14 July 2014 - 17:48
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7017
فونت
پاکستان عوامی تحریک کے رہنما:
رسا نیوز ایجنسی – سرزمین پاکستان کی معروف سنی اسکالر طاہرالقادری نے یہ کہتے ہوئے کہ فلسطین میں مسلم یا غیر مسلم کا معاملہ نہیں بلکہ انسانیت کا مسئلہ ہے کہا: فلسطین میں اسرائیلی جارحیت اور سیکڑوں بے گناہوں کا قتل عام اقوام متحدہ کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے ۔
ڈاکٹر طاہر القادري

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان عوامی تحریک کے رہنما طاہرالقادری نے فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اقوام متحدہ و اسلامی ممالک کی خاموشی پر سخت رد عمل کا اظھار کیا ۔


انہوں ںے یہ کہتے ہوئے کہ اقوام متحدہ کا قیام اس لئے عمل میں لایا گیا تھا کہ وہ اقوام عالم کے درمیان امن بحال کرسکے مگر یہ ادارہ مکمل طور پر ناکام رہا ہے اور ویٹو طاقتوں کے ہاتھوں کھلونا بنا ہوا ہے کہا: فلسطین میں اسرائیلی جارحیت اور سیکڑوں بے گناہوں کا قتل عام اقوام متحدہ کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے ۔


طاہرالقادری نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ فلسطین میں مسلم یا غیر مسلم کا مسئلہ کا نہیں بلکہ انسانیت ، انسانی حقوق ، خواتین اور معصوم بچوں کے حقوق کا مسئلہ ہے کہا: ہمیں اس بربریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا چاہئے اور اقوام متحدہ کا دروازہ کٹھکھٹانا چاہئے ۔


انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ اقوام متحدہ نے یہ مسئلہ حل کر دیا تھا، ان کی حدود متعین کر دی تھیں، مگر UN اپنی قرار دادوں پر عمل نہیں کروا سکا۔ فلسطین کے بارے میں 100 سے زیادہ قراردادیں ویٹو ہوچکی ہیں، دنیا میں ویٹو پاورز نے طاقت کا توازن بگاڑ کر رکھ دیا ہے کہا: اقوام عالم میں کسی کو جرات نہیں کہ اسرائیل کی جارحیت کے بارے میں اس سے سوال کرسکے، ایک طرف پتھر اور غلیل ہے اور دوسری طرف ٹینک، میزائل، توپیں اور گولہ و بارود ہے۔ 180 ہلاکتیں ہوچکی ہیں، سینکڑوں لوگ زخمی اور قومی املاک تباہ و برباد کر دی گئیں ہیں۔


پاکستان عوامی تحریک کے رہنما نے اس بات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہ فلسطین کے بارڈر پر عالمی افواج کو تعینات کیا جائے، جس سمت سے بربریت ہو رہی ہے انہیں روکنے کے لیے اقوام متحدہ کردار ادا کرے کہا: پاکستانی حکمرانوں کے اندر اتنی جرات نہیں کہ اقوام عالم کے سامنے ڈٹ کر فلسطین کے مسئلے کو اٹھائیں، یہ حکمران خود اسرائیلی ذہنیت کے مالک ہیں، جنہوں نے 17 جون کو لاہور کے اندر چھوٹا غزہ قائم کرتے ہوئے ایک سو نہتے پاکستانی شہریوں پر گولیاں چلائیں، 14 نہتے پاکستانیوں کو گولی مار کر شہید کر دیا، جن میں دو خواتین کے چہروں پر سیدھی گولیاں ماری گئیں۔


انہوں ںے یہ کہتے ہوئے کہ APC کے مطالبے کے باوجود وزیراعلٰی ابھی تک مستعفی نہیں ہوئے ، ساؤتھ کوریا کے صدر کشتی ڈوبنے پر مستعفی ہو جاتے ہیں، یہاں ماڈل ٹاؤن میں 100 لوگ گولیوں سے چھلنی ہوجاتے اور 14 لاشیں گر جاتی ہیں، لیکن کوئی مستعفی نہیں ہوتا کہا: مقتولین کی FIR درج نہیں کی جا رہی، زخمیوں کا ریکارڈ تبدیل کیا جا رہا ہے، قاتل خود مدعی بن گئے ہیں، ان سے کیا توقع کریں کہ یہ فلسطین کے لوگوں کیلئے آواز اٹھائیں گے۔ انقلاب آئے گا پھر آواز اٹھے گی۔ یہ اقتدار بھیک میں مانگ کر لائے ہیں، انکی اپنی کوئی پالیسی نہیں، یہ اپنے آقاؤں کے غلام ہیں ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬