26 October 2014 - 21:42
News ID: 7410
فونت
شیعہ علماء کونسل پاکستان :
رسا نیوز ایجنسی ـ قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا : عرصہ دراز سے ملک میں امن و امان کی صورت حال انتہائی خراب چلی آرہی ہے جس پرملک میں امن و امان برقرار رکھنے کے لئے حکومت کو ضرب عضب جیسا اقدام اٹھانا پڑا اور اس اقدام کے بعد ضرب عضب میں کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں ۔
شيعہ علماء کونسل پاکستان


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق قائد ملت جعفریہ پاکستان حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی نے  حکومت کی جانب سے محرم الحرام میں مختلف شہروں میں فوج و دیگر حفاظتی اقدامات کے اعلانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے : عرصہ دراز سے ملک میں امن و امان کی صورت حال انتہائی خراب چلی آرہی ہے جس پرملک میں امن و امان برقرار رکھنے کے لئے حکومت کو ضرب عضب جیسا اقدام اٹھانا پڑا اور اس اقدام کے بعد ضرب عضب میں کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں ۔

انہوں نے وضاحت کی : یہ آپریشن کئی مرحلے طے کرچکا ہے کامیابیوں کے ان مراحل کے طے کرنے کے بعد محرم الحرام کے موقع پر مختلف شہروں میں فوج کی تعیناتی اور اس قسم کے اقدامات کا جواز باقی نہیں رہتا لہذا مروجہ قوانین کے ذریعے ہی حالات کو کنٹرول کرنا چاہیے اور لاء اینڈ آرڈر کو نافذ کرنے والے اداروں کو متحرک کرنا چاہیے تاکہ ایام غم میں عوام کی مذہبی اور شہری آزادیوں کا مکمل تحفظ ہوسکے۔

حجت الاسلام ساجد نقوی نے مزید کہا : نواسہ رسول اکرم (ص) محسن انسانیت حضرت امام حسین علیہ السلام پوری امت کے امام اور پیشوا ہیں  ضرورت اس امر کی ہے ان ایام میں کسی دوسرے کے مسلک کو چھیڑنے کی بجائے صرف اپنا نقطہ نظر پیش کیا جائے۔

انہوں نے بیان کیا : عزاداری سید الشہداء (ع) و جبر کے خلاف جہاد کرنے کا جذبہ عطا کرتی ہے اور اس سے انسان کے ذاتی رویے سے لے کر اجتماعی معاملات میں انقلاب رونما ہوتا ہے اس لئے ظلم و جبر اور شر کے حامی طبقات عزاداری کے مخالف اقدام کرتے ہیں حالانکہ پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق عزاداری منانا ہر شہری کا آئینی ، قانونی ، مذہبی اور شہری حق ہے جسے کوئی طاقت نہیں چھین سکتی۔

سید ساجد علی نقوی نے وضاحت کی : محرم الحرام کسی جنگ، خوف یا بدامنی کا پیغام بن کر نہیں آ رہا ہے بلکہ ایام عزاء مسلمانوں کے درمیان دین محمدی (ص) اور اہلبیت محمد (ص) کی محبت وعقیدت میں اضافے اور شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک حسین موقع کے طور پر آتا ہے لہذا سرکاری سطح پر محرم الحرام کو خوف کی علامت اور انتشار کا باعث قرار دینا محرم کے تقدس کی نفی کرتا ہے  اس صورت حال کا خاتمہ کرنا ریاست ، حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا : ایام محرم الحرام کے دوران تمام مسالک کے علماء ، خطباء ، مقررین، ذاکرین ، رہنمائوں اور جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ عوام کو اتحاد بین المسلمین، وحدت امت اور امن و امان کی طرف متوجہ کریں اور ایک دوسرے کے عقائد و نظریات کا احترام کرنے کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ تحمل، برداشت اور تعاون کا ماحول پیدا کریں، امن کمیٹیوں اور اتحاد بین المسلمین کمیٹیوں میں اپنا بہترین کردار ادا کریں تاکہ محرم الحرام بخیر و خوبی اور امن و آشتی کے ساتھ گزرے اور مستقبل میں بھی مکمل طور پر اتحاد و وحدت کی فضا قائم ہو اور اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاذ اوراسلامی معاشرے کے قیام کی جدوجہد آسان ہو۔
 

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬