حضرت زینب(س) شکوہ صبر و اقتدار 
تاریخ اسلام میں ایک ایسی عظیم المرتبت خاتون کا نام افق فضل و کمال پر جگمگا رہا ہے کہ جس کی شخصیت اعلیٰ ترین اخلاقی فضائل کا کامل نمونہ ہے ۔ایسی خاتون جس نے اپنے نرم و مہربان دل کے ساتھ مصائب کے بارگراں کوتحمل کیا
دشمن کی شناخت میں کوتاہی کا مطلب پروانہ موت پر دستخط
آج ہم جس دور پر فتن سے گزر رہے ہیں اس میں مجموعی طور پر ہمارا پورا وجود داوں پر لگا ہے مظفر نگر اور بجنور کی تباہیاں یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ آگے ہمارے ساتھ کیا ہو سکتا ہے ۔
بی جے پی اپنی بقا کی جنگ میں مشغول / نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری
آزاد بھارت میں جینے والوں یہ آپ کی آواز ہے ملک کے ھرباشندےکی آوزہے جو اپنی مادر وطن بھارت سےمحبت کر تے ہیں انکی آواز ہےآپکو ان آر سی کاعلم ہوا تو پریشان ہیں ۔
چھپاکر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نے
ہم نے مستقبل کی تعمیر کے لئے کچھ سوچا ہوتا تو آج حالات مختلف ہوتے جہاں بہت پہلے بہت ہی پہلے درد میں ڈوب کر شاعر مشرق نے ہمارا شانہ ہلایا تھا اور کل کی دنیا میں رہتے ہوئے ہمارے آج سے یوں باخبر کیا تھا۔
ہمارا دشمن کون؟
دشمنی دو طرح کی ہو سکتی ہے: ایک وہ جس کے اندر نفرت و دشمنی کی آگ جل رہی ہو جیسے کسی کو قتل کر دیا گیا ہو اور اس کے وارث انتقام کے در پہ ہوں جس کی طرف قرآن میں بھی اشارہ ہے۔
حکمراں جماعت کی سوچ اور کام پردہ پر
حکومت بی جی پی اقتدار کے دوسرے دور میں داخل ہو چکی ہے اور ابھی اس کے پاس چارسال سے زیادہ کا عرصہ باقی ہے دیکھیۓ کیا کیاگل کھلاتی ہے ۔
شہریت کا نیا ترمیمی بل اور ہماری ذمہ داری
شہریت کے قانون کے ترمیمی بل کے ایوان زریں و ایوان بالا میں پاس ہونے کے بعد جیسے ہی صدر جمہوریہ نے اس پر دستخط کر کے اس قانون کو منظوری دی ویسے ہی پورے ہندوستان بھر کے سیکولر و انصاف پسند حلقے میں ایک بے چینی کی لہر دوڑ گئی ۔
ہندوستان ایک انتہا پسند ہندو ریاست کی جانب گامزن
بعض تجزیہ کار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ نریندر مودی کی جانب سے اپنائی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ملک میں ایک خاص قسم کا عقیدہ حکم فرما ہونے کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ اس کا نتیجہ ملک میں تناو اور افراتفری کی صورت میں نکلے گا ۔
عراقی وزیر اعظم کو وطن سے وفا کی سزا دی گئی
عراق کی تازہ صورتحال پر تبصرہ :
عراقی کالم نگار ایہاب الجبوری نے 13 ستمبر 2019 کو اپنے کالم میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ کیا وزیراعظم عادل عبدالمہدی کا دورہ چین اور مختلف شعبوں میں اقتصادی معاھدے انکے اقتدار کی بساط لپیٹ سکتے ہیں ؟
پچهلا3اگلا