19 November 2009 - 20:43
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 579
فونت
آیت‌ الله مصباح یزدی:
رسا نیوز ایجنسی ـ تعلیمی اورتحقیقی ادارہ امام خمینی(ره) کے سربراہ ، نے کہا : دینی حکومت ایک معاشرتی نظام ہے کہ جو دینی ارزش و اھمیت کی بنا پر حکومت بناتی ہے اور اس ارزش کو اسلامی معاشرہ میں نافذ کرتی ہے ۔
آيت‌ الله مصباح يزدي:

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹر کی رپورٹ کی مطابق، آیت الله محمد تقی مصباح یزدی، تعلیمی اورتحقیقی ادارہ امام خمینی(ره) کے سربراہ ، نے دینی حکومت میں عدالت اور ترقی کے عنوان سے آج صبح تعلیمی اورتحقیقی ادارہ امام خمینی(ره) کے کانفرنس ھال میں کانفرنس انعقاد ہوا تھا اس میں معاشرتی عدالت میں حق کو مد نظر رکھ کر اپنی بحث شروع کی ، اور معاشرتی مفہوم میں عدالت کی تعریف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اظھار کیا : دینی حکومت ایک معاشرتی نظام ہے کہ جو دینی ارزش و اھمیت کی بنا پر حکومت بناتی ہے اور اس ارزش کو اسلامی معاشرہ میں نافذ کرتی ہے ۔


انیوں نے اس سوال کو پیش کیا کہ مشروعی حکومت جو چاہتی ہے کہ معاشرے میں اسلامی احکام جاری کیا جائے اس کا رابطہ عدالت سے کیا ہے ؟ انہوں نے بیان کیا : عدالت کے مفہوم کو مد نظر رکھیں اور کہا جائے کہ دینی حکومت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ عوام کا حق ان تک پہونچا دیا جائے تو مشکلات میں گرفتار ہو جائینگے ۔


تعلیمی اورتحقیقی ادارہ امام خمینی(ره) کے سربراہ نے حکومت کے وجود کے فلسفہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیان کیا : حکومت کی ذمہ داری حق کو عطا کرنا ہے اور حکومت قانون کے مطابق معاشرہ کی ارزش کے ساتھ اور معاشرے میں پائے جانے والے سہولیات اور اس سہولیات کو عوام کے درمیان اس طرح تقسیم کرے کہ ھر شحص اپنے استعداد و صلاحیت کے مطابق اس سے فائیدہ اٹھا سکے ۔


آیت‌الله مصباح یزدی نے اس بات کا اضافہ کیا : اسلامی نظریہ کے مطابق حکومت انسانوں کی معنوی ترقی اور معنوی استعداد کو محقق کرنے کا موقع فراھم کرے تا کہ وہ اپنے لائق کمال تک پہونچ سکے ۔


انہوں نے اس بیان کے ساتھ کہ عوام کے ضرورت کی چیزوں کو فراھم  کرنے کی کوشش بھی خود عدالت ہے کیونکہ عوام حکومت سے ان چیزوں کے حصول کا حق رکھتی ہے ، اور انھوں نے وضاحت کی : اگر عدالت کا معنی تبعیض کو ختم کرنا اور اقتصادی معنی میں لیا جائے تو نہی کہا جا سکتا ہے کہ حکومت اسلامی کی ذمیہ داری صرف عدالت کو نافذ کرنا ہے ۔
 

انہوں نے حکومت اسلامی میں عدالت کے ساتھ ترقی کے رابطہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اظہار خیال کیا : اگر عدالت کا معنی اس کے اعم معنی میں کیا جائے تو اس سے معلوم ہوگا کہ بشریت کی ضرورت اور اس کے کمالات کو پوری کرنا ذو مراتب امر ہے یعنی حکومت کی کوشش انسانوں کا اچھے سہولیات کے ساتھ زیادہ تر خیال رکھنا اور اس کی ترقی کے لئے راستہ ھموار کرنا خود عدالت کے مصداقوں میں سے ہے ۔


تعلیمی اورتحقیقی ادارہ امام خمینی(ره) کے سربراہ نے بیان کیا : اگر حکومت پروگرام کے ساتھ کام کرے کہ اس میں علمی اور صنعتی ترقی مثبت ضربب کے ساتھ ہو اور اقتصادی پروگرام ترقی نہ کرے اور معاشرے کا اس مشخص پیمانے پر ترقی صادق نہ آئے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عدالت اور ترقی میں فرق پایا گیا ہے ۔


آیت‌الله مصباح یزدی نے اسی طرح کہا : اگر معنوی ترقی کو اقتصادی ترقی سے مقائسہ کیا جائے کہ حکومت اپنی آمدنی کا بیشتر حصہ فساد اور فحشہ کو روکنے اور عوام کے اخلاق کی ترویج میں خرچ کی ہے اور اقتصادی آمدنی کم ہو جائے تو یہاں پر لازم ہے ترقی کو اس کے اسلامی مفہوم سے لینگے اور کہینگے کہ ترقی عدالت کے ایک مصداق میں سے ہے ۔ 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬