‫‫کیٹیگری‬ :
19 January 2017 - 21:32
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 425792
فونت
گلگت بلتستان کے نامور عالم دین آغا سید ضیاء الدین قتل کیس کا مرکزی ملزم شاکراللہ پنجاب میں پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
حجت الاسلام سید ضیاءالدین رضوی

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان کے نامور عالم دین آغا سید ضیاء الدین قتل کیس کا مرکزی ملزم شاکراللہ پنجاب میں پولیس مقابلے میں مارا گیا۔

شیخوپورہ بائی پاس کے قریب انسداد دہشتگردی فورس کے ساتھ مقابلے میں مارے جانیوالے چار دہشت گردوں میں شاکراللہ عرف ڈاکٹر بھی شامل تھا، جو حجت الاسلام سید ضیاءالدین رضوی قتل کیس کا مرکزی ملزم تھا۔

حجت الاسلام سید ضیاءالدین رضوی کو 2005ء میں گلگت میں فائرنگ کرکے شہید کیا گیا تھا، جبکہ گارڈ کی جوابی فائرنگ سے ایک حملہ آور بھی ہلاک ہوا تھا۔

خفیہ اداروں اور پولیس نے تحقیقات کرکے شاکراللہ کو پشاور سے گرفتار کرکے گلگت منتقل کر دیا تھا اور شاکراللہ کو آغا ضیاءالدین قتل کیس میں مرکزی ملزم نامزد کیا گیا تھا۔

آغا ضیاءالدین قتل کیس انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت تھا اور مقدمے کی سماعت مکمل ہوئی تھی۔ مگر فیصلہ سنانے سے قبل ہی گیارہ اور بارہ دسمبر 2012ء کی درمیانی شب ایف سی کیمپ جوٹیال جسے سب جیل کا درجہ دیا گیا تھا، شاکراللہ اپنے ساتھی عارف الدین کے ہمراہ آسانی کے ساتھ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ جس کا مقدمہ جوٹیال تھانے میں درج کیا گیا۔

شاکراللہ کے جیل سے فرار ہونے کے بعد انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اسے آغا ضیاءالدین قتل کیس کا مرکزی ملزم قرار دے کر سزا موت سنائی تھی اور اسے مفرور قرار دے کر اس کے سر کی قیمت دس لاکھ روپے مقرر کی تھی۔

اس دوران پولیس نے اسے گرفتار کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر وہ شاکراللہ کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔ بتایا جاتا ہے کہ شاکراللہ عرف ڈاکٹر کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کا سرگرم کارکن تھا اور جیل سے فرار ہونے کے بعد لشکر جھنگوی کے سربراہ آصف چھوٹو کے ساتھ مل کر دہشت گردی کی وارداتیں کرتا تھا۔

بالآخر بدھ کے صبح شاکراللہ شیخوپورہ بائی پاس کے قریب اپنے امیر آصف چھوٹو اور دو دیگر دہشتگرد ساتھیوں کے ساتھ انسداد دہشت گردی فورس کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬