‫‫کیٹیگری‬ :
06 March 2017 - 23:15
News ID: 426720
فونت
آیت الله حسین مظاهری:
حوزه علمیہ اصفهان کے سربراہ نے کہا: ملت اسلامیہ میں امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کی ترویج شیعیت کے امتیازات میں سے ہے ۔
حضرت آیت الله حسین مظاهری


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی اصفهان سے رپورٹ کے مطابق، حوزه علمیہ اصفهان کے سربراہ حضرت آیت الله حسین مظاهری نے مسجد امیرالمؤمنین(ع) جی روڈ پر ہونے والی تفسیر قران کریم کی نشست میں کہا: ملت اسلامیہ میں امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کی ترویج شیعیت کے امتیازات میں سے ہے ۔

انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ خداوند متعال نے امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کی راہ میں موجود مشکلات کا اقرار کیا ہے کہا: ان تمام باتوں کے باوجود اسے جامہ عمل پہنانا ضروری اور واجب ہے نیز اس وظیفہ کی انجام دہی امداد الھی کا نیاز مند ہے ۔

حضرت آیت الله مظاهری نے مزید کہا: امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کے مراتب موجود ہیں کہ اس کا پہلا مرحلہ خود انسان کا عمل ہے ، شرعیت کی باتوں پر عمل اطرافیان کی ھدایت کا سبب ہے ، معصومین(ع) کی روایات کے تحت یہ مرحلہ امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کا اہم ترین اور بالاترین مرحلہ ہے ۔

حوزه علمیہ اصفهان کے سربراہ نے یاد دہانی کی : احکام الھی پر عمل نہ کرنے والوں سے مقابلہ امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کا دوسرا مرحلہ ہے کہ انسان ، گناہگار افراد سے اپنا رابطہ توڑ لے تاکہ وہ اس طرح متنبہ ہو سکیں ۔

حوزہ علمیہ میں علم اخلاق کے مشھور استاد نے بیان کیا: امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کا تیسرا مرحلہ لسانی اور زبانی تذکر ہے ، انسان لسانی امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کے مرحلے میں نہایت مہربانی اور استدلالی طریقہ سے امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کرے کیوں کہ گناہگار افراد کے ساتھ سختی اور تندی کے ساتھ پیش آنا بے سود ہے ۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ سبھی امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کے وظیفہ کو بخوبی انجام دیں کہا: اگر سب مل کر امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کے فریضہ کو انجام دیں تو یقینا اس کے اثار نمایاں ہوں گے اور معاشرے میں گناہ کم ہوجائے گا ۔

حضرت آیت الله مظاهری نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ہمارے معاشرے کی بے پردگی دشمن کی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے کہا: بری حالت میں معاشرے میں آنے جانے والے لڑکے اور لڑکیوں کو اگر دسیوں لوگ ٹوکیں ، ان سے معاملہ نہ کریں اور انہیں متنبہ کیا جائے تو یقینا وہ اپنی غلط حرکتیں چھوڑ دیں گے ۔

حوزہ علمیہ میں علم اخلاق کے مشھور استاد نے موجودہ معاشرے میں عورتوں اور مردوں کی موجودہ حالت زار پر افسوس کا اظھار کیا اور کہا: پیغمبر اسلام(ص) نے روایت میں فرمایا کہ میری امت پر ایک دور آئے گا کہ امر بالمعروف کے بجائے ایک دوسرے کو امر بالمنکر کیا جائے گا اور بجائے عن المنکر ایک دوسرے کو نھی عن المعروف کیا جائے گا ۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ھرگز دوسرے کی یاد دہانی کے مقابل « تم سے کیا تعلق ہے » کا جملہ استعمال نہ کیا جائے مزید کہا: ملت اسلامیہ میں امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کی ترویج شیعیت کے امتیازات میں سے ہے اس لحاظ سے « تم سے کیا تعلق ہے » کا جملہ شیعہ آئین و اصول کے خلاف ہے ۔

حضرت آیت الله مظاهری نے مزید کہا: تکلفات سے آلودہ معاشرے کی سب سے پہلی مصیبت یہ ہے کہ اس معاشرے کے اچھے اور نیک افراد کی دعائیں قبول نہ ہوں گی اور اشرار کی معاشرے پر حکومت ہوگی ، لھذا امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کے حوالے سے ہمیں تکلفات کو ترک کردینا چاہئے ۔

حوزہ علمیہ میں علم اخلاق کے مشھور استاد نے کہا: معاشرے میں بڑھتے ہوئے طلاق کی بنیاد بھی امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کی انجام دہی میں تکلفات سے کام لینا ہے ، ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں اور اپنے وظائف کو بخوبی بیان کریں تاکہ معاشرے سے طلاق کی جڑیں خشک ہوجائیں ۔

حضرت آیت الله مظاهری نے آخر میں کہا: رسول اسلام(ص) کے زمانے میں امر بالمعروف اور نهی عن المنکر نے اسلام کو حیات بخشی اور لوگوں کی ہدایت میں موثر کردار ادا کیا ۔/۹۸۸/ ن۹۳۰/ ک۷۱۵

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬