‫‫کیٹیگری‬ :
08 January 2017 - 21:45
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 425574
فونت
حجت الاسلام و المسلمین راجہ ناصر عباس جعفری:
مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ آل سعود جو کہ مسلمانوں کے ازلی دشمن اسرائیل اور امریکہ کو اپنا دوست سمجھتے ہیں وہ عالم اسلام کے تحفظ کے دعویدار کیسے بن گئے ہیں۔ اس فوجی اتحاد کی تشکیل کا مقصد اگر عالم اسلام کی حفاظت ہے تو مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر کے لیے بھی اسے اپنی آواز بلند کرنی چاہیے ۔
حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفری


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ریٹائرڈ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے 39 ممالک کے فرقہ وارانہ سعودی فوجی اتحاد کا سربراہ بننے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ راحیل شریف نے سعودی ریالوں کے ہاتھوں پاک وطن کی عزت و وقار کو داو پر لگا دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آل سعود کی بقاء کو دوام دینے اور مظلوم مسلمانوں کے خلاف بننے والے اس نام نہاد سعودی تکفیری عسکری اتحاد کے اہداف اور اغراض و مقاصد ابھی تک واضح نہیں ہیں۔ عالمی مبصرین اور ذرائع ابلاغ اسے ایسے اتحاد کا نام دے رہے ہیں جو عالم اسلام کو مسلکی جنگ میں دھکیل کر متحارب گروہوں میں تقسیم کر دے گا۔

یہ اتحاد عالم اسلام کو ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑا کرنے کی سازش ہے جس کے پس پردہ صیہونی سوچ کار فرما ہے۔ اس اتحاد میں سعودی بدنیتی آشکار کرنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ داعش کےخلاف جنگ لڑنے والے مسلم ممالک میں سے کوئی ایک بھی اس اتحاد میں شامل نہیں۔ پھر اس اتحاد کو دہشت گردی کے خلاف کیسے کہا جا سکتا ہے۔

علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ آل سعود جو کہ مسلمانوں کے ازلی دشمن اسرائیل اور امریکہ کو اپنا دوست سمجھتے ہیں وہ عالم اسلام کے تحفظ کے دعویدار کیسے بن گئے ہیں۔ اس فوجی اتحاد کی تشکیل کا مقصد اگر عالم اسلام کی حفاظت ہے تو مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر کے لیے بھی اسے اپنی آواز بلند کرنی چاہیے لیکن اس معاملے میں سعودیہ کی مسلسل اور مکمل خاموشی اس اتحاد کی اصلیت کھولنے کے لیے کافی ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مطابق دو اسلامی ممالک کے درمیان تنازعہ کی صورت میں ہمیں ثالث کا کردار ادا کرنا ہو گا، کسی بھی صورت میں فریق بن کر اپنے تشخص کو داغدار کرنا ہمارے لیے مناسب نہیں۔ جنرل راحیل شریف جو کہ حال ہی میں پاکستان کے سب سے بڑے فوجی عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں ان کے پاس پاک فوج کی امانتیں ہیں۔ ملکی حوالے سے اہم اور حساس معلومات کی حامل شخصیت کو اپنی خدمات کسی دوسرے ملک کے سپرد کرنا ناصرف خلاف ضابطہ ہے بلکہ ایسے شخص کی کسی دوسرے ملک کے لیے وفاداری وطن عزیز اور قومی مفاد کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ریٹائرڈ جنرل راحیل کا یہ اقدام پاکستان کو فرقہ وارنہ اتحاد کا حصہ بنانے کے مترادف ہے۔ عدالت عظمی راحیل شریف کی ملک سے خیانت کا نوٹس لے۔ انہوں نے کہا کہ ریٹائرڈ آرمی چیف نے اس ملک میں بڑا نام کمایا ہے، لوگ انہیں اپنے ہیرو سمجھتے ہیں، ان کا یہ اقدام ان کی ساکھ اور شہرت کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہو گا جبکہ مملکت خداداد پاکستان کو بھی داعش کہ چنگل میں دھکیلنے کی سعودی سازش ہے۔/۹۸۹/ ف۹۴۰

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬