیا کہ اپ نے فرمایا : مومنین ایک دوسرے کے خادم ہیں ، تو راوی نے اپ سے سوال کیا کہ مومنین کس طرح ایک دوسرے کے خادم ہیں تو اپ نے فرمایا کہ ایک دوسرے کے حق میں مفید ہیں »  کافى، ج 2، ص 167۔ کی تشریح میں کہا: خدم، خادم کی جمع ہے، یعنی خدمت کرنے والے ، خدم کو ھم فارسی زبان میں خدمت گزار کہتے ہیں ، جو محترم لفظ ہے اور اس کا غیر محترم لفظ نوکر ہے ۔
« قیل و کیف یکونون خدما بعضهم لبعض » راوی کے لئے جب امام علیہ السلام کا کلام سوال برانگیز ہوا تو اس نے امام(ع) سے پوچھا کہ مومنین کس طرح ایک دوسرے کے خادم ہیں ؟ یعنی کس طرح ایک دوسرے کے خدمت گزار ہیں ؟  کیا ایک دوسرے کے گھر جاکر ایک دوسری کی خدمت کیا کریں ؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا : «یفید بعضهم بعضا» ایک دوسرے کو فائدہ پہونچائیں ، یعنی مومنین کا ایک دوسرے کو فائدہ پہونچانا ان کی خدمت ہے، البتہ یہ خدمت بے لوث خدمت ہو جو اس خدمت کا اھم نکتہ ہے ۔
رھبر معظم انقلاب نے فرمایا: اگر ھم لوگوں نے ایک دوسرے کی خدمت کی، ایک دوسرے کو فائدہ پہونچایا، چاھے اپنے برابر کے لوگ ہوں چاھے اپنے سے نیچے کے لوگ جیسے کسی منیجمنٹ کا سربراہ، اس صورت میں ھرگز ایک دوسرے پر احسان نہ جتائیں ، ھمارے حوالہ سے اس حدیث کا اھم نکتہ یہی ہے کہ لوگ فقط ایک دوسرے کو فائدہ یا نفع نہ پہونچائیں بلکہ فائدہ کے ساتھ ساتھ احسان نہ جتائیں بلکہ یہ خدمت بے لوث خدمت ہو ، احسان جتا کر اس خدمت کے ثواب کو ضائع نہ کردیں ۔
 
 
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬