‫‫کیٹیگری‬ :
28 August 2015 - 01:10
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 8402
فونت
شیخ الازہر نے آیت اللہ مکارم شیرازی کے خط کے جواب میں ؛
رسا نیوز ایجنسی ـ ایران کے حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے مشہور استاد و مرجع تقلید حضرت آیت الله مکارم شیرازی اور شیخ محترم الازهر جناب دکتر احمد الطیب کے دمیاں حالیہ مکاتبات میں شیخ الازہر نے آیت اللہ مکارم شیرازی کو محترمانہ خط کا جواب بھیج کر جہاں مرجع تقلید کی شکر گزاری کی ہے وہیں اسلامی اتحاد کی حفاظت کی تاکید کی ہے ۔
 حضرت آيت الله مکارم شيرازي اور دکتر احمد الطيب


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق ایران کے حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے مشہور استاد و مرجع تقلید حضرت آیت الله مکارم شیرازی اور شیخ محترم الازهر جناب دکتر احمد الطیب کے دمیاں حالیہ مکاتبات میں شیخ الازہر نے آیت اللہ مکارم شیرازی کو محترمانہ خط کا جواب بھیج کر جہاں مرجع تقلید کی شکر گزاری کی ہے وہیں اسلامی اتحاد کی حفاظت کی تاکید کی ہے ۔

 اس خط میں بیان ہوا ہے :

مذہبی اختلافات اس زمانہ میں فکری اختلاف کے حد تک باقی نہیں رہا ہے بلکہ جنگ و قتل عام و خون خرابہ میں بدل گیا ہے کہ اس سے نہ اہل سنت کو فائدہ ہو رہا ہے اور نہ ہی شیعوں کو بلکہ اس سے صرف وہ لوگ فائدہ حاصل کر رہے ہیں جو اسلام کے کھلے دشمن ہیں کہ جو کمین میں گھات لگائے ہیں ۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بیان کیا : سیاسی میدان والے اس مذہبی اختلاف سے قتل عام کرانا اور دوسروں کے امور میں مداخلت اور شخصیات کی توہین اور دینی مقدسات کی بے حرمتی و ۔ ۔ ۔ جیسے امور کے ذریعہ غلط فایدہ اٹھا رہے ہیں ۔

انہوں نے اسلامی مذاہب کے علماء کے ساتھ گفت و گو کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کی : میں نے بارہا شیعہ اور اہل سنت کے نمایا و مشہور علماء کی شرکت کے ساتھ کانفرنس منعقد کرنے کی تاکید کی ہے تا کہ اس کے ذریعہ جو خطرات ہم سب لوگوں کے لئے در پیش ہے اس سے حفاظت کی جا سکے اور کامیابی کے ساتھ اس میدان سے عبور کر سکیں ۔ اس کانفرنس میں اہل سنت کے ذریعہ شیعہ کے قتل کے حرام ہونے اور اسی طرح شیعوں کے ذریعہ اہل سنت کے قتل کے حرام ہونے کا واضح و روشن فتوا جاری ہو ۔ 

انہوں نے اس خط کے آخر میں اظہار امید کیا ہے کہ یہ مرجع کرام اس کانفرنس میں شرکت کرے نگے ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬