07 December 2009 - 16:22
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 652
فونت
حجت الاسلام احمد علي عابدي :
رسا نيوزايجنسي - حجت الاسلام والمسلمين احمد علي عابدي نے غدير کوحق وباطل کےدرميان حد فاصل بتايا .
احمد علي عابدي

 

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حجت الاسلام احمد علي عابدي نے کل عيد غدير کي مناسبت سے علوي دارالقران ميں منعقد محفل ميں طلاب اور افاضل کے مجمع ميں کہا : غدير حق وباطل کےدرميان حد فاصل کا نام ہے .

اپ نے ايہ ما محمد الا رسول کے استناد سےکہا : پيغبر(ص) اپکي شخصيت بس رسول ہے يعني خلاصہ شخصيت محمد رسالت اگر اپ يوں غور کريں دنيا کي خلقت کامقصد رسول، اور انبياء کي خلقت کا خلاصہ رسالت، اب مسئلہ فقط تنھا نبي (ص)کي رسالت کي رسالت کا نہي ہے بلکہ ايک لاکھ انبياء کي رسالت کا ہے.

جانب عابدي نے مزيد کہا : قابل غور ہےکہ ھمارے اعمال چاھے شرائط کے تحت ہوں يانہ ہوں مگر رسول (ص) کے سارے اعمال شريعت کے قوانين کے مطابق ہيں اگر وہ بوليں تو شريعت کے مطابق اگر کچھ کريں تو شريعت کے مطابق کيوں کہ وما محمد الارسول ہے اس لحاظ سے علي (ع) کي خلافت کي تنصيب شريعت کے قانون کے تحت ہے  .

ممبئي کے اس امام جمعہ نے رسول اسلام شخصيت  پر روشني ڈالتے ہوئےکہا : جب بي کسي کو کچھ ديا جاتاہے تو يا زبان سے ديا جاتا ہےيا ہاتھ سے خدانے نبي (ص)  کي دونوں چيز کي ضمانت لي وماينطق عن الھوي کہکر زبان کي ضمانت لي اور ومارميت اذرميت کہ کر ہاتھوں کي ضامنت لي .

حجت الاسلام احمد علي عابدي  نے اپنے بيان کے اخر ميں قبولي اعمال کي ايک اھم شرط کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا :  اسلام کي اھم شرط يہ ہے کہ پہلے برائيوں سے دوري کريں بعد ميں حق کي اطاعت کريں اسي لئے شريعت نے پہلے الحاد کے انکار کي بات کي ہے بعد ميں توحيد کي بات کي ہے اسي طرح حق کےراھنماء کو ماننے کے لئے ملحد راھنماء کا انکار ضروري ہے اور غدير کو ماننے کے لئے سقيفہ کا انکار ضروري ہے.

اپ نے مزيد کہا : جيسے ايک قطرہ سرکا پوري شھد کو برباد کرديتا ہے ويسے ہي ذراسا دشمنوں سے لگاو پورے ايمان کو برباد کرديتا ہے ، ھميں يہ جان لينا چاھئے کہ اج بھي غديرکا ايک حقيقي ذمہ دارزندہ اور ھماري ذمہ داري ہے کہ اسکے فرج کي دعاکريں .

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬