‫‫کیٹیگری‬ :
05 September 2016 - 19:23
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 423048
فونت
حجت الاسلام والمسلمین سید ابراہیم رئیسی
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا : صہیونیزم نے اسلام کو بدنام کرنے کےلیے خود اسلام ہی کے نام کا گروپ بنایا کہ جس سے مسلمانوں کو کمزور کیا جاسکے اور فلسطین جیسے موضوع کو تکفیری و داعش کے مسائل میں چھپا دیا جائے ۔
حجت الاسلام سید ابراہیم رئیسی :

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق آستان قدس رضوی کے متولی حجت الاسلام والمسلمین سید ابراہیم رئیسی نے کرمانشاہ، آذربائیجان غربی، کردستان و ہرمزگان کے اہل سنت کے دینی مدارس کے علماء و طلاب سے حرم مطہر رضوی کے ولایت ہال میں ملاقات کی اور داعش کے تشدد کو بیان کیا : یہ غیرانسانی رفتار اسلام کے نام پر انجام دی جارہی ہے یہ دنیا کے سامراج و استکبار اور صہیونیزم کے پروگرام کا ایک حصہ ہے۔

انہوں نے اس ملاقات میں بیان کیا : صہیونیزم نے اسلام کو بدنام کرنے کےلیے خود اسلام ہی کے نام کا گروپ بنایا کہ جس سے مسلمانوں کو کمزور کیا جاسکے اور فلسطین جیسے موضوع کو تکفیری و داعش کے مسائل میں چھپا دیا جائے ۔

حوزہ علمیہ خراسان کی مجلس صدارت کے رکن نے اس سوال کے ساتھ کہ کیوں تکفیری اسلام کے مدعی ہونے کے باوجود اسلامی دشمنوں کے خلاف تلوار نہیں اٹھاتے اور صرف مسلمانوں کو قتل کرنے میں لگے ہوئے ہیں، کہا: انسان اگر اسلام کے صحیح احکام و تعلیمات سے آشنا نہ ہو اور محمد آل محمد (ص) کے انوار سے صحیح روشنی حاصل نہ کرے تو یقینا گمراہ ہوجائے گا۔

خبرگان رہبری کونسل کی مجلس صدارت کے رکن نے اپنی گفتگو میں معصومین علیہم السلام کی بلند و بالا منزلت کی طرف اشارہ کیا اور اس بیان کے ساتھ کہ اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام خداوندعالم کی جانب سے بشریت کی ہدایت کے لیے منتخب افراد ہیں،وضاحت کی: انسان اپنی اپنی صلاحیت و استعداد کے مطابق محمد آل محمد (ص) اور اسلامی تعلیمات سے استفادہ کرکے واجبات پر عمل اور محرمات کو ترک کرکے راہ سعادت کو طے کرتا ہے اور خداوندعالم سے نزدیک ہوجاتا ہے۔

انہوں نے حدیث سلسلۃ الذہب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کی: یہ حدیث شریف تمام آزاد انسان اور حق کی جستجو کرنے والوں کے لیے دعوت ہے ، خداوندعالم اور اہل بیت علیہم السلام کے مضبوط قلعہ میں داخل ہونے کے لیے ہر زمانے اور ہر نسل کے انسانوں کو دعوت ہے تاکہ گمراہیت سے راہ مستقیم کو جدا کریں اور راہ حق پر گامزن ہوکر امان میں آجائیں۔

آستان قدس رضوی نے اسلام وآئمہ اطہار علیہم السلام کی تعلیمات حاصل کرنے کو انسان معاصر کی تنہا راہ نجات قرادیا اور شیطانی ونفسانی وسوسوں و انحرافات سے بچنے کا واحد راستہ قرار دیتے ہوئے کہا: حدیث سلسلۃ الذھب حقیقت میں ہر زمانے کے انسان کو زندگی کی راہ دکھاتی ہے۔

حجت الاسلام والمسلمین رئیسی نے اس مطلب پر تاکید کرتے ہوئے کہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام دنیائے اسلام کے اتحاد کا راز ہیں،کہا: حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی عملی زندگی کی روش و سیرت مسلمانوں کے درمیان اتحاد کا راز ہے اور آنحضرت کے زیر سایہ تمام اختلافات اتحاد میں تبدیل کیے جاسکتے ہیں۔

خبرگان رہبری کونسل کے رکن نے اس حدیث رسول اکرم(ص) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بدن کا ٹکڑا سرزمین خراسان میں دفن ہوگا، کوئی بھی مشکلات میں مبتلا یا گناہکار ان کی زیارت نہیں کرے گا مگر یہ کہ اس کی مشکلات برطرف اور گناہ بخش دیے جائیں گے ،کہا: زیارت کے تین رکن ہیں ایک زائر دوسرےجس کی زیارت کی جارہی ہے اور تیسرے زائر و مزور کے درمیان قلبی رابطہ اور یہ قلبی رابطہ جس قدر بھی زیادہ قوی ہوگا زیارت بھی اتنی ہی گہرائی سے انجام پائے گی۔

آستان قدس رضوی کے محترم متولی نے زیارت کی ضروریات میں سے ایک ارادے کو شمار کیا اور کہا: زیارت ،ارادے کے ساتھ ہونی چاہیے تاکہ زائر کے سیرو سلوک میں تاثیر گذار ہو، رضوی بارگاہ منورہ ایسا مقام ہے کہ جس میں انسان اپنی زندگی کو سیرت و سنت نبوی و رضوی سے نزدی کرنے کے لیے ارادہ کرے۔

انہوں نے اس بیان کے ساتھ کہ حضرات معصومین علیہم السلام ہمارے اعمال کے شاہد و ناظر ہیں ،کہا:رضوی بارگاہ منورہ صرف ایک ولی خدا کا مرقد مطہر ہی نہیں ہے بلکہ یہ ایک امام معصوم کا محضر ہے کہ جو ہمارے اعمال کو دیکھتا ہے ہماری آواز کو سنتا ہے اور ہماری زندگی کے ہر لمحہ سے آگاہ ہے۔ یہ اس امام کا محضر ہے کہ دنیا اور قیامت میں مشکلات کوحل کرنے والا ہے۔

حوزہ علمیہ خراسان کی مجلس صدارت کےرکن نے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی با معرفت زیارت کو شیطانی وسوسوں سے روح کے نجات حاصل کرنے سبب قراردیا اور زیارت کی تعریف میں کہا: زیارت یعنی مزورہونےکا ارادہ اور اگر یہ ہدف محقق ہوجائے تو زیارت انسان کے لیے ایک انسان سازی کا مدرسہ اور عظیم نقلاب کا سبب بن جائے گی۔

خبرگان رہبری کونسل کی مجلس صدارت کے رکن نے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کو خدوندعالم سے نزدیک ہونے کے لیے بہترین واسطہ ا اور آپ کو باب اللہ قرار دیا اور کہا: اہل بیت علیہم السلام نے کبھی نہیں کہا کہ ہماری عبادت کرو بلکہ ہمیشہ خداوندعالم کی عبادت کے لیے دعوت دیتے رہے ہیں اور آج آستان قدس رضوی بھی خداوندعالم کی عبادت کا مرکز ہے ۔

حجت الاسلام والمسلمین رئیسی نے عصر حاضر کے انسان کی دربدری و انحرافات سے سیرت رضوی کو راہ نجات قراردیا اور کہا: خداوندعالم اور اہل بیت علیہم السلام کے حضور پناہ لینا صرف ایسا راستہ ہے کہ جس سے انسان معاصر تمام انحرافات سے محفوظ اور آرام وسکو ن حاصل کرسکتا ہے ۔

اس دیدار کے ابتداء میں امور اہل سنت میں نمائندہ ولی فقیہ و علماء کے ثقافتی امور کے سربراہ نے اس ادارے کی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی اور مشہد مقدس و حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی زیارت کا شوق علماء و طلاب اہل سنت کی جانب سے بیان کیا اور کہا:اہل بیت علیہم السلام سے محبت اہل سنت کے اعتقادات و ایمان کا حصہ ہے اور یہ محبت مختلف شکل و صورت میں بیان ہوتی ہے۔

حجت الاسلام والمسلمین عبد الرسول حاجری نے کہا: سال گذشتہ اہل سنت علماء کے درمیان ایک رائے گیری ایک سیاحتی سفر کے متعلق انجام پائی اور ہم نے ان سے چاہا کہ کسی بھی ایک شہر کا سیاحت کے لیے انتخاب کیا جائے کہ 90 پرسینٹ سے زیادہ طلاب و علماء اہل سنت نے مشہد مقدس کے سفر کو انتخاب کیا اورباقی لوگ بھی چونکہ خود اہل خراسان تھے انہوں نے شہر قم کا انتخاب کیا تھا ۔(۹۸۹/ف۹۴۰)

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬