‫‫کیٹیگری‬ :
10 June 2018 - 16:56
News ID: 436226
فونت
آغا علی رضوی:
مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ اسرائیل ایک ایسا ناسور ہے جس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ کے لیے خطرہ لاحق ہے بلکہ عالم انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔
حجت الاسلام آغا علی رضوی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکریٹری جنرل آغا علی رضوی نے یوم القدس کے موقع پر یادگار شہدا ء پر عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف عالم انسانیت اور عالم اسلام کی جانب سے مذمت کرنے کا وقت ختم ہوچکا ہے اور اب عملی اقدامات کا وقت آچکا ہے۔

ستر سالوں سے قبلہ اول غاصب صیہونیوں کے قبضے میں ہے اور بے گناہ فلسطینیوں کے خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ اسرائیل جارحیت و مظالم کو روکنے کے مسلمانوں کو متحد ہو کر فلسطین کی مزاحمتی تحریکوں کا ساتھ دینا ہوگا۔

 انہوں نے کہا کہ اسرائیل عالم اسلام کے قلب پر خنجر کی مانند ہے۔ اسرائیل ایک ایسا ناسور ہے جس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ کے لیے خطرہ لاحق ہے بلکہ عالم انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔

آغا علی رضوی نے کہا کہ ستر سالوں سے مسئلہ فلسطین پر اقوام متحدہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ او آئی سی بھی مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ نظر نہیںآتی۔ اسرائیلی مظالم پر خاموش رہنے اور اسرائیل کے ساتھ خفیہ طور پر سفارتی تعلقات قائم رکھنے والے نام نہاد اسلامی ممالک کا ہاتھ بھی مظلوم فلسطینیوں کے خون سے رنگین ہے۔

پاکستان کو بھی عالمی سطح پر سرائیل پر دباو بڑھانے اور مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ کوشش جاری رکھنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یوم القدس یوم مستضعفین جہان ہے اور فلسطین مسلمان مزاحمت و مقاومت کا استعارہ ہے۔ انکی مزاحمت سے پوری دنیا کے مظلومین کو درس حریت و مقامت ملتا ہے۔

آج کشمیر کے مظلومین ہو یا یمن و بحرین کے مظلومین ان سب کے لیے فلسطین مزاحمت کے لیے سر مشق ہے۔ انکی نہ تھکنے والی جدوجہد سے دوسرے مظلومین کے لیے توانائی ملتی ہے۔ آج فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ دنیا کے بھر مظلومین کے حق میں آواز بلند کرنا یوم القدس کا اصل فلسفہ ہے۔

آغا علی رضوی نے کہا کہ ہمیں فلسطین کے ساتھ کشمیری مسلمانوں کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔ انڈیا جہاں اسرائیل کا اتحادی ملک ہے وہیں ہندوستان جنوبی ایشیا ء میں اسرائیل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ہندوستان کی ظالمانہ تاریخ بھی ستر سالوں پر محیط ہے۔ امریکہ و اسرائیل جنوبی ایشیا ء میں اپنے ایجنڈے ہندوستان کے ذریعے مکمل کرنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کی آمد پر ہندوستانی عوام نے احتجا ج کر ے اپنی ریاست کو پیغام دیا کہ عوام انسانیت پر جاری مظالم پر خاموش نہیں رہ سکتے۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬