‫‫کیٹیگری‬ :
27 August 2015 - 23:57
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 8399
فونت
مجلس وحدت مسلمین پاکستان :
رسا نیوز ایجنسی ـ مجلس وحدت مسلمین بلتستان ڈویژن پاکستان کے آفس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے : مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل کی نواز حکومت کی جانب سے گرفتاری کی کوشش اور عدالت کی جانب سے انکی ضمانت کو مسترد کرنا ناقابل برداشت ہے۔


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین بلتستان ڈویژن پاکستان کے آفس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے : مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل حجت الاسلام محمد امین شہیدی جو ایک عرصے سے دہشتگردوں کی مخالفت اور ملک بھر میں دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشن کی اخلاقی معانت کر رہے ہیں، نواز حکومت کی جانب سے انکی گرفتاری کی کوشش اور عدالت کی جانب سے انکی ضمانت کو مسترد کرنا ناقابل برداشت ہے۔

اس بیان میں وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا : یہ کوشش نواز حکومت کی جانب سے انہیں دہشتگردوں کی مخالفت کرنے پر کی جا رہی ہے۔ حجت الاسلام  امین شہیدی کے خلاف کاٹی گئی جھوٹی ایف آئی آر کے ذریعے پنجاب حکومت دہشتگردوں کے خلاف اٹھنے والی موثر آواز کو بند کرنا چاہتی ہے، جو کہ ممکن نہیں۔

اس بیان میں وضاحت ہوا : حجت الاسلام  امین شہیدی کی شخصیت مسلمہ ہے، انہوں نے ہمیشہ وحدت کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی اور ملک دشمن عناصر دہشتگردوں کی مخالفت سب سے زیادہ کرتے رہے۔ انہیں دہشتگرد ثابت کرنے کی نواز لیگی کوشش افسوسناک ہے اور ایسے اقدامات کو نواز لیگی حکومت کی جانب سے دہشتگردوں کی عملی پشت پناہی سمجھتے ہیں۔

مجلس وحدت مسلمین کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا : دہشتگردوں کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کے ساتھ ایسا سلوک جاری رہا تو کل کوئی بھی دہشتگردوں کے خلاف بولنے والا نہیں ہوگا۔ ایک طرف یہ شخصیات دہشتگردوں کے نشانے پر اور دوسری طرف پنجاب حکومت کے نشانے پر ہے۔

اس بیان میں وضات کی گئی ہے : حجت الاسلام  امین شہیدی دہشتگردوں اور نواز حکومت دونوں کے نشانے پر ہے۔ ان کو پابند سلاسل کرنے کی سازش دراصل اتحاد بین المسلمین کو پابند کرنے کی سازش ہے اور حکومت چاہتی ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف موثر آواز نہ اٹھے اور دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشن کی موثر اخلاقی پشت پناہی نہ ہو اور پاکستان آرمی یہ آپریشن ختم کرنے پر مجبور ہو۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬