‫‫کیٹیگری‬ :
30 December 2016 - 17:45
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 425382
فونت
آیت اللہ محمد علی موحدی کرمانی:
ایران کے دار الحکومت تہران کے امام جمعہ نے اس ھفتہ نماز جمعہ کے خطبے میں یہ کہتے ہوئے کہ داخلی توانائیوں پر اعتماد کے ذریعہ مشکلات پر غلبہ پایا جاسکتا ہے کہا: امریکا عھد شکن ، وعدہ خلاف اور ناقابل اعتماد ہے ۔
آیت اللہ موحدی کرمانی

 

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے دار الحکومت تہران کے امام جمعہ آیت اللہ محمد علی موحدی کرمانی نے اس ھفتہ نماز جمعہ کے خطبے میں یوم اللہ ۹ دی شمسی ھجری مطابق ۲۹ دسمبر عیسوی کی جانب اشارہ کیا اور کہا: یہ دن قوم و ولایت کے درمیان تجدید پیمان، ولی امر مسلمین کے محور پر قومی اتحاد، عالمی سامراجیت اور ان کے غلاموں کی امیدوں پر پانی پھیرنے، دھوکہ کھائے افراد کی اصلاح، قوم کی قران و اسلامی اقداروں سے وفاداری اور انقلاب اسلامی سے حمایت کا دن ہے ۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ سبھی نے ۹ دی ۱۳۸۸ شمسی ھجری مطابق ۲۹ دسمبر ۲۰۰۹عیسوی کے مظاھرے میں بھر پور شرکت کرکے یہ ثابت کردیا کہ قوم خطر شناس ہے اور خطرات کو دور کرنے میں فیصلے کرنے کی توانائی رکھتی ہے کہا: سن ۲۰۰۹عیسوی کے فتنے میں بیرونی دشمنوں کو یہ امید بندھ گئی تھی کہ وہ انقلاب اسلامی کو بیچ سے ہٹانے میں کامیاب ہوجائیں گے نیز قدرت طلب داخلی افراد بھی مغرور ہوگئے تھے اور صدر جمھوریہ الیکشن میں دھاندھلی کا نارہ لگانے لگے تھے اور اسے بہانہ بنا کر آٹھ ماہ تک ملک میں فسادات اور وحشی گری میں مصروف رہے ۔

تہران کے امام جمعہ نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ آٹھ ماہ تک قوم نے صبر و تحمل سے کام لیا اور آخر رھبر معظم کی اطاعت میں سڑکوں پر نکل آئی اور فتنہ کی بھڑکتی آگ پر سرد پانی ڈال کر اسے خاموش کردیا ، قوم نے دشمن شناسی ، بیداری ، آگاھی ، صحیح فیصلہ اور بر وقت حاضر ہوکر اپنی بیداری اور بصیرت کے معنی کو جامعہ عمل پہنایا ۔

داخلی فتنہ بیرونی جنگ سے کہیں زیادہ خطرناک ہے  

انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ ۹ دی ۱۳۸۸ شمسی ھجری مطابق ۲۹ دسمبر ۲۰۰۹عیسوی کے مظاھرے میں سران فتنہ کے پروپگنڈے کا دھوکہ کھائے ہوئے کافی افراد بیدار ہوگئے اور انہوں نے سران کے فتنہ مردہ باد کا نارہ لگایا کہا: افسوس ان لوگوں نے فتنہ برپا کیا جن کا انقلاب اسلامی کی پیروزی میں کافی کردار رہا ہے ، اور یہی وہ بات تھی جس کی بناء پر سادح لوح افراد دھوکہ کھا گئے ، اسی لئے کہا جاتا ہے کہ فتنہ بیرونی جنگ سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتا ہے ۔

آیت الله موحدی کرمانی نے مزید کہا: کیا سران فتنہ دشمن کے پروپگنڈے کو نہیں سن رہے تھے ، کیا وہ نہیں دیکھ رہے تھے کہ آمریکا ، اسرائیل اور خیانت کار انگلینڈ قوم کو سڑکوں پر نکلنے کی دعوت دے رہے اور انہیں بغاوت کے لئے ورغلا رہے ہیں ۔

انہوں نے بیان کیا: معمولا فتنہ کی دور میں حق اور باطل مخلوط ہوجاتے ہیں  ، فتنہ پرور لوگوں کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے حق نمائی سے کام لیتے ہیں مگر سن ۲۰۰۹ کے فتنے میں کہیں بھی حق نہیں تھا جو کچھ بھی تھا سب کا سب باطل ہی تھا ، اس حوالے سے فتنہ گر اپنے مذموم مقاصد تک نہ پہونچ پائے اور انہیں منھ کی کھانی پڑی ۔

تہران کے امام جمعہ نے رھبر معظم انقلاب اسلامی کے مورد تاکید امر بصیرت پر زور دیا اور کہا: بصیرت کے فقدان نے ایک مدت تک وحدانیت پرست بنی اسرائیل کو بت پرستی پر مجبور کردیا اور سامری کے ہاتھوں انہیں گمراہ کردیا ، جنگ جمل ، صفین اور نھروان بھی فتنہ پروروں کی بنیاد پر ہی واقع ہوئی تھی ۔

حکمراں ، امریکی حکام کے دھوکہ میں نہ آئیں

آیت الله موحدی کرمانی نے اپنے بیان کے دوسرے حصے میں امریکا کی بد عھدیوں کی جانب اشارہ کیا اور کہا: برجام کے سلسلے میں رھبر معظم انقلاب اسلامی کی باتوں پر دھیان نہیں دیا گیا جبکہ اپ نے مکرر یہ فرمایا تھا کہ امریکا بد عھد اور پیمان شکن ہے ، امریکا دشمن ہے اور دشمن پر اعتماد مناسب نہیں ہے ، وہ دھوکہ دھڑی سے کام لیتا ہے اور عھد شکنی کرتا ہے ۔

انہوں نے برجام میں امریکا کی عھد شکنی کو ایران حکام کے لئے درس عبرت بتاتے ہوئے بعض ذمہ داروں کی جانب معذرت خواھی کئے جانے اور اس بات کے کہے جانے کی جانب کہ ہم امریکن وزیر خارجہ کے دھوکہ میں آگئے کہا: انشاء اللہ اب ہمارے ملک میں کوئی ایسا حکمراں نہ ہوگا جو امریکا کا دھوکہ کھا سکے اور امید ہے کہ اب کوئی ایسا حکمراں نہ بچا ہو جو امریکا سے لو لگائے ہو ۔

تہران کے امام جمعہ نے واضح طور سے کہا: ضروری ہے کہ ملک کی داخلی توانائیوں پر اعتماد کیا جائے، ہمارے با صلاحیت اور با استعداد جوان کیوں بے کار ہیں جب کہ ہم ان توانائیوں سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے اقتصادی مسائل کو حل کر سکتے ہیں ۔

آیت الله موحدی کرمانی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ خداوند متعال نے قران کریم میں فرمایا ہے کہ اگر شکر گزار رہوگے تو تمہاری نعمتوں اور قدرت میں اضافہ کریں گے اور کفر اختیار کرو گے تو سخت عذاب الھی سے دوچار ہوگے کہا: ایرانی حکام اس آیت الھی کو بخوبی سنے اور سمجھیں تاکہ خدا ناخواستہ شکر الھی کے بدلے کفر نہ کریں اور آگاہ رہیں کہ اس عھدے اور منصب کا شکر یہ ہے کہ مظلوموں ، فقیروں اور ناتوانوں کی داد رسی کریں ۔

آل سعود اور آل خلیفہ کا زوال قریب ہے

انہوں نے بحرینوں اور یمنیوں کی مظلومیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے آل سعود اور آل خلیفہ کے ہاتھوں اس ملک کے شیعوں پر پانی بند کئے جانے، گولیاں چلائے جانے ، بچے و بوڑھے  اور مرد و زن کو تہ تیغ کئے جانے کی شدید مذمت کی اور کہا: قاتلین اور خدا فراموش آگاہ رہیں کہ حکومت کفر سے باقی رہ سکتی ہے مگر ظلم کی بنیادوں پر استوار نہیں رہ سکتی ، اب بھی ان حکومتوں کے بیدار ہونے کا موقع ہے کہ بیدار ہو جائیں ۔  

تہران کے امام جمعہ نے یہ کہتے ہوئے کہ علاقے کی ظالم اور جارح حکومتوں کو یہ جان لینا چاہئے کہ اگر وہ اسی طرح سے شام، عراق، بحرین اور یمن میں اپنی وحشیانہ کارروائیاں اور حملے جاری رکھیں گی اور اپنا موقف تبدیل نہیں کریں گی تو یقینی طور پر وہ تباہ و برباد ہو جائیں گی شام کے شہر حلب میں شامی فوج اور استقامتی محاذ کی کامیابی کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا: دہشت گردوں کے قبضے سے حلب شہر کی آزادی صرف ایک فوجی کامیابی نہیں ہے بلکہ باطل پر حق کی فتح اور دہشت گردوں کے عربی اور مغربی حامیوں کی بڑی ذلت و رسوائی ہے ۔/۹۸۸/ ن۹۳۰/ ک۱۱۴۷

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬