01 March 2017 - 09:31
News ID: 426609
فونت
آل پارٹیز کانفرنس:
ایم ڈبلیو ایم کے زیراہتمام اے پی سی سے خطاب میں مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت اپنی صفوں کو دہشتگردوں سے پاک نہیں کرتی، تب تک دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں، پنجاب میں رینجرز کو وہی اختیار دیئے جائیں جو سندھ میں دیئے گئے ہیں، ضرب عضب کی ناکامی کے اسباب بتائے جائیں، دہشتگردوں کے سہولتکاروں کو انجام تک پہنچایا جائے۔ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ہم سب ایک ہیں۔ بھارت اور افغانستان پاکستان دشمنی میں ایک ہوچکے ہیں۔
آل پارٹیز کانفرنس


رپورٹ: این اے بلوچ

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیراہتمام ملک میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی زیرصدارت اسلام آباد کے نجی ہوٹل میں ہوا، کانفرنس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما و سابق چیئرمین سینیٹ سید نیئر حسین بخاری، پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی، اعجاز چوہدری، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما راجہ بشارت، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افراسیاب خٹک، ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما سینیٹر تنویرالحق تھانوی، جماعت اسلامی کے نائب امیر میاں اسلم، آل پاکستان مسلم لیگ کے رہنما احمد رضا قصوری، سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا، پاکستان عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈا پور، جمعیت علمائے پاکستان نورانی کے رہنما صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر، جمعیت علمائے پاکستان نیازی کے رہنما پیر معصوم نقوی، پاک سرزمین پارٹی کے رہنما شہزاد آصف، سرائیکی پارٹی کی رہنما سیدہ عابدہ بخاری اور سول سوسائٹی کے رہنماوں و تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ نے شرکت کی۔

مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ جب تک بیماری کی تشخیص نہ کی جائے، تب تک علاج ممکن نہیں۔ پاکستان جب سے امریکی بلاک میں گیا ہے، ملک دہشت گردوں کے نرغے میں آگیا، افغان پالیسی اور جہاد پالیسی پاکستان کے جمہوری طرز کے خلاف تھی، طاقت کے توازن میں بگاڑ پیدا ہوا اور مخصوص گروہ کو طاقتور بنایا گیا، مادر وطن میں لشکروں کی شکل میں نفرتوں کو پروان چڑھایا گیا، تاکہ عوامی کو تقسیم کرکے ملک کو کمزور کیا جا سکے، بدامنی کی یلغار نے عوام پر آخری حملہ کیا، عوام میں محبت کو رواج دینا اور نفرتین روکنا حکومت کا کام ہے، علامہ ناصر عباس نے کانفرنس کے شرکاء سے کہا کہ ہمیں قائد و اقبال کے پاکستان کے لیے جدوجہد کرنی ہے، ہم مسلکی اور شدت پسند پاکستان کے مخالف ہیں، ملک میں نہ آئین کی حکمرانی ہے نہ قانون کی عملداری، پاکستان اس وقت بحرانوں کا شکار ہے، داعش نے پاکستان میں اولیاء اللہ کے مزارات پر حملہ کیا ہے۔ سیہون پر حملہ محبت و اخوت اور انسانیت پر حملہ ہے، داعش کے کارندوں کو شام سے منتقل کیا جا رہا ہے، پاکستان جب بھی کسی اہم موڑ پر آیا، اس میں اہم تبدیلیاں لائی گئیں، سی پیک بہت اہمیت کا حامل ہے، جو قوتیں ایشیاء کو مضبوط نہیں دیکھنا چاہتیں وہ انتشار پیدا کر رہی ہیں، ایشیائی اقوام اگر متحد نہیں ہوں گی تو دشمن کو تقویت ہوگی۔ ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد واضح ہے، ہمیں سبز ہلالی پرچم والا پاکستان چاہیے، ہم ردالفساد کی حمایت کرتے ہیں، لیکن یہ امر بھی واضح کیا جائے کہ ضرب عضب کے بعد اس کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر بخاری نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اگر حکومت بروقت اقدامات کرتی تو قوم مختلف سانحات نہ دیکھتی، حکومت دہشت گردی کے خاتمے کی بجائے کسی اور معاملے میں سنجیدہ دکھائی دیتی ہے، عوام میں عدم تحفظ کا احساس تقویت پکڑ رہا ہے، حکومت کو یہ باور کرانا ہے کہ گذشتہ چار سالوں میں حکومت کی ہر پالیسی ناکامی کا شکار ہے، پاکستان پیپلزپارٹی مجلس وحدت مسلمین کی آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے کی مکمل حمائت کرتی ہے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افراسیاب خٹک نے کہا کہ پاکستان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے، پاکستان کی بقاء کے لئے یہ چیلنج کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے، ہم نے افغان جہاد کے نام پر ان قاتلوں کی پرورش کی، جو آج ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا کہ پاکستان میں کوئی مسلکی اختلاف نہیں، ہمیں اندر سے تباہ کیا جا رہا ہے، دشمن ہماری قوت سے خائف ہے، ہمیں دل سے ایک ہونے کی ضرورت ہے۔ کانفرنسوں سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں، مجلس وحدت مسلمین کی یہ کوشش انتہائی قابل تعریف ہے، ملٹری کورٹس کی ہم حمایت کرتے ہیں۔

تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور نے پوری قوم کو شدید نقصانات سے دوچار کیا ہے۔ اس نے سب سے زیادہ پاکستان کو متاثر کیا ہے، ہمیں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ملکی مفاد میں سوچنا ہوگا، نیشنل ایکشن پلان پر پوری یکسوئی سے عمل نہیں ہوا اگر ایسا ہوتا تو دہشت گردی کسی حد تک تھم سکتی تھی، اسلام کو دہشت گردی سے جوڑا جا رہا ہے، کون نہیں جانتا کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں، دہشت گردی کے خاتمے میں تمام جماعتوں کو کردار ادا کرنا ہوگا، انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کو فعال کرنا ہوگا، پولیس کی تربیت اسی نہج پر کرنے کی ضرورت ہے، ہم دہشت گردی کےخلاف بات تو کرتے ہیں، لیکن ترجیح کے تعین میں تساہل سے کام لیتے ہیں، جسے پر توجہ دی جانی چاہیے، پاکستان تحریک انصاف آج کی اس آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے کی بھرپور حمایت و تائید کا اعلان کرتی ہے۔ اس موقع پر شاہ محمود نے اعلامیہ کے نکتہ نمبر چار پر اعتراض کیا اور اس کی زبان درست کرنے کی بات کی۔

مسلم لیگ قائد اعظم کے چیف آرگنائزر راجہ بشارت نے کہا کہ قومی سلامتی کے لئے اس وقت قومی وحدت کی اشد ضرورت ہے، ہم دہشت گردی کے خلاف ردالفسار سمیت ہر اقدام کی حمایت کرتے ہیں، فوجی عدالتوں کا قیام ان حالات میں ضروری ہے، جن کی مکمل حمایت کرتے ہیں، ہر اہم واقعہ پر حکومت کی طرف سے نوٹس لے کر قوم پر احسان جتایا جاتا ہے، مجلس وحدت مسلمین کی کوششوں کی تائید کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر میاں اسلم نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے ذمہ دار انڈیا اور افغانستان ہیں، انڈیا نے آج تک پاکستان کو قبول نہیں کیا، نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے جو بیس نکات طے کئے گئے تھے، ان پر حکومت نے کس حد تک عمل کیا؟، ملٹری کورٹس کے قیام کی دوبارہ ضرورت اس لئے پڑی ہے کہ حکومت نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل نہیں کرسکے، ستر سال گزرنے کے بعد بھی اس ملک کو قائد و اقبال کا پاکستان نہ بنایا جا سکا، خامیوں کی نشاندہی کرنا ہوگی کہ آخر مسئلہ کہاں ہے، ہمیں سازشوں کو پہچاننا ہوگا، اپنی قومی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں چھبیس ایجنسیوں اور نیشنل ایکشن پلان کی موجودگی میں آپریشن ردالفساد کی ضرورت کے حوالے سے سوال اٹھایا جانا حق بجانب ہے، طبقاتی تفریق سے بالاتر ہو کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات ملک دشمن طاقتوں کو ایجنڈا ہے۔

پاکستان عوامی تحریک کے جنرل سیکرٹری خرم نواز گنڈہ پور نے کہا دہشت گردی کے خلاف ہم سب متحد ہیں، مجلس وحدت مسلمین کی یہ کانفرنس لائق ستائش ہے۔ جس ملک کا وزیراعظم، سب سے بڑے صوبے کا وزیراعلٰی، وزیر داخلہ اور وزیر قانون سب کے سب دہشت گردی کی ایف آئی آر میں نامزد ہوں اور وہ ایف آئی آر آرمی چیف کی مداخلت پر درج کی جائے تو ملک کا خدا ہی حافظ ہے، پاکستان کے عوام دہشت گردی کے خلاف ایک ہیں، صرف خواص کا مسئلہ ہے، حکومت کو کس نے روکا ہے نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرنے سے، جب بھی تنقید کی جاتی ہے، اسے ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دے دیا جاتا ہے، آج درود پڑھنے پر تو ایف آئی آر کٹ رہی ہے، لیکن گردن کٹنے پر نہیں کٹتی، قاضی فائز عیسٰی نے رپورٹ میں کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، سی پیک منصوبہ پاکستان کے حق میں ہے، مگر اس منصوبے کی آڑ میں بدعنوانیاں کی جاتیں ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ہم ترقی کے دشمن ہیں۔ اس منصوبے کو جان بوجھ کر مبہم رکھا جا رہا ہے، تاکہ مخصوص گروہوں کو نوازا جا سکے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی عابدہ بخاری نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے خاتمے میں اگر سنجیدہ ہے تو پھر اسے حکومتی اداروں کی چھانٹی کرنا ہوگی۔ دہشت گرد اسمبلیوں میں موجود ہیں، انہیں وہاں سے نکالنا ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف بلاامتیاز آپریشن کے بغیر نتائج حاصل نہیں ہوسکتے، ایم کیو ایم کے سینیٹر تنویر الحق تھانوی نے کہ ہم پہلے روز سے طالبان کے خلاف تھے، جہاد افغانستان کا خمیازہ ہم آج بھگت رہے ہیں، دہشت گردوں کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کی خامیاں دو سال میں بھی درست نہیں کی جا سکیں، اس کی بنیادی وجہ سہولت کاروں کو چھوٹ دیا جانا ہے، یہ سہولت کار ایوانوں میں بھی موجود ہیں، اگر ان کے خلاف کارروائی کی جاتی تو آج ردالفساد کی ضرورت نہ پڑتی۔ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ دہشت گردی کے حوالے سے ہماری پارلیمنٹ مکمل طور پر ناکام ہے، ہمیں بتایا جائے کہ دہشت گردی کے حوالے سے پارلیمان میں کتنی بار بحثیں کی گئیں، موجودہ حکومت دہشت گردی کی سب سے بڑی سرپرست ہے، آج تک دہشت گردی کی تعریف ہی واضح نہیں کی گئی۔ جمہوری نظام میں قانون و انصاف کی عملداری میں ناکامی ہی فوجی عدالتوں کا جواز ہے، حکومت دہشت گردی کے حوالے سے اس لئے سنجیدہ نہیں کہ اس کے اپنے تعلقات دہشت گردوں سے ہیں، جس ریاست میں دہشت گرد عناصر کو حکومتی پروٹوکول دیا جائے، وہاں دہشت گردی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے۔؟

حامد رضا کا کہنا تھا کہ پنجاب میں رینجرز کو اپنی مرضی سے آپریشن کا اختیار نہیں دیا گیا، رینجرز آپریشن کا غیر حقیقی ڈنڈھورا پیٹ کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے۔ پاک سرزمین پارٹی کے رہنما شہزاد آصف جاوید نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سوچ میں تبدیلی لانا ضروری ہے، سہولت کاری کے بغیر دہشت گردی ممکن نہیں، جمعیت علمائے پاکستان نورانی کے سربراہ صاحبزادہ ابوالخیر زبیر نے کہا کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے میں نیشنل ایکشن پلان کی ناکامی کی وجوہات جاننا ضروری ہے، دہشت گردی کے خلاف ہم ہر اقدام کی حمایت کرتے ہیں، جب تک حکومت اپنی صفوں کو دہشت گردوں سے پاک نہیں کرتی، تب تک دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں، انہوں نے کہا لعل شہباز کی درگاہ پر حملہ کے بعد ملک بھر میں مزارات کی بندش افسوسناک ہے، یہ دہشت گردی کے خاتمے کا حل نہیں۔ ملی یکجہتی کونسل کے رہنما ثاقب اکبر نے کہ پنجاب میں رینجرز کو وہی اختیارات دیئے جائیں، جو کراچی میں رینجرز کو حاصل ہیں، ردالفساد کی ناکامی دہشت گرد گروہوں کے حوصلوں میں تقویت کا باعث بنے گی، دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو بےگناہ ثابت کرنے کی کوشش تشویشناک ہے، کانفرنس سے آل پاکستان مسلم لیگ، قومی وطن پارٹی کے رہنماوں نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس میں پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں شریک تھیں، ماسوائے مسلم لیگ نون، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور جے یو آئی فے کے۔ مجموعی طور پر کانفرنس کو مکمل طور پر کامیاب قرار دیا گیا۔/۹۸۸/ ن۹۴۰

منبع: اسلام ٹائمز

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬