‫‫کیٹیگری‬ :
19 August 2018 - 19:24
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 436915
فونت
محمد ثروت اعجاز قادری :
پاکستان سنی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ مملکت پاکستان کو مدینے کی طرز پر اسلامی فلاحی ریاست بنانے سمیت پورے ایجنڈے کی غیر مشروط حمایت کرتے ہیں۔
محمد ثروت اعجاز قادری

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ عمران حکومت کے 100 روزہ ایجنڈے کا اعلان اس پر عمل درآمد ہوا تو حالات تبدیل ہونگے، مملکت پاکستان کو مدینے کی طرز پر اسلامی فلاحی ریاست بنانے سمیت پورے ایجنڈے کی غیر مشروط حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے بیان کیا کہ موجودہ حکومت نے نیک نیتی سے اس ایجنڈے پر کام کیا گیا تو اس کے اچھے نتائج برآمد ہونگے، پاکستان کو ریاست مدینہ کے طرز پر چلایا گیا، تو صحت، تعلیم، پائیدار امن اور مسائل حل ہو جائیں گے، گستاخانہ خاکوں کے خلاف خاموش نہیں رہ سکتے، حکومت گستاخانہ خاکوں کے خلاف ہالینڈ سے سخت احتجاج اور سفارت خانے کو فوری بند کرنے کا اعلان کرے۔

ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ توہین آمیز خاکے دنیا کی سب سے بڑی بدترین دہشتگردی ہے، مسلمانوں کے غیر ایمانی سے کھیلنا بند کیا جائے، مذاہب کے درمیان نفرتوں کو جنم نہیں دینا چاہتے، اگر ہالینڈ نے گستاخ آمیز خاکوں کے مقابلے کی سرپرستی ختم اور اسے نہیں روکا تو دنیا کے امن کو شدید دھچکا اور مذاہب کے درمیان نفرتیں بڑھیں گی

ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخی کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے، یہود و نصاریٰ مسلمانوں کے صبر کا امتحان نہیں لیں۔

انہوں نے کہا کہ غازی علم دین شہید، غازی عبدالقیوم شہید، غازی ممتاز قادری شہید جیسے عاشقان رسولؐ ہر دور میں پیدا ہوتے رہینگے، پاکستان اسلام کا قلعہ ہے، ہمیں اس قلعے کو مضبوط بنانے کیلئے ایک ہوکر کام کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سنی تحریک کے تحت ملک بھر میں گستاخ آمیز خاکوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، کراچی میں اتوار کو توہین آمیز خاکوں کے خلاف احتجاج کیا جائیگا۔

انہوں نے کہا کہ توہین آمیز خاکوں کے خلاف سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قرارداد پر عمل درآمد کرایا جائے، حکومت پاکستان دنیا کے ہر فورم پر توہین آمیز خاکوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرائے۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬