09 September 2015 - 12:28
News ID: 8432
فونت
وفاقی وزیر داخلہ پاکستان:
رسا نیوز ایجنسی - چوہدری نثار علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ایک دوسرے کو کافر اور واجب القتل قرار دینے والوں کیخلاف سخت ایکشن لیا جائے گا ۔
چوہدري نثار علي

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وفاقی وزیر داخلہ پاکستان چوہدری نثار علی نے اسلام آباد میں قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد سے متعلق اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ایک دوسرے کو کافر اور واجب القتل قرار دینے والوں کیخلاف سخت ایکشن لیا جائے گا ۔


انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ اسلام کے نام پر دہشتگردی کرنیوالے ملک اور مذہب سے مخلص نہیں ہیں کہا: دہشتگردی میں ملوث فرد یا ادارے کیخلاف بلاتفریق کارروائی کی جائے گی ۔


چوہدری نثار علی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ مدارس کو بیرونی امداد کا طریقہ کار حکومت وضع کرے گی کہا:  دہشت گردی کے خاتمے کیلئے علماء کی خدمات حاصل کی جائیں گی، تمام علمائے کرام نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے پر اتفاق کیا ہے۔


انہوں نے یہ بتاتے ہوئے کہ دس ستمبر کو چاروں وزرائے اعلٰی کا اجلاس طلب کیا ہے، اجلاس کا مقصد نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کا جائزہ لینا ہے، نیشنل ایکشن پلان پر کابینہ کو بریفنگ دی گئی، آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی اجلاس میں شریک ہونگے، آج ہونے والے اجلاس میں تمام مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے اتفاق ہوا، رجسٹریشن آسان بنانے کیلئے کمیٹی تشکیل دی جائے گی، تین ماہ میں مدارس کے تمام کوائف حاصل کیے جائیں گے کہا: مدارس کو رقوم کی ترسیل بینکوں کے ذریعے کی جائے گی، جبکہ مدارس بیرونی امداد کی آڈٹ رپورٹ پیش کرنے کے پابند ہونگے، مدارس سے متعلق قانون سازی تنظیم المدارس کی مشاورت سے ہوگی ۔


وفاقی وزیر داخلہ پاکستان نے یہ کہتے ہوئے کہ اجلاس میں مدارس کا نصاب بہتر بنانے کیلئے کمیٹی بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ نصاب کیلئے وزارت تعلیم، مذہبی امور، مدارس کی کمیٹی قائم ہوگی، مدارس کو بدنام کرکے مالی مقاصد حاصل کرنیکا سلسلہ ختم ہونا چاہیے کا: پاکستان کے مدارس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ اجلاس میں علماء نے مدارس میں اولیول، اے لیول نصاب شامل کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔


انہوں ںے سانحہ صفوراء پر یہ بتاتے ہوئے کہ سانحہ صفورا میں ملوث دہشت گرد مدارس کے پڑھے ہوئے نہیں تھے، سانحہ صفورہ میں اعلٰی تعلیم یافتہ طالبعلم ملوث تھے کہا: گذشتہ حکومتوں نے مدارس کے معاملے پر کچھ نہیں کیا۔ مدارس کو استعمال کرکے مقاصد حاصل کرنے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے، پاکستان میں مدارس کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں۔


واضح رہے کہ اجلاس میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے دہشت گردی کیخلاف مشترکہ جدوجہد کرنے کیساتھ ساتھ مدارس کی رجسٹریشن پر بھی اتفاق کیا ہے ۔
 

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬