24 December 2014 - 15:46
News ID: 7615
فونت
حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفری:
رسا نیوز ایجنسی – مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ نے پاک محرم ہال کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا: نواز شریف پارلیمانی جماعتوں کے اجلاسوں کے نام پر طالبان دہشتگردوں کیخلاف کاروائی میں خلل پیدا کر رہے ہیں ۔
مجلس وحدت مسلمين پاکستان کي کراچي ميں پريس کانفرنس حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفري


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفری نے پاک محرم ہال کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب میں تکفیری دہشتگردوں کی پھانسی روکنے والی عدالتی دہشتگردی پر نوٹس لینے کی تاکید کی ۔


انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ نواز شریف حکومت مولانا عبد العزیز کو گرفتار اور لال مسجد میں کسی معتدل پیش امام کو قرار دے اور اگر اس سے بھی بات نہ بنے تو لال مسجد کو گرا دیا جائے کہا: آج عام شیعہ سوال کرتا ہے کہ کیا شیعہ مسلمانوں کے قاتل دہشتگردوں کو ریاستی سرپرستی حاصل ہے ؟


ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے سربراہ نے اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ نواز شریف پارلیمانی جماعتوں کے اجلاسوں کے نام پر طالبان دہشت گردوں کے خلاف کاروائی میں خلل پیدا کر رہے ہیں کہا: تکفیری دہشت گردوں کے خلاف ملک بھر میں فوجی کارروائی قوم کا فیصلہ ہے، جس پر فوری عملدرآمد کیا جائے، لال مسجد سے امت کو تقسیم کرنے اور دہشت گردوں کی حمایت کا پیغام عام کیا جا رہا ہے ۔


انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ عدلیہ دہشت گردوں کی پھانسی کو روک کر دہشتگردوں کو حوصلہ فراہم کر رہی ہے، تکفیری دہشت گردوں کی پھانسی رکوانے کا مطلب ان خونخوار قاتلوں کا ساتھ دینا ہے، ان کی پھانسی پر فوری عملدرآمد کرکے ان کے وجود سے پاکستان کی سرزمین کو پاک کیا جائے کہا: پارلیمانی جماعتیں اپنی صفوں سے تکفیریوں کی حمایت کرنے والے عناصر نکال باہر کریں، ایسی سیاسی و مذہبی جماعتیں جو طالبان کی کھلم کھلا حمایت کر رہی ہیں، ان کیخلاف بھی آپریشن کیا جائے۔


حجت الاسلام جعفری نے یہ کہتے ہوئے کہ معصوم بچوں اور خواتین اساتذہ کا قتل عام کرنے والے سفاک تکفیری درندوں کے حامی اب بھی پاکستان میں آزاد ہیں، سزا یافتہ تکفیری دہشت گردوں کی سزائے موت کو معطل کرنے کے لئے نام نہاد عدلیہ بھی میدان میں اتری ہے کہا: جو عدلیہ عدل سے کام نہ لے اسے عدلیہ کہلانے کا حق نہیں ہے ، انصاف میں تاخیر کر کے انصاف کا انکار کرنا عدل نہیں بلکہ ناقابل معافی ظلم ہے، یہ پاکستان کے ہزاروں بے گناہ انسانوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے، تکفیری دہشت گردوں کی پھانسی رکوانے کا مطلب ان خونخوار قاتلوں کا ساتھ دینا ہے، یہ نام نہاد عدلیہ عدل و انصاف کو سبوتاژ کر رہی ہے۔


ایم ڈبلیو ایم مرکزی کے جنرل سکریٹری نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کے عدالتی فیصلوں کے بعد صرف شہر کراچی میں شیعہ مسلمانوں پر 3 مقامات پر حملے ہوئے، 2 شیعہ شہید ہو چکے ہیں اور 4 زخمی شیعہ زندگی کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں، ملک بھر میں شیعہ نسل کشی کا سلسلہ اس لئے جاری ہے کہ دہشت گردوں کو اس نام نہاد عدلیہ کی سرپرستی پر مکمل ایمان ہے کہا:  ہم پاکستان کے غیرت مند انسانوں اور خاص طور پر شہداء کے ورثاء سے اپیل کرتے ہیں کہ جس طرح لال مسجد کا گھیراﺅ کیا گیا، اسی طرح ان نام نہاد ججوں کا بھی عوامی احتساب کیا جائے، ان کا بھی گھیراﺅ کیا جائے، پاکستان کی مقننہ ایسے ججوں کا احتساب کرے اور مستقبل میں ایسے عدالتی ظلم کو روکنے کے لئے فوری قانون سازی کرے۔


انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ دہشت گردوں کے حامی قانون کی حکمرانی قائم نہیں کر سکتے، چیف جسٹس آف پاکستان اور سپریم جوڈیشل کمیشن بھی ان نام نہاد ججوں کی عدالتی دہشت گردی کا از خود نوٹس لیں اور ہم عوام و خواص ، ذرائع ابلاغ اور دہشت گردوں کے مخالف سیاستدانوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ ان درندہ صفت دہشت گردوں سے مذاکرات کے حامیوں کے بارے میں نرم رویہ ترک کر دیں کہا: ان پر مکمل پابندی عائد کر دیں، ان کا مکمل بائیکاٹ کر دیں، میڈیا بھی بائیکاٹ کرے، ان کا سوشل بائیکاٹ کریں، ان کو اور تکفیری دہشت گردوں کو کسی صورت میں ذرائع ابلاغ تک رسائی نہیں ہونی چاہئے، اگر ذرائع ابلاغ چاہیں تو ان تکفیریوں کی انسانیت دشمنی کے بھیانک رخوں کو بے نقاب کرکے رائے عامہ کو گمراہ ہونے سے بچا سکتے ہیں۔


حجت الاسلام جعفری نے یہ کہتے ہوئے کہ ان تکفیری قاتل دہشت گردوں کی سرپرستی کا مرکز مدارس ہیں، ہمیں ماننا ہوگا کہ پاکستان میں ایسی کئی مساجد و مدارس ہیں جو مسجد ضرار کا کردار ادا کر رہے ہیں، ان سب کو بند ہونا چاہئے، حکومت یہ ڈرامہ بند کرے کہ دس فیصد مدارس ہیں، نام لے کر بتائے کون کون سی مساجد اور مدارس نے آج تک تکفیریت کو پھیلایا اور تکفیری دہشت گردوں کی سرپرستی کی کہا: ہمیں نام لے کر بتایا جائے کہ کون کون سے دہشت گرد ہیں جنہوں نے ملاﺅں کا روپ دھار رکھا ہے، اور نام لے کر بتائیں کہ کون کون سے تکفیری دہشت گرد گروہوں نے ہمارے بچوں کو، ہماری خواتین کو ہماری فوج، پولیس اور رینجرز کو قتل کیا اور یہ کہہ کر قتل کیا کہ وہ کافر ہیں، یہ زبانی مذمت کافی نہیں، کوئی عملی قدم اٹھایا جائے۔


انہوں نے پوری پاکستانی ملت سے مودبانہ تاکید کرتے ہوئے کہ سانحہ پشاور کو ہرگز فراموش نہ کریں کیوں کہ یہ ایسا زخم ہے جو مدتوں بھرا نہیں جا سکے گام، یہ عہد کر لیں کہ اس سانحہ سمیت ہر سانحہ کے ذمہ دار تکفیری دہشت گرد قاتلوں کے کیفر کردار تک پہنچنے تک قومی سطح پر اجتماعی طور پر ہمارا سوگ جاری رہے گا کہا: ہم شہدائے آرمی پبلک اسکول پشاور کے سوگوار رہیں گے اور یہ عہد کرلیں کہ ہم معتدل علماء، سیاستدانوں اور دانشوروں سے درخواست کرتے رہیں گے کہ وہ تکفیریت کے خلاف متحد ہوں، وہ فتنہ تکفیریت کے خاتمے کے لئے میدان عمل میں آئیں، فوجی آپریشن اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے، لیکن اس گمراہ فتنہ انگیز تکفیری نظریئے کو ہمیشہ کے لئے دفن کرنا ضروری ہے، اور اس کے لئے معتدل علماء اسلام کے روشن و انسانیت دوست نظریات کو برملا بیان کریں، انسانیت کے قاتلوں، مسلمانوں کے قاتلوں کے انتہاپسند تکفیری نظریات کو ختم کرنے کے لئے ذرائع ابلاغ ان معتدل علماء کو عوام کے سامنے پیش کریں۔


علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ پر لازم ہے کہ تکفیریت کے خاتمے کے لئے اس فتنہ انگیز تکفیری آئیڈیالوجی کو قابل تعزیر جرم قرار دے، اس نظریہ کے پیروکاروں کو سزائیں دی جائیں، کیونکہ تکفیریت انسانوں کے قتل عام پر اکسانے والا انتہاپسند نظریہ ہے، جس کا اسلام سے کوئی ربط و تعلق نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام اعتدال کی ہدایت کرنے والا انسانیت دوست دین ہے، یہ قانون سازی بھی جلد ہونی چاہئے، حکمران اور سیاستدان کمیٹیوں کے ذریعے تاخیری حربوں سے گریز کریں، عملی اقدامات اور فوری ایکشن پر توجہ مرکوز کریں۔


حجت الاسلام جعفری نے اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ نواز حکومت شروع سے ہی انسداد دہشت گردی کے لئے فوجی آپریشن سے گریز کرتی رہی اور ان کی تکفیریت دوست پالیسیوں سے دہشت گردوں کے حوصلے بڑھے اور سانحہ پشاور رونما ہوا کہا: اگر نواز حکومت نے بروقت عملی اقدامات سے ماضی کی طرح گریز کیا تو مزید سانحات پیش آسکتے ہیں، اس لئے آپریشن ضرب عضب کو پورے ملک میں پھیلائیں تاکہ پورے ملک میں بیک وقت تکفیریوں کا صفایا کیا جا سکے۔


انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے شیعہ نسل کشی میں ملوث دہشت گرد گروہوں کے خلاف تاحال کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے، آج پاکستان کا عام شیعہ یہ سوال کرتا ہے کہ کیا شیعہ مسلمانوں کے قاتل دہشت گردوں کو ریاستی سرپرستی حاصل ہے؟ ہم اس تعصب کی بھی مذمت کرتے ہیں کہا: شیعہ شہداء بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اپنے شہداء ہیں اور ان کا غم بھی پاکستان کا غم ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ شیعہ نسل کشی میں ملوث دہشت گردوں اور تکفیری نظریے کا پرچار کرنے والے ان کے سرپرستوں کو بھی سرعام پھانسی دی جائے۔ ہم شیعہ شہداء کے خانوادوں کی خدمت میں بھی تعزیت پیش کرتے ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ ان شہداء کا مقدس خون رائیگاں نہیں جائے گا ۔


واضح رہے کہ پاک محرم ہال کراچی میں ہونے والی اس پریس کانفرنس میں علی احمر زیدی، علامہ مبشر حسن، حجت الاسلام عقیل موسیٰ، علی حسین نقوی، علی انور جعفری اور احسان دانش بھی موجود تھے۔
 

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬