31 May 2018 - 17:08
News ID: 436116
فونت
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے کہا ہے کہ ایک عشرے سے جاری غزہ کے محاصرے اور اسرائیل کے مجرمانہ اقدامات کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
فلسطینی بچے

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس کے نمائندے ویسلے نبزیا نے غزہ کی صورت حال کا جائزہ لینے کی غرض سے منعقدہ سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں اشتعال انگیز، یکطرفہ اور تشدد آمیز اقدامات نیز غاصبانہ قبضے اور بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ فلسطینیوں کو انسان دوستانہ امداد کی فراہم کرنے کے لیے اپنی پوری توانائیاں بروئے کار لائے۔

 اقوام متحدہ میں فلسطین کے نمائندے ریاض منصور نے بھی اپنے خطاب میں امریکی پالیسیوں پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کے مجرمانہ اقدامات کا سلسلہ بند کرائے۔

 اقوام متحدہ میں فرانس کے نمائندے فرانسو دلاترے نے اس موقع  پر کہا کہ ایک عشرے سے جاری غزہ کے محاصرے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور اس علاقے کے عوام کے مظاہرے ان کی مشکلات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

 کویت کے نمائندے منصور العتیبی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی پالیسیاں اور اقدامات ہی خطے میں کشیدگی کا سبب ہیں اور اسرائیل کے تباہ کن اقدامات کے مقابلے میں فلسطینیوں کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ آج فلسطینوں کو سلامتی کونسل کی حمایت کی ضرورت ہے، اسرائیل کو نہیں جو جدید ترین فوجی سازوسامان کے ذریعے فلسطینیوں پر مظالم ڈھا رہا ہے۔

 کویتی مندوب نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اسرائیل کو طے شدہ سرحدوں میں محدود کرنا اور فلسطینیوں کے علاقوں سے باہر نکالنا اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خلاف خاموش نہ رہے کیونکہ غاصبانہ قبضے کا معاملہ اقوام متحدہ کے منشور کے منافی ہے۔

 اس موقع پر اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب ما زاؤ شو نے کہا کہ ان کا ملک آزاد فلسطینی  مملکت کے قیام کی حمایت کرتا ہے۔

 عالمی برادری کے موقف کے برخلاف امریکی مندوب نکی ہیلی اور برطانیہ کے مندوب کارن پیرسن نے اپنے اپنے ملکوں کے دیرنیہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے اسرائیل کے مجرمانہ اور غیر انسانی اقدامات کو خاطر میں لائے بغیر غاصب صیہونی حکومت کی بھرپور حمایت کی۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬