03 February 2010 - 15:31
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 909
فونت
قائد انقلاب اسلامی:
رسا نیوزایجنسی - قائد انقلاب اسلامی نے اج صبح تہران یونیورسٹی اور اس کی مختلف فیکلٹیوں کے اساتذہ، طلباء اور عہدہ داروں کے اجتماع سے اپنے خطاب میں بیان کیا کہ حقیقی طاقت، فوجی ساز و سامان نہیں بلکہ علم و ایمان پر استوار ہوتی ہے.
قائد انقلاب اسلامي


رسا نیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آج صبح تہران یونیورسٹی اور اس کی مختلف فیکلٹیوں کے اساتذہ، طلباء اور عہدہ داروں کے اجتماع سے اپنے خطاب میں علم و دانش کو ایران کی طاقت و پیشرفت کی اصلی بنیاد اور تکیہ گاہ قرار دیا۔ آپ نے فرمایا: شروع ہو چکے علمی سفر کو پوری توانائی اور سرعت کے ساتھ جاری رکھنا چاہئے۔


قائد انقلاب اسلامی نے قوم اور یونیوسٹی سے وابستہ صنف کو عشرہ فجر (انقلاب کی سالگرہ) کی مبارکباد پیش کی اور فرمایا: اسلام و قرآن کی تعلیمات کی بنیاد پر عوام کے مسائل کے حل اور ملک کی تعمیر و ترقی کی کوششوں کےساتھ ہی اسلامی ایران کی پوری انسانیت کے سلسلے میں بھی ذمہ داریاں ہیں اور ان فرائض کی انجام دہی کے لئے حقیقی طاقت و قوت کی ضرورت ہے۔


قائد انقلاب اسلامی نے انسانی معاشرے کے تعلق سے اسلامی جمہوریہ ایران کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے جارحیت اور کشور گشائی کے حتی تصور کو بھی ناقابل قبول قرار دیا اور فرمایا: وہ طاقت جو انسانی معاشرے کی مشکلات کے حل میں موثر اور مددگار ثابت ہوتی ہے، فوجی ساز و سامان، پیداواری صلاحیتوں اور ٹکنالوجی سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ دو بنیادی عوامل "علم و ایمان" پر استوار ہوتی ہے۔


قائد انقلاب اسلامی نے گزشتہ تین عشروں کی ایران کے اہم علمی اور سائنسی کامیابیوں کو آزادی اور آزادانہ فکر کا ثمرہ قرار دیا اور فرمایا: اگر طاغوتی (شاہی) حکومت برقرار رہتی تو خواہ کتنا ہی وقت گزر جاتا، یہ کامیابیاں ممکن نہ ہو پاتیں کیونکہ اغیار پر منحصر اور بیگانوں کی تسلط پسندانہ پالیسیوں کے دباؤ میں رہنے والے آمرانہ نظام حکومت میں سائنسی اور علمی ترقی ممکن نہیں ہوتی۔


آپ نے مزید فرمایا: گزشتہ تین عشروں میں ہونے والی ترقی بھی کافی نہیں ہے اور عالمی سائنسی بلندیوں سے ابھی ہمارا فاصلہ زیادہ ہے جسے طے کرنے کے لئے دانشوروں، سائنسدانوں، ممتاز شخصیات اور طلبا کی دگنی، مربوط اور بے تکان کوششوں کی ضرورت ہے۔


قائد انقلاب اسلامی نے یونیورسٹی کے ماحول خاص طور پر تہران یونیورسٹی کی فضا سے اپنی گہری دلچسپی اور دیرینہ رابطے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ملک کی ترقی کی رفتار کو سرعت بخشنے میں اس یونیورسٹی کے کردار کو نمونہ اور انتہائی اہم قرار دیا اور فرمایا: پچاس سالہ منصوبہ بندی کے ذریعے وطن عزیز کو علمی لحاظ سے دنیا کا صف اول کا ملک بنایا جا سکتا ہے اور ملک کو (اغیار کی) علمی اجارہ داری سے آزاد کرکے علوم انسانی کی گہرائی و گیرائی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔


قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے قوم اور انسانی معاشرے کی خوشبختی اور علمی ترقی اور انصاف و مساوات سمیت انسانی سماج کی دیرینہ خواہشات کی تکمیل کو اسلام اور اسلامی جمہوریہ کا نصب العین قرار دیا اور فرمایا: علم و دانش کو پاکیزہ، روحانی اور شرافت مندی کی نظر سے دیکھا جانا چاہئے جبکہ آج علم و دانش کو نا انصافی اور ظالم طاقتوں کی خدمت کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔


قائد انقلاب اسلامی نے جدید، مسلح اور نا قابل اعتراض نا انصافی کو عصر حاضر کی ایک حقیقت قرار دیا اور اس اصطلاح کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: وسیع اور جدید ٹکنالوجی جیسے مواصلاتی ذرائع پر استوار پروپیگنڈہ اور بلا وقفہ سازشیں جو اسلامی جمہوریہ کے خلاف ہو رہی ہیں، جدید اور مسلح نا انصافی کے نمونے ہیں جو آج کی دنیا میں سائنس و ٹکنالوجی کے سہارے انجام دی جا رہی ہے اور اس نا انصافی پر اعتراض کی وجہ سے اسلامی جمہوریہ ایران کو حملوں کی آماجگاہ بنا دیا گیا ہے۔


قائد انقلاب اسلامی نے یونیورسٹیوں کی دوسری اہم ترجیح کے طور پر ثقافت کی جانب اشارہ کیا اور علم و دانش کی بے پناہ اہمیت پر روشنی ڈالنے کے بعد اس موضوع پر گفتگو فرمائی۔


قائد انقلاب اسلامی نے طلبا کی ثقافتی تربیت کو انتہائی ظریف اور بے حد توجہ طلب مسئلہ قرار دیا اور اس کے لئے نصابی کتب کی تدوین، اساتذہ کے انتخاب اور طلبا سے متعلق دیگر امور کی صحیح منصوبہ بندی کو لازمی قرار دیا۔ آپ نے فرمایا: ثقافت کی اہمیت کا ادراک اور اس پر صحیح انداز میں عمل آوری، فرمان، حکمنامے، پرچار اور بینروں کے ذریعے ممکن نہیں ہے بلکہ اس کے لئے اندرونی جوش و جذبے اور نوجوان نسل کی تقدیر اور ملک کے مستقبل سے گہری انسیت کی ضرورت ہے۔


قائد انقلاب اسلامی نے علم و دانش کے سلسلے میں صحیح اور منطقی نقطہ نظر کی ترویج کو یونیورسٹیوں کے اہم ثقافتی فرائض کا جز قرار دیا اور اسے علم و تحقیق اور تعلیم و تعلم کے میدان میں طلبا اور اساتذہ کی بلا وقفہ مساعی اور جوش و خروش کا موجب قرار دیا اور فرمایا: با استعداد نوجوان طالب علم کو ظریف ثقافتی اقدامات کے ذریعے علم و دانش اور تحقیق و مطالعے کا خوگر، صابر، اجتماعی منصوبوں کے لئے مناسب، محنتی و فرض شناس، با انصاف، جذبات پر عقل کو ترجیح دینے والا اور دیندار نوجوان بنایا جا سکتا ہے اور اس طرح ضروری قومی صفات کو عام کیا جا سکتا ہے۔


آپ نے یونیورسٹی کے حلقے کو دین اور دینی معارف سے دور رکھنے کو استبدادی شاہی دور کا بہت بڑا گناہ قرار دیا اور فرمایا: نوجوان طلباء کے قلب و روح میں دینی معرفتوں جاگزینی معاشرے اور ملک کی خوشبختی و بصیرت کی ضمانت ہے اور ان امور کے ذمہ دار یونیورسٹی کے انتظامی عہدہ دار اور حکام ہیں۔
تہران یونیورسٹی کے اساتذہ اور انتظامی عہدہ داروں کے اجتماع سے اپنے خطاب میں قائد انقلاب اسلامی نے "سیاست اور یونیورسٹی" کے موضوع پر بھی بصیرت افروز گفتگو فرمائی۔


آپ نے یونیورسٹیوں میں سیاسی شعور اور جوش و جذبے کی ضرورت پر اپنے یقین کی بات کا اعادہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر یونیورسٹی پوری طرح سیاست سے الگ ہو جائے تو جوش و جذبے سے عاری اور فکر و طرز عمل کو متاثر کرنے والے خطرناک جراثیم کی نشو نما کا مقام بن جائے گی تاہم یونیورسٹیوں میں سیاست کی ضرورت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ علمی مراکز سیاسی حلقوں اور عناصر کی رہائش گاہ بن جائیں۔
قائد انقلاب اسلامی نے یونیورسٹیوں کو سیاسی حلقوں کے ہاتھوں غلط طریقے سے استعمال ہونے سے بچانے کے لئے متعلقہ حکام کی موثر کارکردگی اور انتظامی اقدامات کو ضروری قرار دیا اور فرمایا: اس انتہائی اہم امر سے غفلت یونیورسٹیوں اور علمی مراکز کی سیاسی فضا کے دشمنوں کا تختہ مشق بن جانے پر منتج ہوگی۔


قائد انقلاب اسلامی نے شیطان اور شیطان صفت عناصر کے مکر و حیلے سے ایک لمحے کے لئے بھی غفلت نہ برتنے پر قرآن کی خصوصی اور مکرر تاکید کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: میری نظر حسن ظن پر مبنی ہے اور اسی بنا پر میرا ماننا ہے کہ گزشتہ مہینوں میں پیش آنے والے بعض تلخ واقعات بعض افراد کی بڑی غفلتوں کے نتیجے مین رونما ہوئے ہیں اور یہ خیال رہنا چاہئے کہ سیاست کے میدان میں غفلت اور غیر عمدی اقدامات بھی کبھی کبھی خیانت والے نتائج کا سبب بنتے ہیں۔


قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تہران یونیورسٹی کے چانسلر اور اساتذہ کی جانب سے آپ کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دئے جانے کی تجویز پر اظہار تشکر کیا اور فرمایا: یونیورسٹی والوں کا یہ اظہار محبت اور یہ موضوع، حقیر کے لئے باعث فخر ہے لیکن میں اس (اعزازی ڈگری) کو قبول کرنے سے معذور ہوں، اگر اللہ تعالی کی عنایت رہی تو طالب علمانہ عہد و میثاق کا پابند اور اس پر عمل پیرا رہوں گا۔


قائد انقلاب اسلامی کے خطاب سے قبل وزیر تعلیم ڈاکٹر دانشجو نے اسلامی انقلاب کی اکتیس سالہ عمر کے مختلف مراحل میں طلبا اور یونیورسٹی کے حلقوں کی موثر اور فعال موجودگی اور شراکت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اب تک کی منصوبہ بندی کے مطابق ملک بھر کی یونیورسٹیوں سے وابستہ افراد انقلاب کے مزید اہداف اور مقاصد کی تکمیل کے لئے اپنی علمی و تحقیقاتی سرگرمیوں کو مزید سرعت کے ساتھ جاری رکھیں گے۔


اس کے بعد تہران یونیورسٹی کے چانسلر نے اس یونیورسٹی کے قیام کی پچہترویں سالگرہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران یونیورسٹی، تینتالیس فیکلٹیوں کے ساتھ پانچ سو چورانوے علمی موضوعات کے سلسلے میں سرگرم عمل ہے اور اس کی علمی سرگرمیوں کی وسعت اور کیفیت اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد کی محنتوں کا نتیجہ ہے۔


ڈاکٹر فرہاد رہبر نے کہا کہ انقلاب سے قبل تہران یونیورسٹی کی چوالیس سالہ کارکردگی کے دوران یونیورسٹی کے کل دو لاکھ طلبہ میں محض چودہ فیصدی نے کسب علم کیا جبکہ چھیاسی فیصدی طلبہ وہ ہیں جنہوں نے انقلاب آنے کے بعد اس یونیورسٹی سے کسب علم کیا۔


تہران یونیورسٹی کے چانسلر نے کہا کہ دنیا کے معتبر جرائد میں شائع ہونے والے اس یونیورسٹی کے اساتذہ کے کل بارہ ہزار نو سو ساٹھ مقالوں میں سے محض ایک سو چھتیس مقالے انقلاب سے قبل کے دور سے متعلق ہیں جبکہ بقیہ تحقیقی مقالے انقلاب کے بعد کے دور سے متعلق ہیں اور اس وقت تہران یونیورسٹی عالمی درجہ بندی میں ایک سو سترہ زینے اوپر پہنچ کر دنیا کی بہترین پانچ سو یونیورسٹیوں میں شامل ہو گئی ہے۔


ڈاکٹر فرہاد رہبر نے مختلف ممالک میں یونیورسٹی کے شعبے کی سرگرمیوں کے عمل پر ناقدانہ نظر ڈالتے ہوئے گزشتہ تین عشروں کے دوران مختلف علمی و سائنسی شعبوں میں ملک کے ارتقاء کے معیاروں کو بیان کیا اور بتایا کہ دنیا میں نئی ایجادات میں گزشتہ پندرہ برسوں میں ایران کی شراکت میں پچہتر گنا کا اضافہ ہوا ہے اور اب یہ شراکت ایک فیصدی سے زیادہ ہو گئی ہے۔


تہران یونیورسٹی کے چانسلر نے ایٹمی سائنسداں پروفیسر علی محمدی شہید کے قتل کے واقعے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سائنسی و تعلیمی عمل میں رخنہ اندازی کی دشمنوں کی کوششیں طلبا اور یونیورسٹی سے وابستہ افراد کی بیداری و بصیرت کے نتیجے میں ناکام رہیں گی۔
 

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬