‫‫کیٹیگری‬ :
02 October 2016 - 16:32
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 423590
فونت
ثقافتی قونصلیٹ اسلامی جمہوریہ ایران اسلام آباد کے زیر اہتمام؛
ثقافتی قونصلیٹ اسلامی جمہوریہ ایران اسلام آباد کے زیر اہتمام "اسلام اور مغرب میں خواتین کے حقوق کا تقابلی مطالعہ" کے موضوع پر ایک روزہ سیمینار منعقد ہوا۔
ثقافتی قونصلیٹ اسلامی جمہوریہ ایران اسلام آباد

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ثقافتی قونصلیٹ اسلامی جمہوریہ ایران اسلام آباد کے زیر اہتمام "اسلام اور مغرب میں خواتین کے حقوق کا تقابلی مطالعہ" کے موضوع پر ایک روزہ سیمینار منعقد ہوا۔ جس کی افتتاحی نشست کی صدارت وائس چانسلر بے نظیر بھٹو وومن یونیورسٹی پشاور ڈاکٹر رضیہ سلطانہ نے کی۔

ثقافتی قونصلر سفارت جمہوری اسلامی ایران اسلام آباد جناب آقای شہاب الدین دارئی نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلام عورت اور مرد کے خاندانی حقوق سے متعلق خاص فلسفہ رکھتا ہے۔ اسلام عورت اور مرد کے مساوی حقوق کا مخالف نہیں، ان کے حقوق کی مشابہت کا مخالف ہے۔ مساوی ہونا، مشابہت سے مختلف ہے۔ لیکن آج مغربی دنیا میں کوشش کی جاتی ہے کہ عورت اور مرد کو قوانین و ضوابط ، حقوق و ذمہ داریوں میں ایک جیسی مشابہت کو وجود میں لائیں اور عورت اور مرد کے قدرتی فرق کو نظر انداز کر دیا جائے۔

پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کی جدیدیت ہر دور کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے۔ اسلامی معاشرہ مذہبی اقدار اور اخلاقی اصولوں پر جبکہ مغربی معاشرہ لبرل ازم پر قائم ہے۔ جس کی وجہ سے مغربی عوام آج ہماری تہذیب سے متاثر ہو رہی ہے۔ اسلام میں مرد و عورت کسی کو کمتری یا برتری کا مقام نہیں دیا گیا۔

پروفیسر طارق اعجاز نے بتایا کہ مغربی معاشرے میں خواتین کو حقوق بتدریج دیئے گئے جبکہ اسلام نے اپنے آغاز سے ہی خواتین کے حقوق واضح کئے۔ جامعۃ الزہرا اسلام آباد کی استاد خاتم تہنیت زہراء نے اپنے خطاب میں کہا کہ مغرب نے جب خاتون کی آزادی کا نعرہ لگایا تو حجاب کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

افتتاحی تقریب سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے جامعۃ المصطفٰی العالمیہ کی استاد اور ایران کی معروف دانشور خانم ڈاکٹر نرجس رودگرد نے کہا کہ مغرب کی تحریک حقوق نسواں کا کھوکھلا نعرہ ہے۔ عورت کو اصل حقوق دین کامل اسلام نے دیئے۔

انہوں نے کہا : مغرب نے عورت کو ہر طرح سے مرد کے مساوی کہہ کر عورت کے ساتھ دھوکہ کیا۔ اسلام عورت کو اس کے جائز حقوق دیتا ہے اور معتدل روش پر زور دیتا ہے۔

سیمینار میں جامعۃ الزہرا اور جامعۃ الکوثر اسلام آباد کی طالبات اور اساتذہ کے علاوہ منہاج القرآن یوتھ لیگ کی خواتین بھی شریک ہوئیں۔

سیمینار کی اختتامی نشست کی صدارت رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عاصمہ ممدوٹ نے کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایسے سیمینار وقت کی اہم ضرورت ہیں، جن کی بدولت علم کی روشنی پھیلتی ہے۔

امید ہے کہ ثقافتی قونصلیٹ ایران ایسے علمی موضوعات پر بار بار پروگرام منعقد کرتا رہے گا، رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ مسلمان معاشرے کی خواتین کو خاتون جنت حضرت بی بی فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کو اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہوئے ان کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔

اسلام نے خواتین کو معاشرے میں نمایاں مقام دیا، انہوں نے محقق خواتین دانشوروں کو تاکید کی کہ اپنی تحقیق کا دائرہ کار وسیع کریں اور اہل بیت اطہار علیہ السلام کی نمایاں شخصیات جیسے حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی زندگی کے مختلف گوشوں پر تحقیق کریں اور عوام الناس کو ان کی اعلٰی تعلیمات سے روشناس کرائیں۔/۹۸۹/ف۹۴۰/

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬