‫‫کیٹیگری‬ :
09 September 2016 - 21:51
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 423132
فونت
آج اہل بیت علیہم السلام کے چاہنے والوں نے فرزند رسول حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے عزاداری میں مشغول رہے ۔
امام محمد باقر علیہ السلام

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سات ذی الحجہ مسلمانوں کے پانچویں امام فرزند رسول حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام کا یوم شہادت ہے جس کی مناسبت سے پورے ایران میں سوگ منایا جا رہا ہے ۔

فرزند رسول حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام کے یوم شہادت کی مناسبت سے مساجد اور امام بارگاہوں میں مجالس عزا کا انعقاد کیا گیا ہے جس سے علماء و ذاکراین خطاب کر رہے ہیں ۔

اس مناسبت سے اہم پروگرام مشہد مقدس میں فرزند رسول حضرت امام علی رضا علیہ السلام اور قم  میں حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا کے حرم میں منعقد کیا گیا ۔

حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام نے اپنے والد بزرگوار حضرت امام علی ابن الحسین زین العابدین علیہ السلام کی شہادت کے بعد انیس سال دس مہینے تک مسلمانوں کی امامت و رہبری کا فریضہ انجام دیا ۔

آپ نے پوری عمر اسلام کی تبلیغ و ترویج میں گذاری اور عظیم شاگردوں کی تربیت کی ۔ فرزند رسول امام محمد باقر علیہ اسلام مسلمانوں کے وہ عظیم پیشواء و رہنما ہیں جنہوں نے تشنگانِ حق و معرفت کو ہمیشہ توحید و انسانیت کا درس دیا اور علم و دانش کے وہ سر چشمے جاری کئے کہ آپ کا لقب ہی باقر العلوم یعنی " علم کا سینہ شگاف کرنے والا " پڑ گیا۔

آپ کے زمانہ کے اہلسنت کے ایک بزرگ عالم محمد ابن طلحہ شافعی کہتے ہیں کہ  امام باقر کے لقب سے معروف محمد ابن علی علم کا سینہ شگاف کرنے والے تھے جن میں تمام علوم یکجا ہوگئے تھے اور اُن کا علم آشکار اور اُن کے ذریعے سر بلند ہے اُن کے وجود سے علم کے چشمے پھوٹتے ہیں ۔

انھوں نے علم و دانش کے موتیوں کو سجایا اور زینت بخشی ہے اُن کا قلب صاف اور عمل پاک ہے پاکیزہ روح اور اچھے اخلاق کے حامل ہیں اپنی زندگی کے اوقات خدا کی عبادت میں بسر کرتے ہیں ، تقویٰ و پرہیزگاری میں ثابت قدم ہیں خدا سے تقرب کی نشانیاں اور منتخب بندوں کی خوبیاں امام محمد باقر کے چرے سے آشکار ہیں۔

فضائل و مناقب اُن کی طرف بڑھنے اور ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پاکیزہ عادات و اوصاف اُن سے شرف و منزلت حاصل کرتے ہیں ۔

فرزندِ رسول (ص) امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت کے بعد امام محمد باقر علیہ السلام نے اپنے دور امامت میں بنی امیہ کے پانچ ظالم و جابر حکمرانوں کا مقابلہ کیا اور سیاسی اعتبار سے شدید گھٹن اور تشدد آمیز ماحول میں جس وقت حصول اقتدار کے لئے بنی امیہ اور بنی عباس بر سر پیکار تھے پُرسکون علمی و فکری تحریک کے ذریعے اسلام وقرآن کی الٰہی تعلیمات کی حفاظت اور تبلیغ و ترویج کا عظیم فریضہ انجام دیا۔

حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام ایک سو چودہ ہجری قمری میں ستاون سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں اموی خلیفہ ہشام بن عبدالملک کے ذریعے زہردیئے جانے کے باعث شہید ہوئے۔/۹۸۸/الف۹۳۰/ک ۵۳۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬